جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت ان کے دفتر میں موجود تھا: عباس عراقچی کا انکشاف

datetime 5  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے وقت وہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے۔

ایک عرب نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں عباس عراقچی نے بتایا کہ وہ جنیوا میں ہونے والے سفارتی مذاکرات سے واپسی کے بعد 28 فروری کی صبح آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر گئے تھے تاکہ انہیں مذاکراتی پیش رفت اور خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال سے آگاہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جنیوا مذاکرات کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ چکی تھی اور جنگ کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہے تھے۔ عراقچی کے مطابق اسی دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا، تاہم وہ جس حصے میں موجود تھے وہ براہِ راست نشانہ نہیں بنا اور محفوظ رہا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ حملے کے دوران انہیں اپنی جان سے زیادہ سپریم لیڈر کی سلامتی کی فکر لاحق تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دو دن شدید اضطراب اور بے یقینی میں گزرے، یہاں تک کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی اطلاعات کی تصدیق ہوگئی۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ہنگامی حالات میں بھی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کو ترجیح نہیں دیتے تھے۔ ان کے بقول، سپریم لیڈر کی شہادت ایران کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن واقعہ تھا جس نے پوری قوم کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بعض مبصرین کا خیال تھا کہ اس واقعے کے بعد ایران کا ریاستی نظام کمزور پڑ جائے گا یا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہوگا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق تمام ریاستی ادارے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے اور حکومتی امور میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا۔

عراقچی نے یہ بھی کہا کہ نئے سپریم لیڈر کے طور پر ’’خامنہ ای جونیئر‘‘ کے انتخاب نے واضح کر دیا کہ ایران کا نظام صرف ایک شخصیت کے گرد نہیں گھومتا بلکہ مضبوط اداروں اور منظم آئینی ڈھانچے پر قائم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…