پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

محبت تا ابد

datetime 3  فروری‬‮  2026 |

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘ وہ کس کے گلے کا ہار رہا‘ کس کس نے اسے محبت کی نشانی بنایا‘ کس نے اسے چوم کر کس کے گلے میں لٹکایا اور وہ کس کس کے گلے میں لٹک لٹک کر کس کس کے دل پر دستک دیتا رہا یہ کہانی کوئی نہیں جانتا لیکن پھر وہ ہندوستان کی خوب صورت ترین ملکہ نور جہاں تک پہنچا اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

نور جہاں کا اصل نام مہرالنساء تھا‘ وہ ایرانی تھی‘ قندہار میں پیدا ہوئی‘ والدین کے ساتھ ہندوستان آئی اور اکبراعظم کے کمان دار علی قلی استجلو کے دل کی دھڑکن بن گئی‘اس کے بطن سے علی قلی کی بیٹی بھی تھی‘ علی قلی کی ازدواجی زندگی شان دار چل رہی تھی لیکن پھر اس سے ایک غلطی ہو گئی اور اس غلطی نے اس کا پورا گھر برباد کر دیا‘ وہ ولی عہد شہزادہ محمد سلیم عرف جہانگیر کے ساتھ میور کی جنگ میں شریک تھا‘ شہزادہ لشکر کے ساتھ گھنے جنگلوں سے گزر رہا تھا اچانک سامنے سے ببرشیر آگیا‘ شہزادہ اس وقت خمار میں تھا‘ وہ بس شیر کا لقمہ بن رہا تھا کہ علی قلی نے گھوڑے سے چھلانگ لگا دی اور شہزادے اور شیر کے درمیان حائل ہو گیا‘ علی قلی اور شیر میں خوف ناک لڑائی ہوئی یہاںتک کہ ہندوستان کا سپاہی جیت اور جنگل کا بادشاہ ہار گیا‘ علی قلی زخمی شہزادے کو اپنے خیمے میں لے آیا جہاں اس کی بیوی مہرالنساء نے دل و جان سے اس کی خدمت کی‘ شہزادہ دل پھینک تھا‘ وہ انیس مرتبہ اپنے دل کی دھڑکنیں مختلف عورتوں کے پائوں میں بچھا چکا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی محبت کی پیاس نہیں بجھ پا رہی تھی‘ وہ مہرالنساء کا بھی عاشق ہو گیا‘ مہرالنساء ذہین اور دور اندیش عورت تھی‘ اس نے چند دن کی رفاقت میں ہندوستان کے تخت کو اپنی منزل بنا لیااور یوں دونوں کی محبت پروان چڑھنے لگی‘ اکبر اعظم نے ولی عہد کی جان بچانے کے انعام میں علی قلی خان کو شیرافگن کا خطاب دیا اور اسے بنگال کا گورنر بنا دیا‘ شیرافگن عملاً جہانگیر کا محسن تھا لیکن محبت کہاں کسی کا احسان مانتی ہے‘ جہانگیر کی محبت نے بھی شیرافگن کو محسن ماننے سے انکار کر دیا‘ جہانگیر 1605ء میں اکبر کی وفات کے بعد ہندوستان کا بادشاہ بن گیا اور اس نے تخت سنبھالتے ہی شیرافگن کو باغی ڈکلیئر کیا‘ بنگال کے لیے نئے گورنر قطب الدین کوکا کو نامزد کیا اور نئے گورنر نے پرانے گورنر کو قتل کر دیا اور یوں مہرالنساء بیوہ ہو گئی جس کے بعد بادشاہ نے اس سے شادی کر لی اور وہ اپنی بیٹی لاڈلی بیگم کے ساتھ محل میں شفٹ ہو گئی‘ بادشاہ نے اسے مہرالنساء سے نور جہاں بنا دیا‘ وہ جہانگیر کی بیسویں بیگم تھی لیکن ذہنی طور پر بے انتہا تگڑی تھی چناں چہ اس نے چند ہی دنوں میں بادشاہ کو اپنے پلو کے ساتھ باندھ لیا‘

نور جہاں کی پہلے خاوند سے بے وفائی اپنی جگہ‘ اس کی خواہش زر اور تخت پر قبضے کی کوشش بھی اپنی جگہ لیکن وہ اس کے باوجودمغل دور کی ذہین ترین ملکہ تھی‘ وہ نہ ہوتی تو شاید ہندوستان میں پان‘ حقہ‘ شمیز (عورتیں یہ آج بھی پہنتی ہیں‘ یہ کرتے کے اندر نرم کپڑے کی قمیض ہوتی ہے) چکن کڑھائی والا کپڑا (یہ عورتوں کے کپڑوں کی کڑھائی کا خاص سٹائل ہے‘ یہ بھی نورجہاں نے ایجاد کیا تھا) سلیم شاہی جوتا (مردوں کا کھسہ جس کے سامنے دم ہوتی ہے) اور چنبیلی کا عطر نہ ہوتا‘ نور جہاں حسن کا مجسمہ تھی لیکن بدقسمتی سے اس کے منہ سے بو آتی تھی‘ اس نے اس لیے پان ایجاد کرایا تھا جو بعدازاں شاہی خاندان کی عورتوں سے ہوتا ہوا پورے ہندوستان کی روایت بن گیا جب کہ حقہ ہندوستان میں انگریز لے کر آیا تھا‘ دنیا 1510ء تک تمباکو جیسی علت سے ناواقف تھی‘ یہ کو لمبس امریکا سے لے کر آیا تھا اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے یورپ کی معاشرت کا حصہ بن گیا‘ جہانگیر کے دور میں دو برطانوی تاجر کیپٹن ولیم ہاکنز (William Hawkins) اور سرتھامس رو (Sir Thomas Roe) ہندوستان آئے‘ دربار میں پہنچے اور جہانگیر سے ملے‘ ملکہ اس وقت حسب معمول بادشاہ کے ساتھ بیٹھی تھی‘ ولیم ہاکنز نے بادشاہ کو سگار پیش کیا‘ بادشاہ نے اسے پھونکا اور اسے کھانسی کا دورہ پڑ گیا‘ مہمان پریشان ہو گئے لیکن ملکہ نے انہیں شاہی مہمان خانے میں ٹھہرایا اور حکیم ابوالفتح جیلانی کو سگار کو نرم بنانے کا حکم دے دیا‘ حکیم نے حقہ ایجاد کر دیا‘ بادشاہ نے اسے گڑ گڑا کر دیکھا تو اسے اچھا لگا اور اس کے ساتھ ہی ہندوستان میں انگریز اور تمباکو دونوں کو قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
نورجہاں ہندوستان کی واحد ملکہ تھی جس کے نام کا سکہ جاری ہوا‘

جہانگیر کو اس سے عشق تھا لیکن اس بے تاب عشق‘ افیون (مغل اسے معجون کہتے تھے) کا نشہ اور کثرت گوشت خوری نے جہانگیر کی جان لے لی‘وہ 1627ء میں کشمیر کے راستے میں فوت ہو گیا‘ شاہ جہاں اس کے بعد بادشاہ بنا اور اس نے اپنی سوتیلی ماں کو لاہور کے قلعے میں محبوس کر دیا‘نور جہاں کے اس کے بعد دو کام تھے‘ وہ روز لاہور کے قلعے کے جھروکے سے دریا کے دوسرے کنارے پر موجود اپنے مرحوم محبوب خاوند کا مقبرہ دیکھتی تھی اور رات بھر روتی رہتی تھی‘ وہ جہانگیر کے بعد 18 سال زندہ رہی‘ 1645ء میں اس کا اس عالم میں انتقال ہوا کہ محل کی کھڑکی کھلی تھی‘ چاند جھروکے پر جھکا ہوا تھا اور دھندلاتی ہوئی بینائی میں جہانگیر کا مقبرہ لرز رہا تھا‘شاہ جہان نے اسے مرنے سے پہلے بتا دیاتھا آپ جہانگیر کے ساتھ دفن نہیں ہوں گی‘ بادشاہ اپنی والدہ کو والد کے ساتھ دفن کرنا چاہتا تھا چناں چہ نورجہاں نے اپنی زندگی میں اپنے محبوب کے مقبرے سے ذرا سا ہٹ کر اپنا مقبرہ بنوا لیا تھا‘ نورجہاں کے مقبرے کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا گیا تھا جہاں سے جہانگیر کا مقبرہ آسانی سے دیکھا جا سکے‘ ملکہ نے زندگی میں اپنے مقبرے میں ایک ایسی کھڑکی بھی بنوالی تھی جہاں سے جہانگیر کا مقبرہ ہر وقت نظر آتا رہے لیکن افسوس انگریز نے جب پنجاب میں ریلوے لائین بچھائی تو نورجہاں کا دو تہائی مقبرہ پٹڑی کا رزق بن گیا‘ صرف قبر بچ گئی اور اس پر بھی آج اس کی پیشن گوئی کے عین مطابق چراغ جلتا ہے اور نہ کوئی گلاب کھلتا ہے۔

یہ کہانی بظاہر یہاں ختم ہو گئی لیکن نہیں اس کہانی سے بعدازاں ایک نئی کہانی نے جنم لیااور وہ کہانی ابھی تک جاری ہے‘ جہانگیر اپنی عزیز ترین ملکہ کو کوئی ایسا تحفہ دینا چاہتا تھا جو تاابد اس کی محبت کی نشانی بن کر زندہ رہے‘ وہ تلاش کرتا رہا لیکن کوئی تحفہ اس کی شدت الفت کے معیار پر پورا نہیں اترا یہاں تک کہ اصفہان کا ایک جوہری ایک ایسا نادر ہار لے کردربار میں آگیا جسے دیکھتے ہی بادشاہ کے منہ سے سبحان اللہ نکل گیا‘وہ مرگج (Jade) کے پتھر کے درمیان سرخ رنگ کا دل جیسا ہیرہ تھا‘ اس کے ساتھ سونے کی چین تھی جس میں یاقوت (Ruby) جڑے ہوئے تھے جب کہ ہار کے مرکز میں فارسی زبان میں محبت تاابد (محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے) لکھا تھا‘ بادشاہ نے وہ ہار دیکھا‘ پسند کیا‘ جوہری کو منہ مانگی قیمت دی اور اپنے ہاتھوں سے اسے نورجہاں کے گلے میں لٹکا دیا‘ وہ ہار جہانگیر کی محبت کی نشانی تھا‘ وہ مرنے تک نورجہاں کے گلے میں رہا تھا‘جہانگیر نے وہ ہار شاہ جہان کی ملکہ ممتاز محل کے سامنے نورجہاں کے گلے میں ڈالا تھا‘ ممتاز کو بھی وہ ہار بہت پسند تھا‘وہ ملکہ بنی تو اس نے شاہ جہان سے اس کا ذکر کیا‘ بادشاہ نے اس سے وعدہ کر لیا میں ہر قیمت پر وہ ہار خریدوں گا اور تمہیں پیش کروں گا‘ بادشاہ نے اس کے بعد متعدد مرتبہ سوتیلی ماں سے منہ مانگی قیمت کے عوض ہار مانگا لیکن نورجہاں نے صاف انکار کر دیایوں ممتاز محل ہار کو ترستی ہوئی نور جہاں کی زندگی میں 1631ء میں فوت ہو گئی‘

وہ دنیا سے چلی گئی لیکن بادشاہ کو اپنا وعدہ یاد رہا‘ 1645ء میں جوں ہی نور جہاں کا انتقال ہوا اس کی کنیز نے ہار اتارا اور بادشاہ کو بھجوا دیا‘ بادشاہ اس وقت اپنی مرحومہ بیگم کی یاد میں تاج محل بنوا رہا تھا‘ وہ ہار لے کر سیدھا ممتاز محل کی قبر پر گیا‘ ہار اس کے سرہانے رکھا اور دیر تک روتا رہا‘ یہ ہار 1666ء میں شاہ جہان کی موت تک تاج محل میں ممتاز محل کی قبر کے سرہانے لٹکا رہا‘ اس مناسبت سے اس کا نام تاج محل ڈائمنڈ پڑ گیا‘ ہار کی حفاظت کے لیے فوج کا پورا دستہ قبر پر تعینات تھا‘ شاہ جہان کے انتقال کے بعد ہار اس کی عزیز ترین صاحب زادی جہاں آراء بیگم کو مل گیا‘ وہ والد کی زندگی میں بے انتہا بااثر خاتون تھی‘ بادشاہ پوری دنیا میں صرف اس کی بات مانتا تھا‘ وہ اس قدر بااثر تھی کہ ممتاز محل کے انتقال کے بعد بادشاہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا اور ہندوستان پورا سال بادشاہ کے بغیر چلتا رہا تھا‘ عمائدین سلطنت نے آخر میں جہاں آراء بیگم سے مدد مانگ لی‘ وہ والد کے کمرے میں گئی اور اسے منا کر باہر لے آئی‘ سال بھر کے سوگ کی وجہ سے بادشاہ کے تمام بال سفید ہو چکے تھے اور کمر اور کندھے جھک گئے تھے‘ تاج محل کا آئیڈیا بھی جہاں آراء بیگم کا تھا‘ اس کا خیال تھا بادشاہ کا غم محل کے جنون میں ڈھل کر ختم ہو جائے گا‘ یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی‘ بادشاہ کے جنون نے دنیا کو ساتواں عجوبہ دے دیا لیکن یہ عجوبہ سلطنت کی بربادی کی بنیاد رکھ گیا اورتاج محل کے بعد سلطنت ریت کی دیوار کی طرح گرتی چلی گئی۔

ہم ہار کی طرف واپس آتے ہیں‘ یہ جہاں آراء بیگم کے بعد گم نامی اور خاموشی میں دفن ہو گیا لیکن پھر یہ اچانک 1972ء میں 291 سال بعد فرنچ برینڈکارتیئر کے مالک نے دنیا کے سامنے پیش کر دیا‘ یہ مختلف ہاتھوں سے ہوتا ہوا برطانیہ کے شاہی خاندان کے پاس پہنچ گیا تھا‘ ملکہ کی جیولری کا ایک حصہ بکا اور یہ ہار کارتیئر کے پاس پہنچ گیا‘ الزبتھ ٹیلر اس زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی اداکارہ تھی‘اس کا خاوند رچرڈ برٹن بھی جہانگیر کی طرح اپنی بیگم کو منفرد تحفہ دینا چاہتا تھا مگر اسے بھی کوئی تحفہ بھا نہیں رہا تھا‘ اس نے یہ ہار دیکھا اور جہانگیر کی طرح بے تاب ہو گیا‘ اس نے یہ خریدا اور الزبتھ ٹیلر کے گلے میں ڈال دیا‘ الزبتھ ٹیلر نے 1972ء کے بعد اپنی زندگی کی ہر اہم تقریب میں یہ ہار پہنا‘2011ء میں الزبتھ ٹیلر کے انتقال کے بعد یہ 88 لاکھ ڈالر (اڑھائی ارب روپے) میں نیلام ہوا‘ یہ اس کے بعد ایک بار پھر غائب ہو گیا لیکن پھر اچانک یکم فروری 2026ء کو لاس اینجلس میں ہالی ووڈ کی نئی فلم ودرنگ ہائیٹس کا پریمیر ہوا‘ فلم کی ہیروئن مارگوٹ روبی کیمروں کے سامنے آئی اور دنیا نے تاج محل ڈائمنڈ اس کے گلے میں لٹکا ہوا دیکھا‘ کیمروں نے اسے فوکس کیا تو ہار کے عین درمیان دل کے اوپر فارسی زبان میں نور جہاں بیگم بادشاہ 1037 لکھا ہوا تھا‘ یقینا اس کے دائیں بائیں یا پشت پر ’’محبت تاابد‘‘ بھی موجود ہو گا‘ بے شک مارگوٹ روبی اس وقت دنیا کی مہنگی ترین اداکارہ ہے‘ یہ فلم میں اداکاری کا پچاس ملین ڈالر معاوضہ لیتی ہے لیکن یہ اس کے باوجود نورجہاں نہیں ہے اور یہ ہار اگر نور جہاں‘ ممتاز محل اور جہاں آراء بیگم کا نہیں ہو سکا تو یہ کتنا عرصہ اس کے پاس ٹک سکے گا؟ کوئی نہیں جانتا تاہم جہانگیر کی محبت اور نورجہاں کی اداسی ہمیشہ اس کا حصہ رہے گی‘ یہ ہار اپنا گلا بدلتا رہے گا لیکن محبت کی کسک اور اس سے لپٹی ہوئی داستانیں تاابد قائم رہیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…