ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

اینڈ آف مسلم ورلڈ

datetime 8  مارچ‬‮  2026
ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کا مطالعہ کرنا ہوگا‘ جرمنی نے مارچ 1945ء میں شکست ماننا شروع کر دی تھی‘ ہٹلر برلن میں اپنے انڈر گرائونڈ چیمبرمیں چھپ گیا‘جرمن فوج پسپا ہو چکی تھی اور اتحادی یورپ کا قبضہ واپس لے چکے تھے لیکن جاپان ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھا‘ وہ مشرقی محاذوں سے اتحادیوں کو مسلسل ٹینشن دیتا چلا جا رہا تھا‘ ہندوستان اس جنگ کا مرکز تھا‘ انگریز کو باہر سے جاپان اور اندر سے تحریکوں کا سامنا تھا‘ صاف محسوس ہو رہا تھا جاپان کسی بھی وقت ہند وستان پر قابض ہو جائے گا‘ دوسری طرف امریکا کے پاس اسلحہ اور فوجی ختم ہو چکے تھے‘ یہ مزید جنگ افورڈ نہیں کر سکتا تھا چناں چہ یہ ہر قیمت پر جاپان کا سرینڈر چاہتا تھا‘ 1945ء کے شروع میں ’’مین ہیٹن پراجیکٹ‘‘ سے اطلاع آئی ہم نے دنیا کا پہلا ایٹم بم بنالیا ہے بس ٹیسٹ باقی ہے‘ واشنگٹن میں 27 اپریل 1945ء کو ٹارگٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا اور جاپان کے 17 شہروں پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ ہو گیا۔ ’’مین ہیٹن پراجیکٹ‘‘ سے رابطہ کیا گیا جواب آیا ہم فوری طور پر17 بم نہیں بنا سکیں گے جس کے بعد ہدف کو 17 سے پانچ کر دیا گیا‘ یہ فیصلہ ہوا ’’مین ہیٹن پراجیکٹ‘‘ سے گرین سگنل ملتے ہی جاپان کے پانچ شہروں ہیرو شیما‘ کو کورا (Kukrua)‘ یاکوہاما‘ نیگاتا (Niigata) اور کیوٹو پر بم گرا دیے جائیں گے‘ کیوٹو پر پہلا بم گرنا تھا لیکن امریکا کے سیکرٹری آف وار (وزیر جنگ) ہنری سٹمسن (Henry Stimson) کو کیوٹو پر رحم آ گیا‘ کیوٹو جاپان کا پرانا دارالحکومت اور کلچرل سنٹر تھااگر یہ ختم ہو جاتا تو جاپانی کلچر کے قدیم آثار مٹ جاتے چناں چہ امریکی وزیر جنگ نے کیوٹو کو فہرست سے نکال کر ناگاساکی شامل کر دیا‘ امریکا نے اس کے بعد جاپان کو سمجھانا شروع کیا‘ یہ اسے ایٹم بم کے بارے میں بتاتا رہا لیکن جاپان کو اپنی فتح کا یقین تھا‘ یہ آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ 16 جولائی 1945ء آ گیا‘ امریکا نے اس دن پہلا کام یاب ایٹمی دھماکا کیا اور دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا‘ امریکا نے اس کے بعد اپنے جوہری بم ٹوکیو سے پندرہ سو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود اپنے جزیرے تنین (Tinian) پر شفٹ کیے اور حملے کی تیاریاں شروع کر دیں‘ ہیروشیما ان کا پہلا ٹارگٹ تھا‘ چھ اگست
1945ء کی صبح ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرا دیا گیا‘ یہ شیما ہسپتال کے اوپر فضا میں پھٹا‘ سیکنڈز میں درجہ حرارت تین ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچا اور شہر عمارتوں‘ پلوں‘ سڑکوں اور انسانوں سمیت پگھل گیا‘ آدھ گھنٹے میں 80 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے جب کہ زندہ بچ جانے والے پوری زندگی موت کی دعا مانگتے رہے‘ جاپان کو اس کے بعددوبارہ سرینڈر کی دعوت دی گئی لیکن جاپانیوں نے خون کے آخری قطرے اور آخری گولی تک لڑنے کا اعلان کر دیا چناں چہ امریکا نے تین دن بعد (9 اگست) ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرا دیا‘ 75 ہزار لوگ پہلے منٹ میں ہلاک ہو گئے جب کہ پورا شہر راکھ کا ڈھیر بن گیا‘ جاپان کو صورت حال کی نزاکت کا اندازہ ہو گیا‘ اس نے فوراً ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا‘ 15 اگست 1945ء کو سرینڈر کے ڈاکومنٹ پر دستخط ہوئے اور یوں دوسری عالمی جنگ ختم ہو گئی۔ہم اگر آج جنگ عظیم دوم کے آخری لمحات کا تجزیہ کریں تو ہم امریکی ٹیکنالوجی اور جاپان کے جذبہ حریت کی داد دیں گے‘ ہم تسلیم کریں گے جاپان نے جنگ لڑ کر دکھا دی اور امریکا نے پوری دنیا سے اپنی ٹیکنالوجی کی قوت منوا لی لہٰذا دونوں جیت گئے لیکن اس جیت پر ہیروشیما اور ناگاساکی کے اڑھائی لاکھ لوگ قربان ہوگئے‘ ان بے چاروں کا کیا قصور تھا؟ یہ اڑھائی لاکھ لوگ خوش قسمت تھے‘ وہ پلک جھپکنے سے پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے‘ اصل امتحان زخمیوں اور بچ جانے والوں کا تھا‘ وہ پوری زندگی روتے اور آہیں بھرتے رہے۔ ہم انسان عقل اور جذبات کا مجموعہ ہیں‘ عقل آخری سانس تک انسان کو بچاتی رہتی ہے‘ یہ اسے بتاتی رہتی ہے دنیا میں سروائیو کرنا سب سے بڑا کمال ہوتا ہے جب کہ جذبات پوری زندگی ممولے کو شاہین سے لڑاتے رہتے ہیں اورجنگ میں ہر مرتبہ بے چارہ ممولہ مارا جاتا ہے‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا طاقتور لوگوں اور بڑے ملکوں کی انا بھی بڑی اور طاقتور ہوتی ہے‘ یہ جب زخمی ہوتی ہے تو پھریہ درندے بن جاتے ہیں‘ یہ ڈائنو سار کی طرح چھوٹے جانوروں کو پائوں تلے کچل دیتے ہیں‘ امریکا نے 1945ء میں یہی کیا تھا‘ اسے جب محسوس ہوا اس کے پاس ہتھیار‘ بارود اور جوان کم پڑ گئے ہیں تو اس نے ڈائنو سار کی طرح چھوٹے جانور پر پائوں رکھ دیا اور اسے یہ کرتے ہوئے یعنی شرف انسانی سے نیچے آتے ہوئے چند منٹ لگے‘اللہ معاف کرے میرے منہ میں خاک 2026ء میں بھی یہی ہو گا‘ امریکا نے اڑھائی سو سال لگا کر خود کو ٹیکنالوجی‘ طاقت اور رسائی میں سپر پاور بنایا ہے‘ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے دنیا کو مسلسل پیغام دے رہا ہے آپ خواہ قدرتی وسائل میں گلف ہو جائیں‘ فوج اور ایریا کے لحاظ سے روس بن جائیں‘ سولائزیشن‘ ایجوکیشن اور سٹیبلٹی میں خواہ یورپ ہو جائیں یا پروڈکشن اور ٹیکنالوجی میں چین ہو جائیں لیکن آپ میرا مقابلہ نہیں کر سکتے‘ جنگل کا ہاتھی صرف میں ہوں لیکن پھر اچانک ایران جیسا کم زور ملک اس کے سامنے کھڑا ہو جائے اور یہ اس کی طاقت کو چیلنج کر دے تو پھر ڈائنو سار کیا کرے گا؟ آپ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں تو آپ کیا کریں گے یا آپ کا نام اگر امریکا ہو تو آپ کا ایکشن کیا ہوگا؟ آپ بے شک جواب نہ دیں لیکن پاکستان پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل یہ جواب دے رہا ہے‘ ہم نے افغانستان کو بار بار سمجھایا‘یہ باز نہ آیاتو پھر ہم نے کیا کیا؟ ہم نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور ہم مسلسل حملے کر رہے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ افغانستان جیسا کم زور اور پس ماندہ ملک دنیا کی واحد اسلامی نیوکلیئر پاور کو مسلسل دھمکا رہا تھا‘ ہم یہ بے عزتی برداشت نہ کر سکے اور افغانستان میں گھس گئے‘ اگلا سوال یہ ہے طالبان اگر اس کے باوجود سرینڈر نہیں کرتے‘ یہ باز نہیں آتے تو کیا ہم چپ چاپ برداشت کریں گے؟ بالکل نہیں‘ ہم پھر ہیبت اللہ اخونزادہ کو بھی ماریں گے اورپوری طالبان لیڈر شپ کابھی قیمہ بنا دیں گے خواہ اس کے لیے ہمیں پورے افغانستان کو کھنڈر کیوں نہ بنانا پڑجائے مگر ہم یہ کریںگے کیوں کہ ہم اگر اب پیچھے ہٹتے ہیں تو ختم ہو جائیں گے‘ انڈیا اور طالبان پھر ہمارا بھرکس نکال دیں گے‘ امریکا کی پوزیشن بھی یہی ہے‘ یہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے‘ یہ اگر ایران سے ہار جاتا ہے تو یہ ختم ہو جائے گا‘ روس اور چین اس کے ٹکڑے کر دیں گے چناں چہ امریکا کے پاس ہارنے کا کوئی آپشن نہیں‘ ایران کی مکمل تباہی اس کی مجبوری ہے‘ آپ اس حقیقت کو انڈر سٹینڈ کریں۔ دوسرا ایران اس جنگ میں ایک بڑی غلطی کر رہا ہے‘ یہ عربوں‘ اسرائیل اور امریکا کے میزائل کا ذخیرہ ختم کر رہا ہے‘ ایران 20 ہزار ڈالر میں ڈرون بناتا ہے‘ اس کے پاس 80 ہزار تیار ڈرونز کھڑے ہیں‘ یہ انہیں عرب ملکوں اور اسرائیل کی طرف اڑا دیتا ہے‘ ایک ڈرون کو ’’انٹر سیپٹ‘‘ کرنے کے لیے دو سے تین انٹر سیپٹر چاہییں‘ ایک انٹر سیپٹر کی مالیت چار ملین ڈالر ہوتی ہے گویا 20 ہزار ڈالر کا ڈرون گرانے کے لیے 16 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں‘ مارکو روبیو (امریکی وزیر خارجہ) کے مطابق ایران مہینے میں سو میزائل بنا سکتا ہے جب کہ امریکا مہینے میں صرف چھ سات انٹر سیپٹر بنا پا رہا ہے‘دوسرا ایران کے پاس چار جنرشن کے میزائل ہیں‘ یہ ابھی صرف جنریشن ون اور ٹو کے میزائل داغ رہا ہے تاکہ اسرائیل‘ امریکا اور عربوں کے میزائلوں کا ذخیرہ انٹرسیپٹ کے دوران ختم ہو جائے‘ یہ اس کے بعد جنریشن تھری اور فور کے میزائل استعمال کرے گا اور گلف اور اسرائیل کو قبرستان بنا دے گا‘ یہ جذباتی لحاظ سے بہت شان دار تکنیک ہے‘ ہمیں ایران کو داد دینی چاہیے لیکن یہ عقلی لحاظ سے انتہائی خطرناک ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ جوں جوں امریکا کے پاس انٹرسیپٹر کا ذخیرہ کم ہوتا جائے گا 1945ء کی جاپان کی صورت حال اتنی ہی تیزی سے قریب آتی جائے گی‘ ایران پر ایٹمی حملے کا خطرہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا‘یہ یاد رکھیں امریکا اور اسرائیل دونوں کے پاس شارٹ لیول کے ایٹم بم موجود ہیں‘ یہ جنگ ختم کرنے کے لیے انہیں استعمال کرتے ہوئے دیر نہیں لگائیں گے‘ زیادہ سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو اس سے الگ کر لے گا‘ یہ‘ نیتن یاہو کو آنکھ مار دے گا اور یہ ایران پر تین چار چھوٹے بم گرا دے گا اور اس کے بعد ایران میں جاپان سے دس گنا بڑی تباہی آ جائے گی۔ ہمیں یہاں ایک اور نقطہ بھی سمجھنا ہو گا امریکا اور جاپان کے درمیان وسیع فاصلہ تھا‘ ایران اور امریکا کے درمیان بھی ٹھیک ٹھاک دوری ہے چناں چہ امریکی تابکاری کے اثرات سے بچ جائیں گے جب کہ عرب ریاستیں بالکل ایران کے منہ پر ہیں‘ یہ براہ راست ایٹمی تابکاری سے متاثر ہوں گی جس کے بعد گلف کی رونقیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی‘عرب شاہی خاندان بھی گلف میں نظر نہیں آئیں گے اور اگر خدانخواستہ اس جنگ کے دوران ایران نے ایٹم بم بنا لیا تو اسرائیل کے علاوہ عرب ریاستوں میں موجود امریکی بیس اس کا ہدف ہوں گے اور اس صورت میں بھی عرب برباد ہو جائیں گے چناں چہ اس جنگ میں ایران جیتے یا امریکا نتیجہ اسلامی دنیا کے خلاف ہی نکلے گا‘ یہ ختم ہو جائے گی‘ جنگ کے بعد اگر امریکا اور اسرائیل کام یاب ہو جاتے ہیں (اس کا ننانوے فیصد چانس ہے) تو پورے عالم اسلام کو اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑے گایوںاسرائیل کو گریٹر اسرائیل بنتے دیر نہیں لگے گی اور یہ ہمیں چن چن کر مارے گا اور اگر ایران کام یاب ہو جاتا ہے تو پورا عرب قبرستان بن جائے گا اور عراق سے لے کر اومان تک راکھ ہی راکھ نظر آئے گی لہٰذا ہمارے پاس بچائو کا صرف ایک ہی راستہ ہے‘ پورا عالم اسلام اکٹھا ہو‘ ایران کو سمجھائے‘ یہ امریکا کو فیس سیونگ دے‘ امریکا جیت کے ڈنکے بجائے‘ ڈونلڈ ٹرمپ خود کو پیس کا چیمپیئن ڈکلیئر کرے اور یہ جنگ فوراً بند ہو جائے‘ عالم اسلام اس کے بعد خاموشی سے نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے جانے کا انتظار کرے‘ یہ دونوں اپنے آپ کے لیے کافی ہیں‘ اسرائیل نیتن یاہو سے شدید نفرت کرتا ہے جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا میں اکیلا ہو چکا ہے‘ امریکی نظام تیزی سے اس کے خلاف کھڑا ہو رہا ہے‘ ان دونوں کو جنگیں بچا رہی ہیں‘ یہ جان بوجھ کر جنگ چھیڑ لیتے ہیں تاکہ عوام کی توجہ بٹی رہے‘ ایران کی خاموشی کے بعد یہ اپنے عوام کا ہدف بن جائیں گے‘ دوسرا مسلم برادری اکٹھی ہو‘ یہ جوائنٹ ڈیفنس کا فارمولہ بنائے‘ مسلم نیٹو تخلیق کرے اور ذاتی مفادات سے بلند ہو کر سوچے یہ اب صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں ورنہ دوسری صورت میں ہمارے ختم ہونے اور اسرائیل کے غلام بننے کا وقت آن پہنچا ہے‘ امریکا کے اشارے پر اسرائیل چند بم گرائے گا اور ہم ختم ہو جائیں گے‘ امریکا کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘ یہ ہر صورت یہ جنگ جیتے گا خواہ اس کے لیے اسے تہران کو ہیروشیما اور اصفہان کو ناگاساکی ہی کیوں نہ بنانا پڑے اور یہ جنگ ہرگزرتے دن کے ساتھ اس طرف بڑھتی چلی جا رہی ہے چناں چہ زیادہ بغلیں نہ بجائیں‘ عقل کو ہاتھ ماریں اور اپنے انجام پر توجہ دیں‘ دوسرا سعودی عرب نے جون میں ہمارے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تھا‘ یہ ایگریمنٹ اسرائیل کے خلاف نہیں تھا‘ ایران کے لیے تھا لہٰذا کل سعودی عرب کے وزیردفاع نے ہمارے آرمی چیف کے ساتھ ریاض میں ملاقات کی‘ اس ملاقات کا مطلب ہے ہم بھی اب اس جنگ سے زیادہ دن تک باہر نہیں رہ سکیں گے اور یہ ہمارے ساتھ ساتھ پورے عالم اسلام کے لیے خطرناک ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…