اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دل کا دورہ اس وقت پیش آتا ہے جب دل تک خون پہنچانے والی شریان میں رکاوٹ پیدا ہو جائے یا خون کی روانی شدید حد تک کم ہو جائے۔
یہ رکاوٹ اکثر کولیسٹرول، چکنائی اور دیگر مادّوں کے جمع ہونے سے بنتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں پلاک کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہی پلاک خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹ) کا سبب بنتی ہے، جس سے خون کی فراہمی متاثر ہو کر ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی الٹرا پراسیس غذائیں دل کی بیماریوں اور ہارٹ اٹیک کے نمایاں خطرات سے منسلک ہیں۔ امریکن جرنل آف پریوینٹیو میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق ایسی غذائیں امراضِ قلب کے ایک بڑے حصے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔الٹرا پراسیس غذائیں وہ ہوتی ہیں جنہیں صنعتی مراحل سے بار بار گزارا جاتا ہے۔ ان میں نمک، چینی، مصنوعی ذائقے، کیمیکل اجزا اور غیر صحت بخش چکنائیاں زیادہ مقدار میں شامل کی جاتی ہیں، جبکہ فائبر اور دیگر غذائی اجزا نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔اس زمرے میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈ، کیک، بسکٹ، مٹھائیاں، ٹافیاں، نمکین اسنیکس، بریک فاسٹ سیریلز، انسٹنٹ نوڈلز، چکن اور فش نگٹس، میٹھے مشروبات اور مختلف اقسام کے سافٹ ڈرنکس شامل ہیں۔
تحقیق کے دوران کینیڈا میں 2019 کے دوران امراضِ قلب کے ہزاروں مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک، فالج اور دیگر قلبی بیماریوں کے تقریباً 23 سے 38 فیصد کیسز میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال ایک اہم عنصر تھا۔محققین کے مطابق اگر ان غذاؤں کے استعمال میں 20 سے 50 فیصد تک کمی لائی جائے تو ہر سال امراضِ قلب کے لاکھوں نئے کیسز سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت مند غذائی عادات اپنانے کی ترغیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماہرین نے وضاحت کی کہ ان غذاؤں میں نمک کی زیادہ مقدار ہائی بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے، جبکہ بلند فشارِ خون خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر دل کے دورے کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح زیادہ چینی، ٹرانس فیٹس، غیر صحت بخش چکنائیاں اور اضافی کیلوریز بھی مجموعی جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور مختلف دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔



















































