گریٹ گیم (آخری حصہ)
میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت گوش گزار کرنا چاہتا ہوں‘ دنیا میں اس وقت دو جنتیں اور دو معاشی طاقتیں ہیں‘ معاشی طاقتیں امریکا اور چین ہیں جب کہ جنتیں سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ ہیں‘ یہ چاروں معاشی اور سماجی سپر پاورز ہیں اور ان کے اس کمال کی وجہ جنگوں سے دوری ہے‘ سوئٹزر لینڈ نے آخری بار 1793ء میں نپولین کے ساتھ جنگ لڑی تھی‘
نپولین نے انہیں فتح بھی کر لیا تھا لیکن سوئٹزرلینڈ نے نپولین کے زوال کے ساتھ ہی 1815ء میں فیصلہ کیا ہم آئندہ دنیا کے کسی تنازعے اور جنگ میں شریک نہیں ہوں گے‘ ہم نیوٹرل رہیں گے چناں چہ آج دو سو گیارہ سال گزرنے کے باوجود سوئٹزرلینڈ کسی عالمی تنازع میں شامل ہوا اور نہ کوئی جنگ لڑی‘ یہ جنگ عظیم اول اور دوم میں بھی نیوٹرل رہا شاید یہی وجہ ہے سوئٹزرلینڈ میں اڑھائی سو سال پرانے سکول اور کالجز ہیں اور عالمی جنگوں کے دوران بھی متحارب ملکوں کے سربراہوں اور ارب پتیوں کے بچے ان سکولوں میں پڑھتے رہے‘ آج بھی دنیا کا سب سے مہنگا سکول سوئٹزرلینڈ میں ہے‘ اس کے دو کیمپس ہیں اور ایک بچے کی سالانہ فیس پانچ کروڑ روپے ہوتی ہے‘ دنیا کے سب سے محفوظ بینک بھی اسی ملک میں ہیں اور لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ کے زیادہ تر دفاتر بھی سوئٹزرلینڈ میں ہیں۔ نیوزی لینڈ بھی جنگوں سے پاک ملک ہے‘ اس میں آخری جنگ 1845ء سے 1872ء کے درمیان لڑی گئی‘ یہ برطانوی فوجیوں اور موری قبائل کے درمیان جھڑپیں تھیں‘ اس کے بعد 1916ء میں ہلکی پھلکی جھڑپیں ہوئیں‘ اس کے بعد 1979ء میں آک لینڈ یونیورسٹی میں ہاکا پارٹی کا واقعہ پیش آیا‘ یہ چھوٹی سی لڑائی تھی جو صرف تین منٹ جاری رہی اور اسے ’’دی تھری منٹ وار‘‘ کہا جاتا ہے چناں چہ نیوزی لینڈ بھی زمین پر جنت کی حیثیت رکھتا ہے‘ آپ کبھی سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ جا کر دیکھیں آپ جوں جوں بڑے شہروں سے نکلتے اور دیہات کی طرف بڑھتے جائیں گے آپ خود کو جنت میں محسوس کرتے جائیں گے اور اس کا سارا کریڈٹ جنگوں سے پرہیز کو جاتا ہے‘ یہ دونوں ملک اگر آج کسی تنازع یا جنگ میں شریک ہو جائیں تو ان کی جنت کو جہنم بنتے دیر نہیں لگے گی۔ چین اور امریکا بھی اس لیے سپرپاور ہیں کہ دونوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعدکسی جنگ کو
اپنے ملک میں داخل نہیںہونے دیا‘ چین اس معاملے میں امریکا سے بھی آگے ہے‘ یہ کسی تنازع میں بھی نہیں پڑا‘ اس نے اپنی سرحدوں سے نکل کر کسی ملک پر حملہ نہیں کیا‘ امریکا میں نائین الیون کا واقعہ پیش آیا لیکن آپ اس کا کمال دیکھیے‘ اس نے اس کے بعد اس نوعیت کا کوئی دوسرا واقعہ نہیں ہونے دیا لہٰذا جس دن جنگ امریکا یا چین کے اندر داخل ہو جائے گی اس دن یہ دونوں ملک معاشی طاقت نہیں رہیں گے جب کہ اس کے مقابلے میں جنگوں نے سوویت یونین کو توڑ کر رکھ دیا‘ روس کی معاشی طاقت بھی جنگوں اور تنازعوں کی وجہ سے دن بہ دن کم زور ہوتی چلی جا رہی ہے چناں چہ اگر کوئی ملک معاشی یا سماجی لحاظ سے ترقی کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے جنگوں اور تنازعوں سے نکلنا ہوگا‘ یہ نسل انسانی کی تاریخ کا پانچواں بڑا سبق ہے۔
ہم اب آتے ہیں تیل اور رئیرارتھ منرلز کی گریٹ گیم کی طرف۔ امریکا یہ دونوں طاقتیں اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ کی خواہش ہے یہ مئی میں جب چین کے صدر شی جن پھنگ سے ملاقات کریں تورئیر ارتھ منرلز یا تیل میں سے کوئی ایک کارڈ ان کے ہاتھ میں ہو‘ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اس کے لیے دو آپشن ہیں‘ یہ چین کے دورے سے قبل ایران کے ساتھ معاہدہ کر لے‘ اس سے پابندیاں اٹھا کر اسے اپنا دوست بنا لے اور وینزویلا کی طرح ایرانی تیل اور گیس بھی امریکی کمپنیوں کے حوالے کر دے‘ ایران کو اس میں دو فائدے ہیں‘ یہ 47 سال بعد عالمی معاشی دھارے میں شامل ہو جائے گا‘ اس کا تیل اور گیس مہنگے داموں بکیں گے اور یہ پوری دنیا کے لیے کھل جائے گا‘ دوم ایران میں استحکام آ جائے گا‘ یہ جنگ کے زمانوں سے باہر آ جائے گا اور واپس ترقی کی شاہراہ پر آ جائے گا لیکن اگر ایران نہیں مانتا تو پھر ٹرمپ کے پاس پوٹس ڈیم کانفرنس (Potsdam Conference) کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا‘ دوسری جنگ عظیم کے آخر میں جرمنی کے شہر پوٹس ڈیم میں امریکی صدر ہنری ایس ٹرومین‘ برطانیہ کے وزیراعظم سرونسٹن چرچل اور سوویت یونین کے صدر جوزف سٹالن کے درمیان طویل ملاقات ہوئی‘ یہ مذاکرات 17 جولائی سے 2 اگست 1945ء تک چلتے رہے‘ پوٹس ڈیم ڈکلیئریشن 26 جولائی 1945ء کو سامنے آیا تھا جس میں اس زمانے کی تینوں سپرپاورز نے جاپان کو سرینڈر یا خوف ناک تباہی دونوں میں سے کسی ایک راستے کا آپشن دیا تھا‘ اسی میٹنگ کے دوران 24 جولائی کو امریکی صدر ہنری ٹرومین نے برطانیہ اور سوویت یونین کی لیڈر شپ کو بتایا ہم نے 16 جولائی کو ایٹم بم کا کام یاب تجربہ کر لیا ہے اگر جاپان نہیں مانتا تو پھر ہم اس پر یہ بم برسا دیں گے‘ جوزف سٹالن کا جواب تھا ’’مجھے امید ہے آپ اس کا جاپان پر بہتر استعمال کریں گے
I hope you would make ''Good use'' of it against Japan))
پوٹس ڈیم ڈکلیئریشن 26 جولائی کو آیا‘ جاپان کے وزیراعظم کانتروسوزوکی نے موکو ساٹسو (Mokusatsu) کہہ کر 28 جولائی کو اسے مسترد کر دیا اور یوں امریکا نے 6 اگست 1945ء کو ہیروشیما اور 9 اگست کو ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیے جس کے بعد جاپان مکمل سرینڈر پر مجبور ہوگیا۔ امریکا اور اتحادی اس سے قبل جاپان کو بہت اچھی ڈیل دے رہے تھے‘ یہ ان کے ساتھ بیٹھ کر معاملات سیٹل کرنا چاہتے تھے‘ جاپانی فوجیں اس وقت تک مشرق بعید کے بے شمار علاقوں پر قابض ہو چکی تھیں‘ اتحادی یہ علاقے جاپان کے حوالے کرنے کے لیے تیار تھے لیکن وہاں اس وقت دو حکومتیں تھیں‘سیاسی حکومت اور فوجی حکومت‘ سیاست دان مذاکرات کے ذریعے جنگ سے نکلنا چاہتے تھے لیکن فوج آخری جوان اور آخری گولی تک لڑنا چاہتی تھی‘ اس تقسیم کا یہ نتیجہ نکلا 15 اگست 1945ء کو جاپان کو سرینڈربھی کرنا پڑا اور اس کی فوج‘ نیوی اور ائیرفورس بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور یہ امریکا کی دفاعی چھتری کے نیچے آ گیا‘ جاپان آج بھی ہر سال امریکا کو ’’حفاظت‘‘ کے نام پر دس بلین ڈالر ادا کرتا ہے لہٰذا مجھے خطرہ ہے اگر ایران نے ڈونلڈٹرمپ کے چین کے وزٹ سے قبل امریکا کی ڈیل قبول نہ کی یا پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سیریس نہ لیا تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کر کے صدر شی جن پھنگ سے ملاقات کرے گا‘ یہ کم زور پوزیشن کے ساتھ چین نہیں جائے گا اور اگر خدانخواستہ یہ سانحہ ہو گیا تو پورا مڈل ایسٹ ہیروشیما اور ناگاساکی بن جائے گا‘ امریکا ایران کو تباہ کر دے گا اور ایران خلیجی ریاستوں کو تباہ کر دے گا جس کے بعد تیل اور گیس کا بڑا سورس چین کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور یہ امریکا سے تیل خریدنے پر مجبور ہو جائے گا اور یوں ’’رئیرارتھ منرلز دے دو اور تیل لے جائو‘‘ کی ڈیل شروع ہو جائے گی۔
مشرق وسطیٰ میں اس وقت دو جنگیں چل رہی ہیں‘ امریکا اور چین قدرتی وسائل کے لیے یہاں موجود ہیں‘ اگر مڈل ایسٹ میں تیل‘ گیس اور رئیرارتھ منرلز نہ ہوتیں تو دونوں سپرپاورز اس طرف مڑ کر بھی نہ دیکھتیں‘ یہ تیل‘ گیس اور رئیرارتھ منرلز ہیں جن کی وجہ سے امریکا 80 سال سے خلیجی ریاستوں میں بیٹھا ہے اور اب بھاری فوجی سازوسامان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ناکے پر پھندا لگائے ہوئے ہے‘ چین بھی انہیں قدرتی وسائل کی وجہ سے مڈل ایسٹ کی طرف متوجہ ہے‘ ہم بچپن سے سن رہے ہیں روس افغانستان اور پاکستان کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے‘ یہ گرم پانی‘ گرم پانی نہیں تھا‘ یہ گرم تیل تھا‘ سوویت یونین افغانستان اور اس کے بعد کے پی اور بلوچستان کو پاکستان سے توڑ کر خلیج فارس تک پہنچنا چاہتا تھا تاکہ یہ بھی عربوں کے تیل اور گیس تک رسائی حاصل کر سکے اور اگر سوویت یونین کام یاب ہو جاتا تو پھر دنیا کا نوے فیصد تیل اور گیس اس کے ہاتھ میں ہوتا اور یوں یہ سب کو بلیک میل کرتا‘ یہاں یہ نقطہ بھی اہم ہے خلیج فارس میں صرف آئل‘گیس اور رئیرارتھ منرلز کی گیم نہیں چل رہی یہاں مذہب کی گریٹ گیم بھی ہے‘ آدمیت نے خلیج فارس سے جنم لیا تھا‘ ہابیل اور قابیل کی لڑائی بھی یہیں ہوئی تھی‘ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم ؑ کا تعلق بھی اسی خطے سے تھا‘ دنیا کی قدیم ترین سولائزیشنز نے بھی اسی علاقے میں جنم لیا تھا اور یہ اسی سرزمین پر پیوند خاک ہوئی تھیں‘ دنیا کے تینوں مذاہب یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام بھی اسی میں پنپے اور یہ ہزاروں سال اسی خطے میں ہچکولے کھاتے رہے اور اب ’’اینڈ آف دی ٹائم‘‘ یا کل یوگ کا اختتام بھی اسی خطے میں ہو گا‘ یہودیوں‘ مسیحیوں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے آخری مسیحا آئے گا اور آخری جنگ ہو گی اور اس کے بعد قیامت آ جائے گی‘ مسلمان اس جنگ کو ملحمہ الکبریٰ جب کہ یہودی اور مسیحی اسے آرماگیڈون (Armageddon) کہتے ہیں‘ اسلامی روایات کے مطابق یہ جنگ مسلمانوں اور مغربی طاقتوں کے درمیان فلسطین (شام) کے علاقے الگوتھا (Al Ghutah) میں ہو گی‘ مسلمانوں کی طرف سے امام مہدی اس کی قیادت فرمائیں گے جب کہ دوسری طرف دجال کی فوجیں ہوں گی‘ دجال یہودیوں سے ہوگا‘ حضرت عیسیٰ ؑ کا ظہور بھی اسی جنگ کے دوران ہو گا‘ زمین پر بے انتہا خون بہے گا جس کے آخر میں مسلمان فتح یاب ہو جائیں گے‘ حضرت عیسیٰ ؑ فطری زندگی گزار کر وصال فرمائیں گے‘ مسجد نبویؐ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدفون ہوں گے اور اس کے بعد قیامت آ جائے گی یوں وہ لڑائی جس کی ابتدا قابیل کے ہاتھوں ہابیل کے قتل سے ہوئی تھی وہ عین اسی جگہ اختتام پذیر ہو گی جہاں پہلے انسان کا خون گرا تھا یعنی شام میں آج کے دمشق کے مضافات میں جس جگہ ہابیل کا قتل ہوا عین اسی جگہ اس قتل کا قصاص ہوگا۔
میں نے جب بائبل کی بک آف جیننس (کتاب بنیاد) کا مطالعہ شروع کیا تو پتا چلا اللہ تعالیٰ نے ہابیل کے قتل کے بعد قابیل کے جسم پر نشان لگا دیا تھا (Gensis 4:15) اس نشان کو عرف عام میں مارک آف کین کہا جاتا ہے‘ اس واقعے کے بعد بنی آدم دو حصوں میں تقسیم ہو گئے‘ ہابیل کے لوگ اور قابیل کے لوگ‘ یہ تقسیم خیر اور شر کی شکل میں بڑھتی چلی گئی‘ یہ دونوں قبیلے آخر میں شام کے میدانوں میں آمنے سامنے ہوں گے‘ قابیل کے لوگ شروع میں بنو ہابیل پر حاوی ہو جائیں گے لیکن آخر میں ہابیل کا قبیلہ فتح یاب ہو جائے گا‘ دجال کا تعلق قابیل کے قبیلے سے ہوگا جب کہ ہابیل کے لوگ مسلمانوں کی شکل میں آئیں گے‘ روایات کے مطابق امام مہدی کی پیدائش خراسان میں ہو گی اور مکہ میں دوران طواف لوگ ان کوپہچانیں گے اور یوں آخری لڑائی کو قائد مل جائے گا‘ خراسان ایران میں ہے لہٰذا ایرانی ہر جنگ کو آخری جنگ سمجھ کر لڑتے ہیں‘ مجھے محسوس ہوتا ہے ایران کا یہ خدشہ اس بار سچ ثابت ہو جائے گا چناں چہ خطرہ ہے تیل‘ گیس اور رئیرارتھ منرلز کی گریٹ گیم کہیں مذہب کی گریٹ وار نہ بن جائے‘دعا کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس انجام سے بچائے ورنہ ہم واقعی اس دنیا کی آخری نسل ثابت ہوں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گرادی
-
سرکاری دفاتر میں جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی ختم
-
تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری
-
مئی 2026 میں پاکستانیوں کو 11 چھٹیاں ملنے کا امکان ،عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
-
لاہور،سفاک ماں کے ہاتھوں تین بچوں کے قتل کا معاملہ،ملزمہ کے دوران تفتیش ہولناک انکشافات
-
سوشل میڈیا پر ترنول ریلوے پھاٹک کو ’’آبنائے ہرمز‘‘ سے تشبیہ دینا شہری کو مہنگا پڑ گیا
-
سولر لائسنسنگ بارے غلط معلومات پھیلائی گئی ہیں،نیپرا کی وضاحت
-
پنجاب میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے کسی بھی مضمون میں فیل ہونیوالے طلباء کیلیے بڑی خوشخبری
-
وزیراعظم کا بڑا فیصلہ، گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس ملیں گی
-
پاکستان میں مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
تیز ہوائوں و گرج چمک کیساتھ بارش کا الرٹ جاری
-
زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد جاں بحق
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی
-
لڑکیوں کے مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے20 طالبات زخمی، 3 کی حالت تشویشناک





















































