بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ کار سامنے آگیا

datetime 25  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے بجلی کے مستحق صارفین کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا ہے،

جس کے تحت بجلی کے بل پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹریشن اور تصدیق ممکن ہوگی۔تفصیلات کے مطابق حکومتِ پنجاب نے وفاقی ’کراس سبسڈی پروگرام 2026‘ کے تحت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں پر خصوصی کیو آر کوڈ شامل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سبسڈی صرف حقیقی مستحق اور کم آمدن والے گھرانوں تک پہنچے۔حکام کے مطابق اس نئے طریقہ کار سے ایک ہی گھر میں متعدد میٹرز کے ذریعے غیر ضروری سبسڈی حاصل کرنے کے رجحان پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ یہ سہولت خصوصاً بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستفید افراد، دیہاڑی دار طبقے اور کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کروائی گئی ہے۔صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بجلی کے بل پر درج کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے سرکاری پورٹل تک رسائی حاصل کریں۔ اس کے بعد 14 ہندسوں پر مشتمل ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ نمبر درج کر کے ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) کے ذریعے تصدیق مکمل کی جا سکے گی۔حکومت نے ان افراد کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے ہیں جو اسمارٹ فون استعمال نہیں کرتے یا ڈیجیٹل طریقہ کار سے واقف نہیں۔

ضلعی انتظامیہ اور یونین کونسلز کی سطح پر ہیلپ ڈیسک اور معاونتی کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ رجسٹریشن میں عوام کی رہنمائی کی جا سکے۔حکام نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بجلی کے بل پر درج نام اور شناختی کارڈ کی معلومات درست اور ہم آہنگ ہوں تاکہ سبسڈی کے حصول میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔مزید یہ کہ اگر کوئی صارف کیو آر کوڈ اسکین نہ کر سکے تو وہ حکومت کے آفیشل کراس سبسڈی پورٹل پر جا کر براہِ راست اپنی معلومات درج کر کے رجسٹریشن بھی مکمل کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…