بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایکسپورٹرز کے لیے خوش خبری

datetime 6  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں برآمدی شعبے کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اہم تجاویز زیر غور ہیں، جن کے تحت ایکسپورٹرز کو مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب روپے تک کا ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت برآمدات پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس وقت یہ ٹیکس برآمد کنندگان کے ریفنڈ کلیمز میں رکاوٹ بن رہا ہے، جس کے باعث انہیں اپنے واجبات کی بروقت وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکس ختم کر دیا جاتا ہے تو ایکسپورٹ سیکٹر کے ریفنڈ معاملات میں آسانی پیدا ہوگی اور بقایا کلیمز کے مسائل بھی بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔

دوسری جانب حکومت ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کو بھی لازمی بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت وہ برآمد کنندگان جو ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم اختیار نہیں کریں گے، ان کے سیلز ٹیکس ریفنڈز روکنے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں ڈیجیٹل کمپلائنس کو ریفنڈز کے اجرا سے منسلک کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایف بی آر کے فاسٹر سسٹم میں نئے رسک پیرامیٹرز بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

اس نئی شرط کے اثرات ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل آلات، قالین سازی اور اسپورٹس گڈز سمیت متعدد بڑے برآمدی شعبوں پر پڑ سکتے ہیں، جنہیں اپنے کاروباری نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق ملک کے پانچ بڑے برآمدی شعبوں کو ہر ماہ 30 سے 40 ارب روپے تک کے ریفنڈز ادا کیے جاتے ہیں، جبکہ دودھ، گھی، اسٹیل اور ٹیکسٹائل کے شعبے پہلے ہی مختلف مانیٹرنگ نظاموں کے تحت کام کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…