اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

datetime 11  جنوری‬‮  2026 |

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا تھا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے اس ہتھیار کا بے لاگ استعمال شروع کر دیا‘ میں نے سڑک پر دوڑ لگا دی‘ میں جانتا تھا والد صاحب میرے پیچھے بھاگ نہیں سکیں گے‘ انہیں سڑک پر بھاگنا اچھا نہیں لگتا تھا‘ میں ان سے بچنے کے لیے ہمیشہ یہ راستہ اختیار کرتا تھا‘ مجھے بھاگتا دیکھ کر والد نے تاک کر جوتا پھینکا‘ وہ سیدھا میری گردن پر لگا اور میں چند لمحوں کے لیے ستاروں کے جہان میں چلا گیا لیکن میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا‘ میں اگر رک جاتا یا گرجاتا تووہ میرے سر پر پہنچ جاتے اور پھر پورا بازار میرا تماشا دیکھتا‘ میں نے چند سیکنڈز میں دماغ کے سارے ستارے جھاڑے اور دوڑتا چلا گیا۔
میری عمر اورطبقے کے ننانوے فیصد بچے ماں باپ اور استاد کی مار کھاتے تھے‘

میں پچھلے سال تک اسے ظلم سمجھتا رہالیکن پھر میں نے ایک ڈاکومنٹری دیکھی اور مجھے اس درندگی کی وجہ سمجھ آ گئی مگر اس ڈاکومنٹری سے قبل میں آپ کو اپنے ایک استاد کے بارے میں بھی بتاتا چلوں‘ چند سال قبل میرے ہائی سکول کے ایک استاد میرے پاس تشریف لائے‘ میں نے ان کا بہت احترام کیا‘ جی جان سے خدمت کی اور بڑی عزت اور مان کے ساتھ ان کا کام کر کے انہیں رخصت کیا لیکن میرا دل جانتا تھا یہ سب کچھ کرنے کے لیے مجھے اپنے اوپر کتنا ضبط کرنا پڑا‘ میرے اس استاد نے بچپن میں میرے ساتھ بہت ظلم کیا تھا‘ یہ مجھے صرف سوال کرنے کے جرم میں پورے سکول کے سامنے گرائونڈ میں لٹا کر یا برآمدے میں مرغا بنا کر جوتے اور سوٹیاں مارتے تھے‘ اس مار اور بے عزتی نے میری انا‘ عزت نفس اور اعتماد تینوں قتل کر دیے‘ میں آج بھی سوال کرتے وقت گھبرا جاتا ہوں‘ میرے دماغ میں آج بھی یہ خوف بیٹھا ہوا ہے‘ میرے سوال پر پہلے میرا مذاق اڑایا جائے گا اور پھر مجھے مرغا بنا کر جوتے مارے جائیں گے‘ یہ خوف میرے اس ماسٹر صاحب کی دین ہے جب کہ میرے دوسرے خوف میرے بزرگوں کی مہربانی ہے‘ مثلاً میں آج بھی جب کھل کر ہنسنے لگتا ہوں تو اپنی گردن پر ہاتھ رکھ لیتا ہوں کیوں کہ میرے بچپن میں کھل کر ہنسنا یا دانت نکالنا جرم تھا اور مجھ سے جب بھی یہ جرم سرزد ہوتا تھا ‘

میرا کوئی نہ کوئی بزرگ میری گردن کی بیک سائیڈ پر تھپڑ مار کر پوچھتا تھا ’’دانت کیوں نکال رہے ہو‘ تمہیں شرم نہیں آتی؟‘‘اسی طرح میں آج بھی جب اپنی مرضی کرنے لگتا ہوں‘ نئی چیز ٹرائی کرتا ہوں یا اپنی خوشی کا بندوبست کرتا ہوں تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں‘ مجھے محسوس ہوتا ہے کسی طرف سے ابھی کوئی جوتا آئے گا اور میری پیٹھ یا منہ پر لگے گا اور میں پیچھے گر جائوں گا‘ میرا یہ خوف بھی میرے بزرگوں کی دین ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ چالیس سال کی عمر تک میں نے جب بھی خوش ہونے کی کوشش کی یا کوئی نئی چیز سیکھنے کا فیصلہ کیا تو مجھے پھینٹا بھی پڑا‘ میری بے عزتی بھی ہوئی اور میرا مذاق بھی اڑایا گیا‘ مثلاً میرے بچپن میں سائیکلیں کرائے پر ملتی تھیں‘ بچے پچاس پیسے (آٹھ آنے) دے کر کرائے پر سائیکل لیتے تھے اور اسے چلانا سیکھتے تھے‘ میں نے یہ ٹرائی کی تو مجھے اس پر بھی مار پڑی‘ ہمارا زمانہ ناولوں اور ڈائجسٹوں کا دور تھا‘ میرے بچپن میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب مجھے ناولوں اور ڈائجسٹوں پر مار نہ پڑی ہو‘ ریڈیو‘ ٹیپ ریکارڈر اور ٹی وی اس وقت کے سب سے بڑے انٹرٹینمنٹ سورس تھے‘ مجھے ان تینوں جرائم پر بار بار مار پڑی‘ ریڈیو سنتا ہوا پکڑا گیا‘ مار پڑ گئی‘ ٹیپ ریکارڈر اور کیسٹس لے لیں فرش پر لٹا کر مارا گیا اور تمام کیسٹس اور ٹیپ ریکارڈر توڑ دیا گیا‘ ٹی وی کے ڈرامے دیکھنے کا شوق تھا لیکن والد صاحب پونے آٹھ بجے ٹی وی بند کر دیتے تھے‘ میں ہمسایوں کے گھر جا کر ٹی وی دیکھتا تھا‘ والد صاحب چھاپہ مار کر پکڑ لیتے تھے‘ پیچھے رہ گئی فلم تو یہ اس زمانے کا سب سے بڑا جرم تھا‘ میں ایک آدھ مرتبہ سینما کے سامنے سے بھی پکڑا گیا اور وہاں بھی سرعام پھینٹا لگ گیا اور یہ معاملہ صرف مجھ تک نہیں تھا‘میری پوری جنریشن نے کم و بیش اس قسم کے جرائم میں والدین اور اساتذہ سے مار کھائی‘ ہم سب اس معاملے میں برابر تھے۔

میں پچھلے سال تک سوچتا تھا ہمارے زمانے کے بزرگ اور استاد بچوں کے ساتھ قصائیوں جیسا سلوک کیوں کرتے تھے؟ کیا واقعی سائیکل‘ کتابیں‘ ریڈیو‘ گانے‘ فلمیں اور ٹی وی اتنے بڑے جرم تھے اور اگر تھے تو یہ وقت کے ساتھ ساتھ ہماری سوسائٹی کا حصہ کیسے بن گئے؟ یہ آج جرائم کیوں نہیں ہیں لیکن پھر مجھے پچھلے سال دنیا کے معروف باڈی بلڈر‘ اداکار اور سیاست دان آرنلڈ شوارزینگرکی ڈاکومنٹری دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ اس میں اس نے انکشاف کیا اس کے والد پولیس مین تھے‘ والد نے دوسری جنگ عظیم دیکھی تھی جس نے ان کی نفسیات بدل کر رکھ دی لہٰذا وہ روز انہیں اور ان کے بھائی کو پھینٹا لگاتے تھے‘ انہیں بہت برا لگتا تھا لیکن پھر یہ جان کر تسلی ہوتی تھی عین اس وقت ان کا دوست بھی اپنے والد کے ہاتھوں پٹ رہا ہوتا تھا‘ آرنلڈ نے انکشاف کیا ان کے قصبے تھال (آسٹریا) کے تمام والد اپنے بچوں کو پھینٹا لگاتے تھے اور اس کی وجہ دوسری جنگ عظیم کی قتل وغارت گری تھی۔
جنگ نے والدین کی نفسیات بدل دی تھی‘ میں نے یہ دیکھنے اور سننے کے بعد ریسرچ کی تو پتا چلا جنگیں‘ نقل مکانیاں اور ڈیزاسٹرز انسانوں کی نفسیات پر اثرانداز ہوتے ہیں‘ یہ انہیں اولاد اور بچوں کے معاملے میں سنگ دل بنا دیتے ہیں‘ یہ لوگ نئی چیزوں اور روایات کو بھی جرم سمجھنے لگتے ہیں‘ یہ فیملی کے معاملے میں اوور پوزیسو اور اوور پروٹیکٹر بھی ہو جاتے ہیں‘ ہمارے بزرگوں نے دوسری جنگ عظیم کے ساتھ ساتھ 1947ء کا بٹوارہ بھی دیکھا تھا اور اس دوران انسانوں کے ایسے ایسے بھیانک روپ ان کے سامنے آئے تھے کہ ان کا انسانیت سے اعتماد اٹھ گیا تھا‘ یہ خود بھی خوش ہونا بھول گئے تھے اور یہ دوسروں کو بھی خوش نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور یہ معاملہ صرف والدین تک محدود نہیں تھا بلکہ اس زمانے کے استاد بھی اس عمل سے گزرے تھے چناں چہ ان کے اندر بھی ظلم کا عنصر پیدا ہو گیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا میری عمر کے تقریباً تمام لوگوں نے اپنا بچپن جوتوں اور ڈنڈوں کے ساتھ گزارا تاہم میری نسل نے اپنی اولاد کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا‘ اس کی وجہ یہ تھی ہماری نسل نے جنگ عظیم اور بٹوارہ نہیں دیکھا تھا لہٰذا ہم قدرے مختلف والدین ثابت ہوئے اور ہمارے بچے ہم سے زیادہ نارمل ماحول کی پیداوار ہیں چناں چہ ان کا اپنے بچوں سے رویہ ہم سے بھی بہتر ہے اور یہ سلسلہ آگے سے آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے‘ انسان حالات کی پیداوار ہوتا ہے‘ ہمیں بہرحال اس حقیقت کو انڈرسٹینڈ کرنا ہوگا۔
میں اس دن کی طرف واپس آتا ہوں‘ ہمارے زمانے میں نئی نئی ویڈیو گیمز آئی تھیں‘ یہ اے ٹی ایم مشینوں جیسی ہوتی تھیں‘ ان میں سکے ڈالے جاتے تھے‘ بچے ان پر کھڑے ہو کر کھیلتے تھے‘ شہر میں کئی دکانوں میں ویڈیو گیمز لگ گئیں‘ میں چھپ چھپ کر یہ بھی کھیلتا تھا‘ ایک دن گھر سے سکول کے لیے نکلا اور ویڈیو گیمز کی دکان پر چلا گیا‘ میری بدقسمتی دیکھیے ہمارے ماسٹر صاحب اس دن ڈاکٹر سے دوائی لینے کے لیے ہماری دکان کے سامنے سے گزرگئے اور انہوں نے میرے والد سے پوچھ لیا‘ آج برخوردار سکول نہیں آیا خیریت ہے‘ اب والد نے برخوردار کو خود سکول بھجوایا تھا چناں چہ معاملہ بگڑ گیا‘ مجھے آدھ گھنٹے میں تلاش کر لیا گیا اور اس کے بعد میں تھا اور والد کا جوتا تھا‘ مدت بعد جب میرے والد بوڑھے اور میں میچور ہوگیا تو میں نے ان کے ساتھ مکالمے شروع کر دیے‘ میں نے ان سے ایک دن پوچھا ’’آپ نے ہمارے بچپن میں سائیکل‘ ویڈیو گیمز‘ ریڈیو‘ ٹیپ ریکارڈ‘ ٹی وی‘ فلم اور کتابوں کو جرم بنا رکھا تھا‘ آپ اسے کنجر خانہ کہتے تھے لیکن یہ کنجر خانہ اب ہر گھر بلکہ ہر روم میں موجود ہے‘ میں اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے پر مجبور کرتا ہوں‘ میوزک پورا خاندان سنتا ہے اور ٹی وی اب آپ کے اپنے کمرے میں بھی موجود ہے‘ آپ سارا دن یہ دیکھتے رہتے ہیں‘ آپ کی مار کا پھر کیا فائدہ ہوا؟ ‘‘وہ ہنس کر بولے ’’یہ چیزیں اس زمانے میں ہمیں واقعی واہیات لگتی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ معاشرے کا حصہ بن گئیں‘ ہم غلط تھے یا آپ لوگ‘ یہ فیصلہ میرے لیے مشکل ہے‘‘ والد کے جواب نے مجھے مزید کنفیوز کر دیا‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کے والد کو بھی آپ کی عادتوں پر اعتراض تھا‘‘ انہوں نے ہنس کر جواب دیا’’ہاںہمارے والد شلوار کے خلاف تھے‘ اس زمانے میں تہبند باندھا جاتا تھا‘

میں نے شلوار سلوا لی جس کے بعد والد سے ٹھیک ٹھاک پھینٹا لگا‘ اسی طرح پراٹھا کھانا‘ ریستوران پر جانا‘ چائے پینا‘ سالم تانگا کرانا‘ کمیوں کی چارپائی پر بیٹھنا‘ بیٹھ کر پائوں ہلانا‘ بڑوں کے ساتھ حقہ پینا‘ ماں باپ یا چچائوں کے ساتھ بحث کرنا یا دکانوں سے میٹھی چیزیں خریدنا ہمارے زمانے کے جرائم تھے اور ہمیں اس پر مار پڑتی تھی‘‘میں نے ان سے پوچھا اور کیا آپ کے والد کو بھی ان کے والد سے مار پڑتی تھی‘ والد نے بتایا’’ہمارے والد کے زمانے میں ڈھور ڈنگروں کو وقت پر چارہ نہ دینا‘ کھول کر سائے میں نہ باندھنا‘ کھیتوں کو پانی نہ دینا‘ فصل نہ کاٹنا اور جانوروں کو دوسروں کے کھیتوں میں جانے سے نہ روکنا جرم تھا اورانہیں ان جرائم پر اپنے والد سے باقاعدہ ڈنڈوں سے مار پڑتی تھی‘‘ میرے والد نے بتایا ’’میرے دادا کے نزدیک رنگ دار کپڑے‘ نیلا تہبند‘ بیوی کے لیے کپڑے خریدنا‘ بچے کو اٹھانا اور دودھ کو پھونک سے ٹھنڈا کرنا بھی جرم تھا‘ ہمارے والد کو ان جرائم پر بھی مار پڑتی تھی لہٰذا یہ کسی ایک نسل کا المیہ نہیں‘ آپ جوں جوںپیچھے چلتے جائو گے آپ کو ہر نسل مار کھاتی نظر آئے گی‘‘۔

میں نے والد کے ساتھ مکالمے میں محسوس کیا دنیا کی ہر نسل والدین کی نظر میں جنز ذی‘ الفا یا زومر ہوتی ہے اور ہر نئی نسل پرائی نسل کو بومر سمجھتی ہے اور یہ سوچ اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک نئی نسل خود والد یا والدہ نہیں بنتی‘ آپ یقین کریں مجھے میرا والد اس وقت سمجھ آیا تھا جب میں خود باپ بنا‘ میرے بچے جوں جوں بڑے ہوتے گئے مجھے اپنا والد سمجھ آتا گیا‘ میں آج اپنے والد کو جتنا سمجھتا ہوں اتنا میں ان کی زندگی میں انہیں نہیں سمجھ سکا‘ میں یہ بھی سمجھ گیا دنیا میں جتنے بھی نئے ٹرینڈز یا چیزیں آتی ہیں پرانی نسل انہیں فوری طور پر سمجھ نہیں پاتی لہٰذا یہ ان کی مزاحمت شروع کر دیتی ہے‘ نئی نسل کو ان کی افادیت کا اندازہ ہوتا ہے چناں چہ یہ جدت پر زور دیتے ہیں اور یوں دونوں نسلوں کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے اور یہ جنگ قیامت تک جاری رہے گی‘ زورین نظامانی کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ یہ نئی نسل ہے اور اس نسل کی سوچ ہم سے اتنی ہی مختلف ہے جتنی ہماری سوچ ہمارے والدین سے مختلف تھی لہٰذا ہم نے اس کے ساتھ جنگ چھیڑ لی جب کہ یہ غلط نہیں کہہ رہا اور ہمیں چند برس بعد ذورین نظامانی کے ان تمام اعتراضات کو ماننا پڑے گا بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے بزرگ ہماری سوچ کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ‘ یہ حقیقت ہے اور یہ حقیقت بہرحال اپنے آپ کو منوا لے گی چناں چہ میں سمجھتا ہوں ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا بس ہم بومرز اس کی بات نہیں سمجھ پا رہے بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے بزرگوں نے ہماری سوچ اور ہماری ٹیکنالوجی کو نہیں سمجھا تھا ‘ بات صرف اتنی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…