بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کیلئے بڑی خوشخبری ، عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں

datetime 12  مئی‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث شہری تیزی سے متبادل توانائی ذرائع، خصوصاً سولر انرجی، کی جانب راغب ہو رہے ہیں،

جبکہ اس حوالے سے صارفین کے لیے ایک مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں ریکارڈ حد تک کم ہونے کے بعد پاکستان میں بھی سولر سسٹمز نسبتاً سستے ہو گئے ہیں، جس سے گھریلو اور کاروباری صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سولر سیلز کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد اب مارکیٹ میں استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں پاکستانی صارفین کے لیے سولر توانائی کا حصول پہلے کی نسبت زیادہ آسان اور کم خرچ ہوگیا ہے۔توانائی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سولر سیلز کی قیمت پاکستانی کرنسی کے حساب سے تقریباً 13 روپے 50 پیسے فی واٹ تک آ گئی ہے، جسے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سولر ٹیکنالوجی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم عالمی پیداوار بڑھنے سے قیمتوں میں خاطر خواہ کمی ریکارڈ کی گئی

۔ ان کے مطابق اس کمی سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتوں اور کاروباری شعبے کو بھی فائدہ پہنچے گا۔توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے رائے دی ہے کہ موجودہ حالات میں سولر سسٹم کی تنصیب ایک مفید سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ کے مسائل کے باعث سولر توانائی طویل مدت میں اخراجات کم کرنے کا مؤثر ذریعہ بن رہی ہے۔انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ مہینوں میں پاکستان میں سولر سسٹمز کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جس سے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو مزید تقویت ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…