جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

خسرہ کی وبا نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی، اب تک 40 بچے جاں بحق

datetime 27  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)محکمہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ سندھ میں رواں سال خسرہ کے باعث 40 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں،

جبکہ بیماری کے پھیلاؤ نے تشویشناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔رپورٹس کے مطابق صوبے میں خسرہ کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور متعدی امراض پر قابو پانے کی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں، جس کے نتیجے میں معصوم بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک سندھ میں 1183 بچے خسرہ سے متاثر ہو چکے ہیں۔ فروری کے بعد سے بیماری کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اب وبائی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ماہرین اطفال، جن میں ڈاکٹر خالد شفیع بھی شامل ہیں، نے موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی حفاظتی مہمات مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی بڑی وجہ والدین کی جانب سے بچوں کو بروقت ویکسین نہ لگوانا ہے۔ ستمبر میں گھر گھر جا کر آگاہی مہم بھی چلائی گئی، تاہم عوامی تعاون کی کمی کے باعث خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ڈاکٹر خالد شفیع نے کہا کہ خسرہ ایک خطرناک اور جان لیوا مرض بن سکتا ہے، اور اس سے بچاؤ کا مؤثر ترین ذریعہ صرف ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے اپنے بچوں کے حفاظتی ٹیکے مکمل کروائیں تاکہ انہیں محفوظ رکھا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…