اسلام آباد (نیوز ڈیسک): آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں برآمدی شعبے کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اہم تجاویز زیر غور ہیں، جن کے تحت ایکسپورٹرز کو مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب روپے تک کا ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت برآمدات پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس وقت یہ ٹیکس برآمد کنندگان کے ریفنڈ کلیمز میں رکاوٹ بن رہا ہے، جس کے باعث انہیں اپنے واجبات کی بروقت وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکس ختم کر دیا جاتا ہے تو ایکسپورٹ سیکٹر کے ریفنڈ معاملات میں آسانی پیدا ہوگی اور بقایا کلیمز کے مسائل بھی بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔
دوسری جانب حکومت ڈیجیٹل نظام کے نفاذ کو بھی لازمی بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت وہ برآمد کنندگان جو ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم اختیار نہیں کریں گے، ان کے سیلز ٹیکس ریفنڈز روکنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں ڈیجیٹل کمپلائنس کو ریفنڈز کے اجرا سے منسلک کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایف بی آر کے فاسٹر سسٹم میں نئے رسک پیرامیٹرز بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
اس نئی شرط کے اثرات ٹیکسٹائل، لیدر، سرجیکل آلات، قالین سازی اور اسپورٹس گڈز سمیت متعدد بڑے برآمدی شعبوں پر پڑ سکتے ہیں، جنہیں اپنے کاروباری نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق ملک کے پانچ بڑے برآمدی شعبوں کو ہر ماہ 30 سے 40 ارب روپے تک کے ریفنڈز ادا کیے جاتے ہیں، جبکہ دودھ، گھی، اسٹیل اور ٹیکسٹائل کے شعبے پہلے ہی مختلف مانیٹرنگ نظاموں کے تحت کام کر رہے ہیں۔



















































