پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

مذہبی جنگ

datetime 10  مارچ‬‮  2026
رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے تھے‘ ان کے دور میں 1972ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دفتر میں جاسوسی کے آلات لگا دیے گئے تھے‘ رچرڈ نکسن کے ساتھی ان آلات کے ذریعے ری الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکمت عملی سنتے رہتے تھے‘ واشنگٹن پوسٹ کے دو رپورٹرز باب وڈورڈ اور کارل پرنسٹن کو بھنک پڑ گئی‘انہوں نے تحقیقات کیں اور خبر شائع کر دی ‘سٹوری شائع ہوئی اور رچرڈ نکسن کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا‘ ڈیموکریٹک پارٹی کا دفتر واشنگٹن میں واٹر گیٹ کمپلیکس میں تھا لہٰذا یہ خبر اس مناسبت سے واٹر گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہوئی اور یہ ہر دور میں دنیا کی سب سے بڑی خبر رہی‘ رچرڈ نکسن عیسائی تھا لیکن وہ مذہب پر زیادہ یقین نہیں کرتا تھا‘ چرچ بھی نہیں جاتا تھا اور پادریوں کو بھی ناپسند کرتا تھا‘ ہنری کسنجر اس کا وزیر خارجہ تھا‘ وہ بھی ’’نان پریکٹسنگ‘‘ یہودی تھا‘ اس کے خیالات بھی مذہب کے خلاف تھے‘ واٹر گیٹ سکینڈل جب پیک کو چھو رہا تھا تو ایک رات رچرڈ نکسن نے ہنری کسنجر کو وائیٹ ہائوس بلایا‘ کسنجرکو محسوس ہوا یہ ایمرجنسی ہے‘ وہ دوڑکر اوول آفس پہنچا‘ نکسن نے دفتر کا دروازہ بند کیا اور کسنجر سے مخاطب ہوا ’’میں کمزور عقیدہ عیسائی ہوں‘ تم بھی نام کے یہودی ہو لیکن میں اس کے باوجود محسوس کرتا ہوں اگرہم مل کر عبادت کریں تو شاید ہمارے مسائل کم ہو جائیں‘ شاید خدا کو ہم پر رحم آ جائے‘‘ رچرڈ نکسن اس کے فوراً بعد گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے بائبل کی آیات تلاوت کرنے لگا‘ ہنری کسنجراس کا ماتحت تھا چناں چہ وہ بھی فوری طور پر اس کے پیچھے گھنٹوں کے بل کھڑا ہوا اور عبرانی زبان میں خدا سے مدد مانگنے لگا۔ یہ واقعہ ہنری کسنجر نے لکھا اور متعدد بار اپنی تقریروں میں بیان کیا‘ یہ انسان کی فطرت کو ظاہر کرتا ہے‘ ہم انسان بنیادی طور پرکم زورواقع ہوئے ہیں‘ ہمیں بعض اوقات ہمارا پیشہ‘ عہدہ یا ذمہ داری مضبوط‘ اٹل یا ناقابل شکست بنا دیتی ہے لیکن ہم جوں ہی زندگی کے کسی حصے میں ’’واٹرگیٹ‘‘ جیسی صورت حال کا شکار ہوتے ہیں تو ہم خواہ رچرڈ نکسن ہوں یا ہنری کسنجر‘ ہم خواہ وائیٹ ہائوس کے مضبوط ترین دفتر اوول آفس میں بیٹھے ہوں یا دکان کے تھڑے پر
ہم بے اختیار خدا کے سامنے ’’نیل ڈائون‘‘ ہو جاتے ہیں اور اس معاملے میں امریکی صدر سے لے کر حاجی عبداللہ تک سب برابر ہیں‘ تاریخ بتاتی ہے سکندر اعظم بھی دیوتائوں کے نمائندے ساتھ لے کر جنگوں پر روانہ ہوتا تھا‘ دارا کا بھی اپنا پیر تھا‘ چنگیز خان کا کوئی مذہب نہیں تھالیکن وہ بھی جنگوں میں عیسائی‘ مسلمان‘ بودھ اور ہندو چاروں مذاہب کے علماء سے دعا کرا تا تھا‘ امیر تیمور بے انتہا ظالم شخص تھا‘ وہ بھی جنگ سے پہلے نماز پڑھ کر دعا کرتا تھا اور جنگ کے فوراً بعد خون میں لتھڑے ہاتھ دھو کر وضو کرتا تھا اور نماز ادا کرتا تھا‘ تمام عثمانی بادشاہوں کے اپنے اپنے پیر اور علماء تھے‘ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے اور بادشاہ مشکل وقت میں ان کا مذہبی اور جذباتی سہارا لیتا تھا‘ ایوب خان بے انتہا توہم پرست تھا‘ وہ بابا لعل سے لے کر قدرت اللہ شہاب تک سب کی روحانی دیواروں کے ساتھ ٹیک لگاتا رہتا تھا‘ محترمہ بے نظیر بھٹو سیاسی گرداب میں پھنس کر بابا تہنکہ کی چھڑیاں کھانے کے لیے مانسہرہ کی پہاڑیوں تک پہنچ جاتی تھیں‘ میاں نواز شریف بھی بابے لے کر پھرتے رہتے تھے‘ آصف علی زرداری درجن بھر ’’اولیائ‘‘ کے مرید تھے‘ انہوں نے تین روحانی شخصیات ایوان صدر میں بھی رکھی ہوئی تھیں‘ وہ دن بھر ان کی صدارتی کار کے ٹائروں پر پھونکیں مارتے رہتے تھے‘ یہ جب بھی ایوان صدر سے باہر نکلتے تھے‘ کالے بکرے کا صدقہ دے کر نکلتے تھے (یہ روایت آج تک قائم ہے) جب کہ عمران خان نے اپنی پیرنی گھر میں ہی بسا لی تھی‘ بشریٰ بی بی وزیراعظم کی بلائیں ٹالنے کے لیے روزانہ چھتوں پر گوشت پھینکتی تھیں‘ عمران خان کی رہائی کے لیے آج بھی تین درگاہوں پر دعائیں ہو رہی ہیں‘ یہ عمل کیا ثابت کرتے ہیں؟ یہ ثابت کرتے ہیں سکندر اعظم ہو‘ چنگیز خان ہو یا پھر رچرڈ نکسن ہم سب انسان مشکل حالات میں خدا کے تصور میں پناہ لیتے ہیں‘ ہم ’’نیل ڈائون‘‘ ہوتے ہیں اور ہماری یہ ’’نیل ڈائوننگ‘‘ہمارے اندرونی خوف کی نشانی ہوتی ہے‘ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہوتی ہے کہ ہماری مشکل ہماری اوقات سے بڑی ہے اور ہمیں اس سے نکلنے کے لیے خدا کا سہارا چاہیے۔ آپ اگر انسان کی اس کم زوری کو ذہن میں رکھ کر 6 مارچ کو وائیٹ ہائوس میں ہونے والی تقریب کو دیکھیں تو آپ بڑی آسانی سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی حالت کا اندازہ کر لیں گے‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دن امریکا بھر سے نامور پادری بلوائے‘ خود اوول آفس میں صدارتی کرسی پر بیٹھا‘ پادری اس کے پیچھے کھڑے ہوئے اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ایران کے خلاف اس کی فتح کے لیے دعا کی‘ یہ فوٹیج دیکھ کر سینیٹر لنڈسے گراہم جیسے لوگوں نے بھی کہنا شروع کر دیا امریکا اور اسرائیل کی ایران سے لڑائی مذہبی جنگ ہے‘ اس کے بعد امریکا سے لے کر پاکستان تک یہ بحث چھڑ گئی ’’کیا یہ جنگ مذہبی ہے؟‘‘ پاکستان کے اند ربھی بے شمار لوگ اسے مذہبی جنگ قرار دے رہے ہیں جب کہ درحقیقت یہ ’’وسائل کی لڑائی‘‘ ہے اور اس کا دور دور تک مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘ ڈونلڈ ٹرمپ کا پادریوں کو بلانا‘ کندھے پر ہاتھ رکھوانا اور دعا کراناان کی کم زوری کی علامت ہے‘ یہ علامت ثابت کرتی ہے یہ بھی رچرڈ نکسن کی طرح خوف کا شکار ہو چکا ہے اور یہ اب مذہب سے توانائی لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے ردعمل اور گیارہ دن تک ڈٹے رہنے کی وجہ سے ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں ہل گئے ہیں‘ ان کا خیال تھا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں فسادات شروع ہو جائیں گے اور ہم دنیا میں تیل اور گیس کے دوسرے بڑے ذخیرے پر قابض ہو جائیں گے لیکن ایران کا ردعمل خلاف توقع نکلا‘ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے امریکا اور اسرائیل کا بھرکس نکال دیا جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص بھی مذہب میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا‘ دوسری طرف اب نیتن یاہو بھی یہودیوں کی سیاہ ٹوپی پہن کر پھر رہا ہے لہٰذا یہ خوف ہے‘ مذہب کی لڑائی نہیں۔ ہم اگر یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام کو تاریخی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بہت دل چسپ صورت حال سامنے آئے گی‘ ہم یہودیوں سے شروع کرتے ہیں۔ اسرائیل حضرت یعقوبؑ کا خطاب تھا‘ اس مناسب سے ان کے 12 بیٹوں کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے‘ حضرت یعقوب ؑ کے 12بیٹوں کے نام روبن‘ شمعون‘ لاوی‘ یہودا‘ اشکار‘ زبولون‘ ڈان‘ نفتالی‘ جاڈ‘ اشر‘ یوسف اور بنیامین (بنجمن) تھا‘ ان بارہ بیٹوں کی آل اولاد بعدازاں بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بنی اور یہ مصر کے بارہ مختلف شہروں یا علاقوں میں آباد ہوئے‘ حضرت موسیٰ ؑ کا تعلق لاوی قبیلے سے تھا(کپڑوں کے مشہور برینڈز لاوی اور لیوائز اسی قبیلے کے نام پر ہیں) لاوی پیشے کے لحاظ سے ترکھان اور مذہبی لحاظ سے عالم تھے‘ آج بھی بنی اسرائیل کے زیادہ تر ربی لاوی قبیلے سے ہوتے ہیں‘ حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی اور نبی حضرت ہارون ؑ دنیا کے پہلے کاہن تھے‘ کاہنیت ان کی نسل میں چل رہی ہے‘ حضرت موسیٰ ؑ ان تمام قبیلوں کو اکٹھا کر کے فلسطین واپس لے آئے‘ ڈان قبیلہ راستے میں کھو گیا‘ یہ آج تک بنی اسرائیل کو واپس نہیں ملا‘ ہمارے کے پی کے بعض پشتون بھائی خود کو ڈان قبیلہ کہتے ہیں لیکن یہ دعویٰ تاریخی لحاظ سے غلط ہے کیوں کہ صحرائے سینا سے خیبر پاس تک بے شمار بڑے شہر اور ملک موجود ہیں چناں چہ ڈان قبیلہ درجن بھر سیٹل معاشروں اور ملکوں کو چھوڑکر اس پس ماندہ اور بے وسیلا علاقے میں کیوں آئے گا؟اور وہ بھی اس وقت جب یہ علاقہ ہن جیسے وحشیوں کی گزرگاہ تھا‘ دوسرا ڈان لڑنے بھڑنے والے لوگ نہیں تھے‘ وہ حکمت عملی کے ماہر تھے جب کہ ہمارے قبائلی سینکڑوں سال سے صرف لڑ بھڑ رہے ہیںلہٰذا یہ بنی اسرائیل کا حصہ نہیں ہو سکتے‘ اب جنیاتی سائنس (DNA) نے بھی یہ ثابت کر دیا ہے‘ بہرحال ہم حضرت موسیٰ ؑ کی طرف واپس آتے ہیں‘ آپؑ گیارہ قبیلوں کو لے کر فلسطین آ گئے‘ اردن کی پہاڑی کوہ نیبوع پر پہنچ کر آپ ؑ کا سفر ختم ہوگیااور آپ ؑ کا وصال ہو گیا‘ آپ ؑ کے بعد حضرت یوشع بن نون ؑ نے بنی اسرائیل کی قیادت کی‘ جریکو میں لڑائی ہوئی‘ اللہ نے بنی اسرائیل کو فتح یاب کیا اور یوں انہیں وہ سرزمین واپس مل گئی جس کا اللہ نے ان سے وعدہ کیا تھا‘ فلسطین واپس ملنے کے بعد گیارہ میں سے دس قبیلے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے گیارہویں قبیلے بنی یہودا کو یروشلم سے نکال دیا‘ یہ لوگ دریائے اردن کے مغربی کنارے (اسے ویسٹ بینک کہا جاتا ہے) پر آباد ہو گئے‘ یہ بہت مسکین اور نادار لوگ تھے‘ یہ بھیڑ بکریاں چراتے تھے اور یروشلم کی دوسری اقوام کے گھروں اور کھیتوں میں کام کرتے تھے‘ ان پر پابندی تھی‘ یہ لوگ صرف دن کے وقت شہر آ سکتے تھے‘ انہیں شہر میں رات بسر کرنے کی اجازت نہیں تھی چناں چہ یہ دن بھر محنت مزدوری کے بعد مغربی کنارے پر واپس چلے جاتے تھے‘یہ لوگ حضرت یعقوب ؑ کے چوتھے بیٹے یہودا کی اولاد تھے‘ یہودا‘ انگریزی میں جودا (Judah) لکھا اور بولا جاتا ہے‘بائبل کی روایات کے مطابق جب حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں نے انہیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو بڑے بھائی رابن نے انہیں قتل سے بچایا‘ اس کا کہنا تھا یوسف ہمارا بھائی ہے‘ اس کا خون ہمارے ہاتھوں پر نہیں آنا چاہیے جس کے بعدشمعون اور لاوی نے انہیں جنگل میں خشک کنوئیں میں پھینکنے کا مشورہ دیا‘ ان کا کہنا تھا یہ وہیں بھوکے پیاسے مر جائیں گے یا پھر انہیں جنگلی جانور کھا جائیں گے جب کہ یہودا نے تجویز دی ہم انہیں مدائن کے تاجروں کو بیچ دیتے ہیں‘ مدائن شہر حضرت صالح ؑ کی قوم نے آباد کیا تھا‘ یہ قوم آج کے سعودی عرب سے لے کر عمان کے شہر صلالہ تک پھیلی ہوئی تھی‘ مدائن میں غلاموں کی سب سے بڑی منڈی لگتی تھی‘ تاجر غلام خریدتے تھے اور انہیں مختلف علاقوں میں لے جاتے تھے‘ مصر اور آج کا عراق اس زمانے کی دو بڑی سولائزیشن تھیں‘ تاجر ان دونوںملکوں کے درمیان پھرتے رہتے تھے‘ حضرت یوسف ؑ کا کنواں اس شاہراہ پر پڑتا تھا‘ بائبل کی ’’بک آف جینسس‘‘ کے مطابق یہودا نے بھائیوں کو مشورہ دیا ہمیں گھاٹے کا سودا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم اسے مدائن کے تاجروں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں‘ اس زمانے میں خوب صورت نوجوان غلام کی قیمت چاندی کے بیس سکے ہوتی تھی‘ یہودا کا کہنا تھا ہمیں اس کے 20شیلنگ (چاندی کے سکے) مل جائیں گے یوں اس سے جان بھی چھوٹ جائے گی اور منافع بھی ہو جائے گا‘ بھائیوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور حضرت یوسف ؑ کو کنوئیں میں پھینک دیا‘ یہ لوگ ذرا دور گئے تو سامنے سے مدائنی تاجروں کا قافلہ آ رہا تھا‘ وہ لوگ غلام لے کر مصر جا رہے تھے‘ یہودا نے بھائیوں کو دوبارہ قائل کیا اور وہ اس مرتبہ اس کی باتوں میں آ گئے‘ یہ لوگ کنوئیں پر واپس آئے‘ حضرت یوسف ؑ کو نکالا اور انہیں22شیلنگ میں مدائنی تاجروں کے ہاتھوں بیچ دیا (نوٹ: یہ بائبل کا ورژن ہے‘ قرآن مجید کے مطابق حضرت یوسف ؑکو تاجروں نے کنوئیں سے نکالا تھا)اس کے بعد کی کہانی آپ جانتے ہیں۔ یہودا کی نسل آگے چل کر یہودی کہلائی‘ یہ لوگ آج بھی فطرتاً ظالم اور تاجر پیشہ ہیں‘ یہ اچھی قیمت ملنے پر حضرت یوسف ؑ جیسے بھائی بھی بیچ دیتے ہیں۔ (جاری ہے)

موضوعات:



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…