جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

ایک شناختی کارڈ پر سمیں کتنی مل سکتی ہیں؟ پی ٹی اے نے بتا دیا

datetime 3  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایک شناختی کارڈ پر

سموں کی حد سمیت غیر قانونی سموں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق اہم معلومات فراہم کردی ہیں۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے نے واضح کیا کہ ایک شناختی کارڈ پر زیادہ سے زیادہ 5 سمیں رجسٹرڈ کی جاسکتی ہیں۔ پانچ سموں کی حد مکمل ہونے کے بعد اسی شناختی کارڈ پر مزید سم جاری نہیں کی جاسکتی۔انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم کے خلاف کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے 125 چھاپے مارے گئے، جن کے دوران تقریباً 25 ہزار غیر قانونی سمیں برآمد کی گئیں جبکہ 171 افراد کو گرفتار کیا گیا۔چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ تقریباً ڈھائی سے تین برس کے عرصے میں 18 لاکھ کے قریب سمیں بلاک کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے بائیومیٹرک نظام کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں نادرا کے تعاون سے نظام کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف کارروائیوں کے دوران تقریباً 6 لاکھ افراد کا بائیومیٹرک ڈیٹا بھی برآمد ہوا۔ چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ جہاں بائیومیٹرک معلومات محفوظ ہوتی ہیں، بعض صورتوں میں وہیں سے ڈیٹا کے غیر قانونی اخراج کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے، اس لیے سکیورٹی کے موجودہ طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موبائل فون آپریٹرز کو بھی اس عمل میں شریک کیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی سموں کی روک تھام اور ان کے استعمال کے خلاف اقدامات کو زیادہ مؤثر بنایا جاسکے۔اجلاس کے دوران خواجہ اظہار الحسن نے غیر قانونی سموں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی سمیں دہشت گردی، بھتہ خوری اور دیگر جرائم کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک کی سموں کی پاکستان میں تشہیر اور فروخت کے معاملے کی جانب بھی توجہ دلائی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ ملک میں بعض افراد اپنے بینک اکاؤنٹس بھی دوسرے لوگوں کے حوالے کردیتے ہیں، حالانکہ انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے مشکوک یا فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کی منتقلی ہوسکتی ہے۔کمیٹی اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پی ٹی اے، ٹیلی کام کمپنیوں اور اسٹیٹ بینک کو مل کر سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، تاکہ غیر قانونی سموں کے استعمال، مالی فراڈ اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…