بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

مشہد میں دو دن

datetime 2  اپریل‬‮  2026
ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ سکردو کے رہنے والے ہیں‘ ان کے والد 32 سال قبل تعلیم کے لیے قم آئے‘ حسین باقری اس وقت آٹھ سال کا تھا‘یہ بھی والد کے ساتھ ایران آ گیا‘ مدرسے اور سکول دونوں سے تعلیم حاصل کی اور آخر میں دینی کی بجائے دنیاوی تعلیم کی طرف آ گیا‘ ایم بی اے کیا‘ ایران میں شادی کی اور سر تا پا ایرانی ہو گیا‘ ایرانیوں سے بہتر فارسی بولتا ہے اور اٹھنے بیٹھنے میں اس قدر ایرانی ہے کہ لوکل اسے غیر ایرانی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے‘ اس نے مختلف ملازمتوں کے بعد زعفران کا کاروبار شروع کر دیا‘ کاروبار چل پڑا تو اس نے اقبال فورم کے نام سے تہران میں فکری اور سفارتی فورم بنا لیا‘ اس فورم کا مقصد پاکستان اور ایران کو نزدیک لانا ہے‘ یہ2023ء میں میرا انٹرویو کرنے پاکستان آیا اور اس سے دوستی ہو گئی‘ دوستی کی کئی وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ اس کی لرننگ کی عادت ہے‘ یہ نئی سے نئی چیزیں اور عادتیں سیکھتا رہتا ہے‘ دوسرا یہ صاف ستھرا شخص ہے‘ لباس اور نشست و برخاست میں بھی مہذب ہے اور یہ وہ خوبی ہے جو عموماً پاکستانیوں میں نہیں ہوتی اور تیسری وجہ یہ معلومات کا خزانہ ہے‘ مدرسے اور نارمل تعلیم کی وجہ سے تاریخ اور معاشرت دونوں کا پروفیسر ہے چناں چہ اس کے ساتھ دوستی ہو گئی اور میں اس کی دعوت پر 7 مارچ2024ء کو ایران گیا۔ ہم نے اپنے سفر کا آغاز مشہد سے کیاتھا‘ مشہد کا لفظی مطلب شہادت گاہ یا شہید کا مقام ہوتا ہے‘یہ شہر اہل تشیع کے آٹھویں امام حضرت رضاؒ کی مناسبت سے پوری دنیا میں مشہور ہے‘ امام یہاں کیسے پہنچے اور کیسے شہید ہوئے یہ طویل اور درد ناک داستان ہے‘ خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں یہ علاقہ خراسان کہلاتا تھا‘ اس دور میں افغانستان اور پاکستان کے علاقے بھی خراسان میں شامل تھے‘ خلیفہ نے ایک رات خواب میں دیکھا دو ہاتھ اس کی طرف سرخ رنگ کی مٹی بڑھا رہے ہیں اور اس مٹی سے خاص قسم کی خوشبو آ رہی ہے‘ اسے ہاتھ جانے پہچانے محسوس ہوئے لیکن وہ انہیں شناخت نہ کر سکا‘ 809ء میں خراسان میں بغاوت ہوئی اورخلیفہ اس کی سرکوبی کے لیے بغداد سے یہاں آ گیا‘ طوس شہر میں ایک شام اسے اپنا وہ خواب یاد آیا اور اس نے اپنے غلام کو حکم دیا جاکر
صحن کی مٹی لے کر آئو‘ غلام گیا‘ زمین سے مٹی لی اور دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر بادشاہ کے حضور پیش کر دی‘ وہ ہاتھ‘ وہ مٹی اور وہ خوشبو تینوں خواب کے منظر تھے‘ ہارون الرشیدکو فوراً یاد آ گیا‘ اس نے خواب میں جو ہاتھ دیکھے تھے وہ اسی غلام کے تھے‘ بادشاہ نے ہاتھ پہچان کر پیش گوئی کی میری موت کا وقت آ گیا ہے اور میں اسی زمین میں دفن ہوں گا‘ یہ بات سچ ثابت ہوئی‘ ہارون الرشید 17 دن بعد 24 مارچ 809ء کو واقعی طوس میں فوت ہو گیا اور اسے وصیت کے مطابق طوس کے مضافات میں سن آباد کے گائوں میں دفن کر دیا گیا اور اس کی قبر پر شان دار مقبرہ بنا دیا گیا‘ ہارون الرشید کے بعد اس کا بیٹا مامون الرشید بادشاہ بن گیا‘ مامون ہارون الرشید کی ایرانی بیگم کے بطن سے تھا جب کہ اس کا دوسرا بیٹا امین الرشید عربی بیگم زبیدہ کی اولاد تھا‘ دونوں شہزادوں کے درمیان اقتدار کے لیے رسہ کشی ہوئی‘ آخر میں مامون جیت گیا‘ امام رضاؒ اس وقت مدینہ منورہ میں رہائش پذیر تھے اور پوری اسلامی دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے‘ مامون الرشید کو خطرہ محسوس ہواکہیں اس کے عربی معززین امام کے ساتھ مل کر بغاوت نہ کر دیں لہٰذا مامون نے امام کو طوس بلا لیا‘ امام نے ایلچی سے پوچھا ’’کیا میرے پاس کوئی دوسرا راستہ ہے؟‘‘ آپ کو بتایا گیا ’’جی نہیں‘آپ نے ہر صورت طوس پہنچنا ہے‘‘ امام زنان خانے میں گئے‘ اپنی ہمشیرہ سیدہ معصومہ سے ملاقات کی اور فرمایا‘ آپ مجھے آخری بار مل لیں‘ مجھے خدشہ ہے میں خراسان سے زندہ واپس نہیں آ سکوں گا‘ دونوں بہن بھائی دیر تک ایک دوسرے سے مل کر روتے رہے‘ امام اس کے بعد طوس تشریف لے آئے‘ مامون الرشید ان کا بہت احترام کرتا تھا‘ وہ ہر وقت انہیں اپنے ساتھ رکھتا تھا‘ اس نے انہیں ولی عہد بھی نامزد کر دیاتھا مگر یہ سب دکھاوا تھا‘ وہ اندر سے امام کی مقبولیت سے خائف تھا‘ اس نے امام کے نام سے سکہ بھی جاری کیا تھا جسے اہل تشیع سفر پروانہ ہونے سے قبل بازو پر باندھ لیتے تھے اور منزل پر پہنچنے کے بعد وہ سکہ بازو سے کھول کر خیرات کر دیتے تھے‘ یہ عمل ’’امام ضامن‘‘ کہلاتا تھا‘ امام نے جوانی میں کسی شکاری کو ہرن کی ضمانت دی تھی‘شکاری ہرن کو شکار کرنا چاہتا تھا‘ ہرن کا بچہ جنگل میں بھوکا تھا‘ امام وہاں سے گزر رہے تھے‘ ہرن ان کے پائوں سے لپٹ کر عرض آپ آپ مجھے شکاری سے بچے کو دودھ پلانے کی مہلت لے دیں میں بچے سے مل کر واپس آ جائوں گی‘ یہ بے شک اس کے بعد مجھے شکار کر لے‘ امام نے شکاری کو ہرن کی ضمانت دے دی‘ ہرنی گئی اور واقعی بچے کو دودھ پلا کر واپس آ گئی‘ آپ اس کے بعد ’’امام ضامن‘‘ مشہور ہو گئے‘ خلیفہ مامون الرشید نے امام کے احترام میں جو سکہ جاری کیا تھا اس پر امام اور ہرن دونوں کا نقش تھا‘ لوگ اسے اسی لیے خرید کر بطور امام ضامن بازو پر باندھتے تھے اور یہ عمل آج تک جاری اور ساری ہے‘ بہرحال چھ جون 818ء کو امام کو انگوروں میں زہر دے کر شہید کر دیا گیا‘ اہل تشیع مامون الرشید کو امام کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں‘ بہرحال قصہ مزید مختصر مامون الرشید نے امام کو اپنے والد کے ساتھ دفن کر دیا‘ اس کا خیال تھا امام کی برکت سے والد کے درجات بلند ہوں گے اور زائرین تاقیامت امام کے ساتھ ساتھ خلیفہ ہارون الرشید کے لیے دعا بھی کرتے رہیں گے لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا‘ اہل تشیع عباسیوں کے اقتدار کے خاتمے کے بعد امام کے روضے پر آتے تھے‘امام کے لیے گریہ وزاری کرتے تھے‘ واپس جاتے وقت ہارون الرشید پر تبریٰ کرتے تھے اور نفرت سے اس کی قبر کو ٹھوکریں مارتے تھے‘ ان ٹھوکروں کی وجہ سے ہارون الرشید کی قبر معدوم ہو گئی اورعمارت میں صرف امام کا روضہ بچ گیا‘ آج بھی اگر دیکھا جائے تو امام کا روضہ مرکزی گنبد سے ذرا سا ہٹ کر ہے‘ اس کی وجہ ظاہر ہے ہارون الرشید کی قبر تھی‘ خلیفہ کی قبر گنبد کے عین نیچے تھی جب کہ امام کو گنبد سے ذرا سے فاصلے پر دفن کیا گیا تھا لہٰذا عمارت کا یہ ٹیڑھا پن آج بھی محسوس ہوتاہے۔ امام کی برکت سے بعدازاں سن آباد کا گائوں مشہد بن گیا اور یہ آج ایران کا آبادی اور وسائل کے لحاظ سے دوسرا بڑا شہر ہے‘ اس کی آبادی 34لاکھ(2024ء میں) ہے جب کہ ہر سال اڑھائی کروڑ زائرین زیارت کے لیے یہاں آتے ہیں‘ مقبرے کی حفاظت اور تزئین وآرائش کے لیے امام رضا فائونڈیشن بنائی گئی تھی‘ یہ اس وقت اسلامی دنیا کی تیسری بڑی بزنس ایمپائر ہے‘ سالانہ اربوں ڈالرز کا کاروبار کرتی ہے‘ اس کی بڑی بڑی کنسٹرکشن کمپنیاں ہیں جو سرکارسے ٹھیکے لیتی ہیں اور اربوں روپے کماتی ہیں لہٰذافائونڈیشن کے ریزروز ملک کے کل اثاثوں سے زیادہ ہیں چناں چہ یہ سٹیٹ کے اندر ایک بڑی اور مضبوط سٹیٹ ہے اور سٹیٹ بھی بعض اوقات اس سے قرض لینے پر مجبور ہو جاتی ہے‘ اس کے دو لاکھ سے زیادہ ملازمین ہیں‘ فائونڈیشن اپنے منافع سے مزار کی تزئین وآرائش بھی کرتی رہتی ہے اور زائرین کی خدمت بھی‘ یہ روزانہ دو لاکھ کھانے بھی دیتی ہے جو فائیو سٹار ہوٹل سے زیادہ معیاری ہوتے ہیں اور یہ باقاعدہ ڈائننگ ہالز میں باوردی بیرے سرو کرتے ہیں‘ زائرین کھانا گھر بھی لے جا سکتے ہیں‘ طوس مشہد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘ اس میں خلیفہ ہارون الرشید کا پرانا محل ہے جسے ہارونیہ کہا جاتا ہے ‘ عربی زبان کا عظیم شاعر اور شاہ نامہ کا خالق فردوسی اور امام الغزالیؒ اسی شہر میں مدفون ہیں‘ نادر شاہ جس نے ہندوستان پر حملہ کر کے محمد شاہ رنگیلا سے تخت طائوس اور کوہ نور ہیرا ہتھیا لیا تھا اس کا مزار بھی مشہد میں امام کے روضے سے ذرا سے فاصلے پر واقع ہے۔ میں جمعرات 7 مارچ 2024ء کی دوپہر مشہد پہنچا‘ میں اور حسین باقری مشہد کی مرکزی شاہراہ امام رضا بلیو وارڈ پر درویشی ہوٹل میں ٹھہرے‘ یہ فائیو سٹار ہوٹل ہے‘ اس کا مالک سونے کا کام کرتا تھا‘ آخر میں اس نے 18منزلہ ہوٹل بنا لیا‘ 17 منزلیں ہوٹل کے لیے وقف کر دیں جب کہ 18 ویں منزل پر خاندان سمیت شفٹ ہو گیا‘مجھے یہ آئیڈیا بہت اچھا لگا‘ کاروبار کا کاروبار اور رہائش کی رہائش‘ ہوٹل روضہ مبارک سے واکنگ ڈسٹینس پر تھا‘ اس شاہراہ پر ہزار ہوٹل ہیں اور ان میں سے ننانوے فیصد امام رضا فائونڈیشن کی ملکیت ہیں‘ مشہد میں جس بھی پراپرٹی یا کاروبار پر رضوی لکھا ہو اس کا مطلب ہوتا ہے یہ بزنس یا پراپرٹی امام رضاؒ کی ملکیت ہے یا ان کے لیے وقف ہے‘ مجھے ایران کی سب سے بڑی بسکٹ فیکٹری ’’نان رضوی‘‘ جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ بھی فائونڈیشن کی ملکیت ہے اور یہ اکیلی اربوں روپے کا کاروبار کرتی ہے‘ ہم پاکستانی اس ماڈل سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے‘ ہم بھی داتا صاحب‘ امام بری اور فریدالدین گنج شکرؒکے نام سے کمپنیاں بنا ئیں‘ کمپنیاں کاروبار کریں‘ اس سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور دربار چندے جیسی بے عزتی سے بھی بچ جائیں گے‘ ہمارے اولیاء کرام اللہ کی برگزیدہ ہستیاں ہیں‘ اللہ تعالیٰ ان کی کمپنیوں میں برکت ڈالے گا اور یوں ملک میں معاشی انقلاب آ جائے گا‘ امام رضا فائونڈیشن ہمارے لیے ماڈل بن سکتی ہے‘ فائونڈیشن نے ہر قسم کے مسافر خانے‘ ہوٹل اور ریستوران بنا رکھے ہیں‘ ان کا معیار مثالی ہے‘ میٹروز اور دوسری ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی فائونڈیشن چلا رہی ہے‘ ان کی سروسز اور معیار بھی بہت اعلیٰ ہیں۔ ہم نے پہلا دن طوس میں گزارہ‘ ہم سب سے پہلے فردوسی کے مزار پر گئے‘ فردوسی 940 ء میں پیدا ہوا تھا‘ وہ ایک رئیس زادے کے باغ میں ملازم تھا‘ سارا دن مزدوری کرتا تھا اور رات کو شاہ نامہ تخلیق کرتا تھا‘ اس نے 30 سال لگا کر شاہ نامہ مکمل کیا‘ یہ دنیا کی شان دار رزمیہ داستان تھی‘ رستم اور سہراب اسی شاہ نامہ کے کردار ہیں‘ فردوسی فارسی زبان کا بابا آدم بھی تھا‘ اس نے شاہ نامہ لکھ کر فارسی کو ادب کی زبان بنا دیا‘ اس کے شعر زبانوں اور دلوں سے ہوتے ہوئے پورے سنٹرل ایشیا میں مشہور ہو گئے۔ شاہ نامہ کا کمال یہ ہے اس کے 50ہزار شعروں میں فارسی کے علاوہ کسی زبان (بشمول عربی) کا کوئی لفظ نہیں‘ تمام شعر خالص فارسی زبان میں ہیں‘ شاہ نامہ تخلیق کے دوران ہی مشہور ہو گیا تھا جس کی وجہ سے فردوسی بھی جانا پہچانا جانے لگا۔فردوسی کی شہرت گھومتی ہوئی محمود غزنوی تک پہنچ گئی‘ اس نے اسے دربار میں بلایا‘ شعر سنے اور دیر تک سر دھنتا رہا‘ اس نے اس سے وعدہ کیا تم جب شاہ نامہ مکمل کر لو گے تو میں تمہیں ہر شعر کے عوض سونے کی ایک اشرفی دوں گا‘ فردوسی خوش ہو گیا‘ اس نے دن رات ایک کر کے شاہ نامہ مکمل کیا اور گھوڑے پر لاد کر غزنی پہنچ گیا‘ بادشاہ کا موڈ اس دن خراب تھا‘ اس نے فردوسی کو سونے کی بجائے چاندی کے 20 ہزار سکے دے کر ٹرخا دیا‘شاعر کا دل ٹوٹ گیا‘ وہ سیدھا حمام میں گیا‘ مساج کرایا اور 20 ہزار سکے مالشیے کو دے کر طوس واپس چلا گیا اور باقی زندگی محمود غزنوی کی ہجو میں گزار دی‘ اللہ تعالیٰ کی کرنی یہ ہوئی محمود غزنوی ایک بار ہندوستان کی مہم سے واپس آ رہا تھا‘ راستے میں اسے کسی مصاحب نے شعر سنا دیا‘ وہ شعر سے انتہائی متاثر ہوا اور پوچھا یہ کس کی تخلیق ہے؟ مصاحب نے بتایا اس کا خالق فردوسی ہے‘ محمود غزنوی کو اپنا وعدہ یاد آ گیا‘ وہ بہت نادم ہوا اور اس نے اسی وقت سونے کے80 ہزار سکے گھوڑوں پر لدوائے اور طوس بھجوا دیے لیکن آپ قسمت کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے‘ سونے سے لدے یہ گھوڑے جب طوس پہنچے تو شہر کے دوسرے دروازے سے فردوسی کا جنازہ نکل رہا تھا‘ اللہ نے اس کے نصیب میں عزت لکھی تھی لیکن خوش حالی نہیں‘ وہ شہرت کے آسمان اور بادشاہوں کے ہونٹوں تک پہنچ کر بھی عسرت میں زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوا۔ فردوسی کا مقبرہ طوس شہر کے قدیم حصے کے بڑے باغ میں واقع ہے‘ شہر میں داخل ہوتے ہی فردوسی اور ہارونیہ کے سائن بورڈ نظر آنے لگتے ہیں‘ مقبرہ شان دار اور ایران کی قدیم عمارتوں کی طرح چکور ہے‘ مقبرے کی سنگی سلوں پرشاہ نامہ کے اشعار کندہ ہیں‘ عمارت کے ساتھ سیڑھیاں تہہ خانے میں اترتی ہیں‘ فردوسی کی قبر ’’بیسمنٹ‘‘ میں ہے‘ پورا کمپلیکس ستونوں پر کھڑا ہے جو اس کی مضبوطی کی دلیل ہے‘ قبر کے ساتھ ساتھ دیواروں پر شاہ نامہ کے مختلف کردار بھی پینٹ ہیں‘ رستم اور سہراب کی لڑائی اور پھر زخمی سہراب کا نقش بھی ہے‘ مقبرے کے ساتھ فردوسی کا میوزیم ہے جس میں اس زمانے کی اشیاء رکھی ہیں‘ شاہ نامہ کے قدیم والیم اور رستم اور سہراب کی پینٹنگز بھی وہاں ہیں‘ کمپلیکس کے آخر میں شہر کی قدیم فصیل کے کچھ حصے ہیں‘ اس زمانے میں اینٹوں کی آٹھ دس فٹ چوڑی فصیل بنا کر اس پر مٹی کا لیپ کر دیا جاتا تھا‘ وہ دیوار آج بھی موجود ہے اور دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے‘ ہم واپس جانے لگے تو کچھ لوگوں کو عقیدت سے زمین پر بیٹھے دیکھا‘ پتا چلا یہ ایران کے مشہور گلوکار محمد رضا شجریان کی قبر ہے‘ وہ ماڈرن اور لبرل گلوکار تھا اور مذہبی پابندیوں کے خلاف تھا‘یہ 2020ء میں فوت ہوا اور اسے اس کی وصیت کے مطابق فردوسی کے کمپائونڈ میں دفن کر دیا گیا‘ درجنوں لڑکے اور لڑکیاں روزانہ اس کی قبر پر آتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں‘ہم نے بھی رک کر فاتحہ پڑھی‘ آج کل اس کا بیٹا گاتا ہے‘ یہ بھی ایران میں بہت مقبول ہے‘ امام الغزالی بھی طوس سے تعلق رکھتے تھے‘وہ بھی اسی شہر میں مدفون ہوئے‘ ان کی قبر شہر کی فصیل سے باہر ان کے گائوں غزالہ میں تھی‘ امام غزالی کا گائوں ختم ہو گیا‘ صرف ان کی قبر بچی ہے اور یہ بھی ہمیں بڑی مشکل سے ملی‘ قبر کی حالت خراب اور تعویز شکستہ تھا‘ ہم نے وہاں کھڑے کھڑے دعا کی‘حکومت اس پر شان دار مقبرہ بنانا چاہتی ہے‘ غزالی دنیا کا پہلا شخص تھا جس نے بجٹ کا تصور دیا اور علم کو دین اور دنیا دو حصوں میں تقسیم کیا تھا‘وہ اپنے دور میں بھی لوگوں سے مار کھاتا رہا اور مرنے کے بعد بھی اس کی قبر زمانے کے تھپیڑے کھا رہی ہے‘یہ دیکھ کر دل بوجھل ہو گیا‘ ہم واپسی پر ہارونیہ رک گئے‘ یہ ہارون الرشید کے زمانے کی خوب صورت عمارت تھی‘ اس میں کبھی درس گاہ ہوتی تھی‘ امام غزالی بھی اس درس گاہ میں پڑھتے اور پڑھاتے رہے تھے‘ عمارت کے صحن میں غزالی کی علامتی قبر تھی لیکن اصل قبر اس سے دور شہر کی فصیل سے باہر ہے‘ یہ عظیم شہر طالع آزمائوں اور وقت نے برباد کر دیا صرف دو قبریں اور ہارون الرشید کا محل بچا ہے اور بس۔ ہم واپسی پر مشہد میں نادر شاہ افشار کے مزار پر بھی رکے‘ نادر شاہ امام رضاؒ کے حرم سے آدھ کلو میٹر کے فاصلے پر مدفون ہے‘ عمارت کے سامنے نادر شاہ کا سیاہ رنگ کا سنگی مجسمہ لگا ہے جس میں وہ گھوڑے پر بیٹھ کر ہوا میں کلہاڑا لہرا رہا ہے اور اس کے دشمن اسے رسیوں سے کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ وہ افشار قبیلے سے تعلق رکھتا تھا‘ گڈریا تھا‘ صفوی بادشاہ سلطان حسین کی فوج میں بھرتی ہوا اور ترقی کرتا ہواپہلے سپہ سالار اور پھر ایران کا بادشاہ بن گیا‘ وہ اپنے زمانے کی سب سے بڑی فوج کا مالک تھا‘ اس کا لشکر چار لاکھ جوانوں پر مشتمل تھا‘ اس نے 1739ء میں ہندوستان پر حملہ کیا‘ کرنال کے مقام پر جنگ ہوئی‘ مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کو شکست ہوئی اور دلی پکے ہوئے پھل کی طرح نادر شاہ کی گود میں آ گری‘ وہ دلی پہنچا اور محمد شاہ سے تخت طائوس اور کوہ نور ہیرا لے لیا‘ اس کے سپاہیوں نے بھی جی بھر کر دلی کو لوٹا‘ تاریخ لکھتی ہے دلی میں اتنا خون بہا کہ نادر شاہ کے گھوڑے کے سم انسانی خون میں ڈوب گئے‘ نادر شاہ کے دلی کے قیام کے دوران بے شمار دوسرے واقعات بھی پیش آئے‘ مثلاً محمد شاہ نے نادرشاہ کو انتہائی مقوی معجون پیش کی‘ اس کی آدھ چمچ دن بھر کے لیے کافی تھی لیکن نادر شاہ اسے حلوہ سمجھ کر پورا مرتبان کھا گیا جس کے نتیجے میں اسے خونی پیچش لگ گئے‘ دلی کے بزرگ ترین حکیم کو بلایا گیا‘ حکیم صاحب نے سب سے پہلے نادر شاہ کو ڈانٹ کر اس کی طبیعت صاف کر دی‘ وہ حیرت سے اسے دیکھتا رہا کیوں کہ شہر میں لاشوں کے انبار لگے تھے اور ان حالات میں ایک کم زور بوڑھا طبیب بادشاہ کو لعن طعن کر رہا تھا‘ نادر شاہ اس کی جرات سے بہت متاثر ہو ‘ بہرحال حکیم نے علاج کیا اور نادر شاہ صحت یاب ہو گیا‘ بادشاہ نے اس کے بعد اسے ایران چلنے کی دعوت دے دی مگر حکیم نے صاف انکار کر دیا‘اس نے اسے بہت لالچ دیا مگر اس نے دلی چھوڑنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ نادر شاہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا مجھے پوری دلی میں صرف ایک مرد ملا اور وہ یہ حکیم تھا باقی سب خواجہ سرا تھے‘ وہ اس حکیم کے بعد دلی کی ایک کنیز سے بھی بہت متاثر ہوا‘ محمد شاہ نے اسے اپنی ایک خوب صورت کنیز پیش کی‘ وہ انتہائی حسین اور سلیقہ شعار تھی‘ نادر شاہ اس پر عاشق ہو گیا اور اسے بھی ایران لے جانے کا قصد کر لیا مگر کنیز نے بھی دلی چھوڑنے سے انکار کر دیا‘ نادر شاہ نے اسے لالچ بھی دیا اور ڈرایا دھمکایا بھی مگر کنیز کا جواب تھا ظل الٰہی آپ خواہ میرے ٹکڑے کر دیں لیکن میں دلی نہیں چھوڑوں گی‘ نادر شاہ اس کی جرات کو بھی سلام کرنے پر مجبور ہو گیا۔ محمد شاہ رنگیلا نے اپنی ایک شہزادی نادر شاہ کے صاحب زادے کے عقد میں دے دی ‘ نکاح کی رسم شروع ہوئی تو محمد شاہ کے وکیل نے مغل سلطنت کا پورا شجرہ بیان کر دیا‘ وہ شاہ ابن شاہ قسم کا تھا لیکن جب دولہے کی باری آئی تو شجرہ ایک نسل کے بعد رک گیااور دولہا شرمندہ ہو گیا‘ یہ دیکھ کر نادر شاہ اٹھا‘ تلوار نکالی اور ہوا میں لہرا کر نکاح خوان سے بولا ’’لکھو شمشیر ابن شمشیر ابن شمشیر‘‘ اس کے کہنے کا مطلب تھا دنیا میں طاقت سے بڑا کوئی شجرہ نہیں ہوتااور میرا شجرہ طاقت ہے۔ نادر شاہ نے ایران میں افشار سلطنت کی بنیاد رکھی‘ اس کی سلطنت میں ایران‘ عراق اور ہندوستان شامل تھا لیکن آپ ستم ظریفی دیکھیے‘ اس سلطنت کا اختتام بہت افسوس ناک ہوا‘ نادر شاہ کی فوج کے دو حصے تھے‘ ایک کا کمانڈر احمد شاہ ابدالی تھا‘ یہ حصہ افغان سپاہیوں پر مشتمل تھا‘ دوسرا حصہ ایرانیوں پر مشتمل تھا اور اس کا کمانڈرایرانی تھا‘ نادر شاہ کو خطرہ تھا یہ کمانڈرز اسے قتل کر دیں گے چناں چہ وہ زرہ بکتر پہن کر‘ ہاتھوں میں تلوار لے کر اور خیمے میں گھوڑا تیار کر کے سوتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ 20 جون 1747ء کو قوچان شہر کے قریب اپنے خیمے میں سویا اور اسے اپنے گارڈز نے قتل کر دیا‘ اس کا سر قلم کر کے خیمے سے باہر پھینک دیا گیا اور تین گھنٹے بعد صورت حال یہ تھی پورے میدان میں صرف ایک خیمہ تھا اور اس میں نادر شاہ کی لاش پڑی تھی جب کہ فوج خیمے اکھاڑ کر اپنے اپنے وطنوں کو روانہ ہو چکی تھی‘ نادر شاہ نے اپنی زندگی میں مشہد میں اپنا مزار بنوالیا تھا‘ اسے قوچان سے لا کر مشہد میں دفن کر دیا گیا‘ اس کے بعد اس کے بیٹے علی قلی نے عادل شاہ کے نام سے سلطنت سنبھالی مگر ایک سال میں سلطنت کے تین بادشاہ تبدیل ہو گئے اوریوں پوری سلطنت تتر بتر ہو گئی‘ اس کے بعد زند اور قاچار خاندان آئے اور قاچاروں نے اس کا پورا مقبرہ اکھاڑ دیا‘ یہ مقبرہ اس کے بعد بار بار تباہ ہوتا رہا یہاں تک کہ شاہ ایران نے اپنے آرکی ٹیکٹ دوست ہوشنگ سہون (Hooshang Seyhoun) کو ذمہ داری سونپی اور اس نے 1963ء میں نیا مقبرہ بنایا‘ مقبرے کی تعمیر کے دوران دنیا کے امیر ترین اور مضبوط ترین کمانڈر کی گلی سڑی ہڈیاں نکل آئیں‘ ان ہڈیوں کو تابوت میں جمع کر کے دوبارہ جنازہ پڑھاکر دفن کر دیا گیا۔ میں بڑی دیر تک اس کی قبر پر کھڑا رہا اور یہ سوچتا رہا انسان بھی کیا چیز ہے‘ یہ خود کو خدا سمجھ کر شمشیر ابن شمشیر کے نعرے لگا بیٹھتا ہے اور آخر میں کیا نتیجہ نکلتا ہے‘ یہ خاک کی مٹھی بن کر زمین پر پڑا ہوتا ہے اور میرے جیسے معمولی لوگ جوتوں سمیت اس کی قبر پر کھڑے ہوتے ہیں‘ وہاں اس دن کسی سکول کا ٹور آیا ہوا تھا‘ میں دیکھ رہا تھا بچے اس کی قبر پھلانگ رہے تھے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر تصویریں بنوا رہے تھے‘ یہ تھی نادر شاہ افشار کی اصل اوقات‘اس نادرشاہ افشار کی اوقات جس نے خود کو ’’دردوران‘‘ یعنی وقت کا موتی قرار دے دیا تھا‘ لوگ اس مناسبت سے اسے درانی کہتے تھے لیکن وقت کا یہ موتی مٹی میں مل کر مٹی ہوگیا اور پیچھے صرف کہانیاں رہ گئیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…