بدھ‬‮ ، 13 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

datetime 14  مئی‬‮  2026
یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر چارلس ولیم کے ویٹنگ روم میںبوڑھے میاں بیوی بیٹھے تھے‘ یہ دونوں شکل اور حلیے سے مفلوک الحال‘ بیمار اور شکستہ دل دکھائی دیتے تھے‘چارلس ولیم کی سیکرٹری نے بتایا ’’یہ بوڑھے کئی دنوں سے آ رہے ہیں‘ یہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘ میں نے ملاقات کی وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن ان کا اصرار ہے یہ وجہ صرف آپ ہی کو بتائیں گے ‘‘چارلس ولیم نے دفتر کے شیشے سے بوڑھے جوڑے کو دیکھا اور انکار میں سر ہلا دیا۔ سیکرٹری واپس مڑی لیکن وہ ابھی دروازے تک پہنچی تھی کہ صدرنے آہستہ سے کہا ’’انہیں بھجوا دو مگر انہیں بتا دینا میرے پاس صرف پانچ منٹ ہیں‘‘ سیکرٹری نے شکریہ ادا کیا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی‘ تیس سیکنڈ بعد ادھیڑ عمر جوڑا ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے سامنے بیٹھا تھا‘ بوڑھے نے کپکپاتی آواز میں عرض کیا ’’ہم آپ کے کالج کو ڈونیشن دینا چاہتے ہیں‘‘ بڑھاپے کی وجہ سے بوڑھے کے پھیپھڑے قابو میں نہیں تھے۔ چارلس ولیم نے مسکرا کردونوں کے کپڑوں‘ حلیے اور میلے کچیلے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور طنزیہ لہجے میں بولا ’’ڈونیشن کتنا؟‘‘ بوڑھے نے بڑھیا کی طرف دیکھا‘ بڑھیا صدرسے بولی ’’ایک ملین‘ دوملین‘ تین ملین حتیٰ کہ 10ملین ڈالرز‘ جتنا آپ چاہیں‘‘ رقم کی مالیت سن کر سربراہ کا طنز مذاق میں بدل گیااور اس نے پوچھا ’’مگر اس ڈونیشن کے بدلے ہمیں کیا کرنا ہو گا‘‘ بوڑھے نے ایک لمحہ سوچا اور بولا ’’ہمارا بیٹا ٹائیفائیڈ کی وجہ سے جوانی میں مر گیا تھا‘ ہماری خواہش ہے آپ اپنا کوئی سکول اس کے نام منسوب کر دیں‘‘ چارلس نے قہقہہ لگایا‘ گھڑی کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے بولا ’’میرے معزز مہمانوں کا وقت ختم ہو گیاہے‘ یہ ہمارے لیے ممکن نہیں‘ آپ اپنی پیش کش کے ساتھ واپس جا سکتے ہیں‘‘ یہ سن کر بوڑھے اور بڑھیا کا رنگ غصے سے سرخ ہو گیا‘ وہ دونوں کھڑے ہوئے اور انہوں نے چارلس سے پوچھا ’’ہارورڈ جیسی یونیورسٹی بنانے کے لیے کتنا سرمایہ درکار ہوتا ہے؟‘‘ سربراہ نے فلک شگاف قہقہہ لگایا اور بولا ’’دنیا کے تمام پاگلوں کا سرمایہ جمع کر لیا جائے تو بھی اس یونیورسٹی کا ایک بلاک نہیں بن سکتا‘‘ دونوں میاں بیوی نے سلام کیا اور چپ چاپ باہر نکل گئے۔ چارلس ولیم ان دونوں کو نہیں جانتا تھا‘ یہ بوڑھا کیلیفورنیا کا بہت بڑا جاگیردار اور تاجر تھا‘اس کا نام
لی لینڈ سٹین فورڈ اور اس کے ساتھ اس کی بیوی جین سٹین فورڈ تھی۔ لی لینڈ سٹین فورڈکاامریکا میں ریلوے لائن بچھانے والے چند بڑے بزنس مینوں میں شمارہوتا تھا‘ اس نے اس کاروبار میں کروڑ ڈالر کمائے تھے‘ یہ کیلیفورنیا کا گورنر بھی رہا تھااور اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا لیکن ان دونوں کے دلوں پر اپنے بیٹے لی لینڈ سٹین فورڈ جونیئر کی موت کا داغ تھااور یہ داغ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا جا رہا تھا‘ بیٹے کی جدائی نے انہیں بے حال کردیا تھا‘ یہ دونوں مربعوں پر پھیلے محل میں بے چین اور بے سکون زندگی گزار رہے تھے‘ ان حالات میں انہوں نے سوچا یہ اپنے بیٹے کے نام سے ویلفیئر کا کوئی ایسا ادارہ بنائیں جس سے ان اور ان کے بیٹے کی روح کو قرار آ جائے چناںچہ دونوں میاں بیوی نے اپنی آدھی دولت ہارورڈ یونیورسٹی کو دینے کا فیصلہ کیا تا کہ اس دولت سے امریکا کے غریب طالب علم تعلیم حاصل کر سکیں اور اس سے ان کی بے چین روحوں کو قرار آ جائے مگر یہ لوگ ہارورڈ یونیورسٹی سے ناکام لوٹے ۔ یہ دونوں میاں بیوی جب ہارورڈ یونیورسٹی کی سیڑھیاں اتر رہے تھے توانہوں نے اپنی ساری زمین جائیداد بیچ کر ہارورڈ جتنی بڑی یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ دونوں اپنی جاگیر پر گئے اور کام شروع کر دیا۔ ان کا یہ خواب 11نومبر 1885ء کو پورا ہوگیا‘ اس دن یونیورسٹی کے پہلے بورڈ آف ٹرسٹیز کی میٹنگ ہوئی‘ سٹین فورڈ نے گرانٹ کا پہلا چیک اور اپنی جاگیر کے کاغذات بورڈکوپیش کیے‘ بورڈ نے یونیورسٹی کو ان کے بیٹے سٹینفورڈ جونیئر کے نام سے منسوب کیا اور یوں دنیا کی نامور یونیورسٹی سٹین فورڈ معرض وجود میں آئی‘ اس یونیورسٹی کا سنگ بنیاد 14مئی 1887ء کو رکھا گیا اور یہ طالب علموں کے لیے یکم اکتوبر 1891ء کو کھولی گئی‘ اس کے پہلے بیج میں 559طالب علموں نے داخلہ لیاتھا‘ یونیورسٹی نے ان تمام طالب علموں کو مفت تعلیم دی تھی‘ یہ دنیا کی پہلی یونیورسٹی تھی جس میں کو ایجوکیشن (مخلوط تعلیم) کا پہلا سکول بنایا گیا تھا‘ یہ یونیورسٹی آٹھ ہزار ایک سو 80ایکڑ پر محیط ہے‘ اس کا رقبہ 36مربع کلومیٹر بنتا ہے اور یہ اس وقت دنیا کی تیسری بہترین یونیورسٹی ہے۔ اس میں سات ہزار نو سو انڈر گریجوایٹ جب کہ ساڑے نو ہزار گریجوایٹ طلباء و طالبات پڑھ رہے ہیںاور اس میں دو ہزار چار سو پروفیسر‘ لیکچرار اور استاد ہیں جن میں 36 نوبل انعام یافتہ اور 33میک آرتھر فیلوز ہیں اور اس کا موٹو ہے ’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘۔ سٹین فورڈ یونیورسٹی کا ایک سکول لی لینڈ سٹین فورڈ کے گھوڑوں کے فارم کی جگہ بنایا گیا تھا‘ یہ سکول اس فارم کی مناسب سے ’’دی فارم‘‘ کہلاتا ہے‘ یونیورسٹی کا کمپس سٹین فورڈ کی جاگیر‘ فارم ہائوسز‘ محلات‘ گیسٹ ہائوسز اور دفاتر نگل گیا لیکن سٹین فورڈ کو ایک ایسا نام دے گیا جو اس کائنات کی آخری شام تک زندہ رہے گا۔ دنیا میں دولت‘ زمین‘ جائیداد اور روپے پیسے سے زیادہ بے وفا چیز کوئی نہیں ہوتی‘ انسان اپنے خون کا آخری قطرہ تک جلا کر دولت جمع کرتا ہے‘ یہ دولت کے لیے سینکڑوں‘ ہزاروں لوگوں کو قتل تک کر دیتاہے‘ دولت کے لیے قانون‘ ضابطے‘ روایات اور آئین تک توڑ دیتا ہے اور یہ اس کے لیے اپنے ضمیر‘ اپنے مذہب اور اپنے احساس تک کو پھانسی چڑھا دیتا ہے لیکن جب اسے دولت ملتی ہے تو پھر مکافات کا عمل شروع ہوجاتا ہے ‘ انسان اپنی آنکھوں سے اپنے خزانوں کو اجڑتا‘ بکھرتا اور برباد ہوتا دیکھتا ہے اور جونہی اس کی آنکھ بند ہوتی ہے اس کی زمین‘ جائیداد اور دولت خاک بن کر اس کے نام‘ شہرت اور کارناموں کو ڈھانپ لیتی ہے لیکن سٹین فورڈ جیسے وہ لوگ جو اپنی دولت‘ زمین اور اپنی جائیداد کو انسانی فلاح میں لگا دیتے ہیں‘ یہ اسے صدقہ جاریہ بنا دیتے ہیں‘ ان کی قبریں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں‘ ان کے نام ہمیشہ تابندہ رہتے ہیں۔ اگرلی لینڈ سٹین فورڈ اور جین سٹین فورڈ نے 1882ء میں اپنی دولت سے یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا تو ان کے انتقال کے بعد ان کے عزیز رشتے داران کی جائیداد آپس میں تقسیم کر لیتے‘ ان کے فارم اور گھوڑے بازار میں بک چکے ہوتے اور آج یہ جاگیر ایک ایک کنال کے چھوٹے چھوٹے پلاٹس میں منقسم ہو چکی ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ہدایت دی‘ یہ لوگ آگے بڑھے اور انہوںنے وقت کی دائمی چٹان پر اپنا نام ہمیشہ ہمیشہ کمے لیے رقم کر دیامگر آپ ان کے مقابلے میں اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھیں‘ آپ خلیفہ عبداملک بن مروان سے ترکی کے آخری سلطان عبدالحمید دوم تک تمام مسلمان بادشاہوں کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ ہندوستان کے سلطان محمود غزنوی سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک تمام حکمرانوں کی ہسٹری دیکھیے‘ یہ تمام لوگ تاریخ کے حافظے سے محو ہو گئے ہیں؟ کیوں؟ کیوںکہ ان میں سے کسی نے سٹین فورڈ بننے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ اسلامی تاریخ کا سنہری دورقرطبہ کا عہد تھا‘ اس دور کو اس لیے سنہری کہا جاتا تھا کہ اس میں یونیورسٹیاں‘ کتب خانے‘ لیبارٹریاں‘ رصد گاہیں‘ فلاسفر اور امام تھے لیکن جب یہ رصد گاہیں‘ لیبارٹریاں‘ کتب خانے اور یونیورسٹیاں اجڑیں تو ساتھ ہی قرطبہ کی تہذیب بھی بیوہ ہو گئی چناںچہ آج ہمارے پاس اس بیوہ کی سسکیوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ کاش ہمارے بادشاہوں نے تاج محل‘ شیش محل اور لال قلعوں کی جگہ سٹین فورڈ جیسی یونیورسٹیاں بنائی ہوتیں‘ کاش ترکی کے سلطانوں اور بغداد کے خلفاء نے حرم اور محلوں کی جگہ ہارورڈ جیسی درس گاہ بنائی ہوتی تو ہم آج یوں اپنی ہی شکست کا نوحہ نہ ہوتے‘آج اکبر اعظم اور شاہ جہاں یونیورسٹی کی شکل میںہمارے بادشاہ بھی زندہ ہوتے اور ہم بھی ۔ ہمارے ملک میں بھی اس وقت ایسے سینکڑوں لوگ موجود ہیں جو اربوں کھربوں روپے کما رہے ہیں لیکن ان میں سے کوئی سٹین فورڈ بننے کے لیے تیار نہیں۔ ان میں سے کون ہے جو 32مربع کلومیٹر پر محیط یونیورسٹی کی بنیاد رکھے اور اپنی ساری دولت‘ زمین جائیداد اور جاگیر اس یونیورسٹی کے نام وقف کر دے۔ یہ سب آزادی مانگتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی نہیں جو سٹین فورڈ کی طرح یہ اعلان کر سکے ’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘ آئو اس ہوا میں شامل ہو جائو‘‘ یہ سب لوگ قارون کے بھائی ہیںاوریہ اتنا بھی نہیں جانتے جو دولت قارون کا ساتھ نہیں دے سکی یہ ان کا ساتھ کہاں تک نبھائے گی۔ انسان کو مرنے کے بعد اس کی دولت نہیں بلکہ اس کی خدمت زندہ رکھتی ہے ‘ انہیں یونیورسٹیاں‘ ہسپتال اور یتیم خانے زندہ رکھتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…