جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

موٹروےزیادتی کیس: ’’سزائے موت کے بعد کوئی نہیں کہے گا خاتون رات کو وہاں کیا لینے آئی‘‘

datetime 5  جون‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے کہا ہے کہ اب پنجاب محفوظ ہے ،

کوئی نہیں کہے گا کہ خاتون رات کو موٹروے پر لینے کیا آئی تھی ،موٹر وے گینگ ریپ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ریاستی اداروں کے لیے چیلنج تھا ،پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کا اس سارے کیس کا کرداد بہت اہم تھا ۔موٹروے گینگ ریپ کیس میں مجرمان کی سزائیں برقرار رکھنے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کو پٹرول ختم ہونے پر بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا،اس وقوعہ کو ساری دنیا نے ہائی لائٹ کیا تھا ،اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ریاستی اداروں کے لیے چیلنج تھا ،شہری کی ون فائیو کال پر پولیس نے کارروائی کی ،متاثرہ خاتون نے ملزمان کے حلیے بتائے جس پر فرانزک ٹیموں نے کام شروع کیا ،عابد ملہی کا ڈی این اے موقع سے اکٹھے کیے گئے شواہد سے میچ کر گیا تھا ،دوسرا ملزم شفقت بگا تھا جسے سی ڈی آر ریکارڈ سے گرفتار کیا گیا،پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کا اس سارے کیس کا کرداد بہت اہم تھا ۔

انہوںنے کہا کہ پراسکیوشن نے اس کیس میں دن رات محنت کر کے ملزمان کو سزائیں دلوائیں،پراسکیوشن نے اس کیس میں ہائیکورٹ سے بھی ملزمان کی سزائیں برقرار رکھوائیں ،اب پنجاب محفوظ ہے ،کوئی نہیں کہے گا کہ خاتون رات کو موٹروے پر لینے کیا آئی تھی ،اس کیس میں پہلی کال ایک شہری نے کی تھی ،بطور شہری ہمیں فرض نبھانا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…