اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) کے نمائندہ وفد نے چیئرمین آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے ملاقات کر کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نئے نظام پر اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی ہدایت پر ہونے والے مذاکرات میں ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ اس سے کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈیلرز نے ڈی ریگولیشن پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف کاروباری ماحول متاثر ہوگا بلکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سپلائی چین اور تقسیم کا نظام بھی مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے۔وفد نے اپنے مؤقف میں مطالبہ کیا کہ ڈیلرز کے مفادات کے تحفظ کے لیے منافع کا مارجن 8 فیصد مقرر کیا جائے۔ اس کے علاوہ کارڈ کے ذریعے ادائیگی پر عائد ٹرانزیکشن چارجز کے مسئلے کا بھی فوری اور مستقل حل نکالنے کی درخواست کی گئی۔
مذاکرات کے دوران چیئرمین اوگرا نے ڈیلرز کے مسائل کا جائزہ لینے اور ان کے حل کے لیے سات روز کی مہلت طلب کی، تاہم پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے فوری طور پر اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس 22 جولائی کو کراچی میں منعقد ہوگا، جہاں ملک بھر کے ڈیلرز سے مشاورت کے بعد اوگرا کی جانب سے مانگی گئی مہلت پر فیصلہ کیا جائے گا۔پی پی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک گیر ہڑتال سمیت مختلف آپشنز پر بھی غور کیا جائے گا، جس کے بعد حتمی فیصلے سے اوگرا کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔



















































