جمعرات‬‮ ، 03 ستمبر‬‮ 2026 

کویت میں بڑی پابندی ختم کرنے کا باضابطہ اعلان

datetime 2  ستمبر‬‮  2026 |

کویت سٹی: کویت کی پبلک اتھارٹی فار مین پاور (PAM)

نے شدید گرمی کے دوران کھلے مقامات اور براہِ راست دھوپ میں دوپہر کے وقت کام کرنے پر عائد موسمی پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارکنوں کو شدید گرمی کے اثرات، ہیٹ اسٹروک اور دیگر ممکنہ طبی مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ پابندی ہر سال یکم جون سے 31 اگست تک نافذ کی جاتی ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ پابندی کا مقررہ عرصہ ختم ہونے کے باوجود آجروں اور کمپنیوں کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے کام کی جگہ پر صحت اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔

پبلک اتھارٹی فار مین پاور کے مطابق فیلڈ انسپکشن ٹیمیں مختلف ورک سائٹس کا معائنہ جاری رکھیں گی۔ ان دوروں کا مقصد پیشہ ورانہ صحت و سلامتی سے متعلق ضوابط پر عملدرآمد کی نگرانی کرنا ہے۔

اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف ضابطے کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ کارکنوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو بدستور ترجیح دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…