بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

آئل اینڈ سپیس وار

datetime 5  فروری‬‮  2026 |

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء کو ملی‘ ہم لوگ اس وقت شیراز میں تھے‘

ہمارا گائیڈحمید ہمدانی بوعلی سینا کے شہر ہمدان سے تعلق رکھتا تھا‘ وہ مہربان‘ شائستہ اور بہت اچھا میزبان تھا‘ اس نے بتایاہمدان میں تاجروں نے ہڑتال اور مظاہرے شروع کر دیے ہیں‘ اس کا کہنا تھا شیراز کے تاجر بھی دکانیں بند کر رہے ہیں چناں چہ ہمیں آج شاید سڑکوں پر افراتفری نظر آئے‘ اس کا کہنا تھا لیکن پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں‘ ایران میں ہر سال چھ ماہ بعد اس قسم کا احتجاج ہوتا رہتا ہے تاہم ایرانی کسی غیرملکی یا سیاح کو تنگ نہیں کرتے‘ آپ محفوظ ہیں‘ ہم مطمئن ہو گئے ‘ ہمیں اس وقت تک شہر میں کسی قسم کی افراتفری نظر نہیں آئی تھی‘ میری اس شام واپسی کی فلائیٹ تھی‘ میں شیراز ائیرپورٹ پر گیا وہاں بھی حالات معمول کے مطابق تھے‘ میں پاکستان واپس آ گیا جب کہ ہمارا گروپ مشہد چلا گیا‘ یہ لوگ دو جنوری کو مشہد سے تہران اور تین جنوری کو تہران سے لاہور واپس آ گئے‘ اس دوران مظاہروں اور فسادات کی خبریں آنے لگیں‘ میں بہت پریشان تھا مگر گروپ کو کسی جگہ افراتفری دکھائی نہیں دی جب کہ پوری دنیا کا میڈیا ایران کے فسادات کی خبروں سے بھرا ہوا تھا‘ بہرحال قصہ مختصر ہمارے لوگ ایران میں لاک ڈائون سے پہلے واپس آ گئے‘ گائیڈ حمید ہمدانی نے بعدازاں بتایا ایران کے حالات اچانک خراب ہو گئے تھے‘ پورے ملک میں مظاہرے اور فسادات ہو گئے جن میں لوگ مارے بھی جا رہے ہیں‘ وہ بار بار کہہ رہا تھا آپ ہمارے لیے دعا کریں۔ میں بھی برادراسلامی ملک کے لیے بہت پریشان تھا‘ ایران افغانستان کی طرح ہمارے بارڈر پر ہے‘ اس کے حالات کی خرابی پاکستان کو لازماً متاثر کرے گی‘ بہرحال آنے والے دنوں میں ایران کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے‘ 400شہروں میں فسادات ہوئے جن میں تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے‘460سرکاری عمارتیںاور700 بینک جلا دیے گئے‘ہزاروںگاڑیاں تباہ ہو گئیں جب کہ61مساجد کو بھی آگ لگا دی گئی‘ یہ صورت حال اپنی جگہ لیکن امریکا اور اسرائیل کا مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہوجانا حیران کن تھا‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر براہ راست حملے کی دھمکی تک دے دی تھی‘ اسرائیل نے بھی انٹرنیشنل فلائیٹس بند کر کے جنگی مشقیں شروع کر دیں‘

پاکستان‘ قطر اور یو اے ای بھی ایکٹو ہو گئے یوں عام تاجروں کے مظاہروں نے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر لی‘ آج تازہ ترین حالات یہ ہیں امریکا کا بڑا جنگی بیڑہ یو ایس ایس ابراہام لنکن عمان کے قریب کھڑا ہے‘ اس میں چھ ہزار جوان اور افسر ہیں‘اس پر تین خوف ناک اور جدید ترین میزائل سسٹم نصب ہیں‘ آبدوزوں کا پورا فلیٹ بھی موجود ہے اور فضا میں امریکی سیٹلائیٹ ایران پر فوکس کر کے کھڑے ہیں‘ قطر میں امریکی بیس بھی ایکٹو ہے‘ اس میں 10 ہزار امریکی فوجی اور جدید ترین جنگی سازوسامان موجود ہے جس میں ایف 35 جنگی جہاز بھی شامل ہیں‘ دوسری طرف اسرائیل کی فوج بھی بڑے حملے کے لیے تیار کھڑی ہے‘ ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں‘ امریکی تجزیہ کار ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کے بارے میں دنیا کو مطلع کر رہے ہیں‘ ان کا خیال ہے امریکا ایران کے تمام سگنلز معطل کرے گا جس کے بعد پورے ملک کی کمیونی کیشن کریش کر جائے گی اور یہ اس کے بعد پاس داران کی ساری قیادت اور سنٹرز اڑا دے گا‘ یہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان پر بھی حملہ کرے گا‘ یہ انہیں شہید کر دے گا یا پھر وینزویلا کے صدرنکولس مادورواور اس کی اہلیہ کی طرح انہیں اغواء کر کے امریکا لے جائے گا ‘یہ حکومت اور پارلیمنٹ کو بھی اڑا دے گا اور ایران کی جوہری سائیٹس کے اندر گھس کر انہیں بھی مکمل برباد کر دے گا جس کے بعد ایران پر امریکا کا قبضہ ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

امریکا یہ کر سکتا ہے‘یہ سپر پاور ہے‘ بدمست ہاتھی ہے‘ یہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے امریکا ان حملوں سے حاصل کیا کرنا چاہتا ہے؟ اور ایران امریکا کے لیے اتنا لازم کیوں ہے؟ اس کی وجہ بہت دل چسپ ہے‘ دنیا میں اس وقت تیل پیدا کرنے والے 8 بڑے ملک ہیں‘ وینزویلا 303 ارب بیرل تیل کے ساتھ پہلے‘ سعودی عرب 267 ارب بیرل کے ساتھ دوسرے‘ ایران 209 ارب بیرل کے ساتھ تیسرے‘ کینیڈا 170 ارب بیرل کے ساتھ چوتھے‘ یو اے ای 113 ارب بیرل کے ساتھ پانچویں‘ کویت 102 ارب بیرل کے ساتھ چھٹے‘ روس 80 ارب بیرل کے ساتھ ساتویں اور امریکا 75 ارب بیرل کے ساتھ آٹھویں نمبر پرآتا ہے‘ یہ ایک حقیقت ہے جب کہ دوسری حقیقت تیل استعمال کرنے والے ملک ہیں‘ امریکا دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرنے والا ملک ہے‘ یہ روزانہ دو کروڑ بیرل تیل استعمال کرتا ہے‘ چین ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بیرل کے ساتھ دوسرے‘ بھارت 50 لاکھ بیرل کے ساتھ تیسرے‘ جاپان 47 لاکھ بیرل کے ساتھ چوتھے‘ روس 38 لاکھ بیرل کے ساتھ پانچویں اور سائوتھ کوریا 25 لاکھ بیرل روزانہ کے ساتھ چھٹے نمبر پر آتا ہے‘یہ اعدادوشمار ثابت کرتے ہیں امریکا اور چین دونوں کی معیشت تیل پر چل رہی ہے‘ تیل دنیا کا سب سے بڑا معاشی ٹول ہے‘

یہ اگر کسی ملک کو دستیاب ہے تووہ معیشت‘ ٹیکنالوجی اور دفاع میں سپر پاور بن جائے گا اور چین بڑی تیزی سے تیل کی اس دولت پر قابض ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ملک وینزویلا‘ تیسرے بڑے ذخیرے کے مالک ایران‘ چوتھے ذخیرے کینیڈا اور چھٹے ذخیرے روس کا بزنس پارٹنر اور دوست بن چکا ہے اور یہ امریکا کے لیے قابل قبول نہیں چناں چہ اس نے تیل کے تمام ذخائر قابو کرنے شروع کر دیے ہیں‘ امریکا نے تین جنوری2026ء کو وینزویلا پر حملہ کیا اور صدرنکولس مادورواور اس کی اہلیہ سیلیا کو اٹھا کر نیویارک لے گیا اور یہ وہاں اپنی مرضی کی حکومت لے آیا‘ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے بعدوینزویلا کے تیل کے تمام ذخیرے امریکی آئل کمپنیوں میں بانٹ دیے اور یہ اب اپنی مرضی سے تیل بیچ رہے ہیں‘ ایران وینزویلا کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا ٹارگٹ ہے‘ یہ ایرانی تیل پر بھی قبضہ کرنا چاہتا ہے جس کے بعد پیچھے صرف روس رہ جائے گا‘ ٹرمپ اسے ایک بڑی اچھی ڈیل دے رہا ہے‘ یہ اسے آفر کر رہا ہے تم یوکرائن کے مزید جتنے حصوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہو کر لو لیکن اس کے بعد جنگ بند کر دو ‘میں اس کے بدلے میں تمہیں یورپ کی آئل اور گیس کی پوری مارکیٹ دے دوں گا بس صرف ایک شرط ہے تم نے چین کو آئل نہیں دینا‘ روس اس پر راضی ہو چکا ہے‘ یہ اگلے دو ماہ میں یوکرائن کے مزید علاقوں پر قبضے کے بعد جنگ بند کر دے گا جس کے بعد روس سے پابندیاں اٹھ جائیں گی اور اسے یورپ کی پوری مارکیٹ مل جائے گی جب کہ تیل کے باقی تمام ذخائر امریکا کے ہاتھ میں آ جائیں گے۔ بھارت تیل درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کو مئی میں پاکستان کے ہاتھوں ذلیل کرا چکا ہے‘ نریندر مودی آٹھ ماہ جوتے کھا کر سمجھ دار ہو چکا ہے چناں چہ یہ بھی اب روس اور ایران سے تیل نہیں خرید رہا‘ ٹرمپ نے ’’گڈ بوائے‘‘ بننے کے بعد مودی سے تعلقات ٹھیک کر لیے ہیں بس اب صرف ایران بچا ہے‘ امریکا جس دن اس پر قابض ہو جائے گا پوری دنیا کا تیل اس دن اس کے ہاتھ میں ہو گا اور یہ اس کے بعد چین کو بوند بوند ے کے لیے ترسا دے گا‘ یہ اس کی معیشت اور دفاع کو بھی کنٹرول کرے گا چناں چہ کہانی صرف تیل کی ہے۔

میں اب آپ کے سامنے مستقبل کا ایک اور سیناریو بھی رکھتا ہوں‘ دنیا کے اگلے چھ سال بہت اہم ہیں‘ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس میں 25 ہزار پروفیشنلز کام کر رہے ہیں‘ یہ اس سال ان کی تعداد لاکھ تک بڑھانا چاہتا ہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ 2026ء کے بجٹ میں سپیس ایکس کو اربوں ڈالر دے رہا ہے‘ یہ رقم مجموعی طور پر 300 ارب ڈالر ہو گی اور ایلون مسک اس سے خلاء میں 600 نئے سیٹلائیٹ فکس کرے گا جو دنیا بھر میں ائیربارن ٹارگٹس ٹریک کریں گے‘ ایلون مسک نے 2025ء میں سپیس فورس بھی بنا دی ہے‘ یہ پراجیکٹ 2029ء میں مکمل ہو گا اور ایلون مسک اگلے سال تک پوری دنیا کا انٹرنیٹ بھی اپنے کنٹرول میں لے لے گا جس کے بعد دنیا جہاں کے فائیٹر جیٹس اور میزائل فارغ ہو جائیں گے‘ امریکا خلاء سے کسی بھی ملک کے تمام سگنلز جام کر کے پورا ملک بند کر دے گا اور کسی بھی جہاز اور میزائل کا رخ موڑ دے گا‘ دوسرا یہ خلاء سے لیزر گن کے ذریعے کوئی بھی ٹارگٹ اڑا دے گا چناں چہ اس کے بعد ائیرفورس کی ضرورت رہے گی اور نہ میزائلوں کی‘ بری فوج 20 سال سے پولیس بن چکی ہے‘

یہ غیرضروری ہو چکی ہے جب کہ ائیرفورس اور میزائل فورس اگلے چھ سال میں ’’وائیپ آئوٹ‘‘ ہو جائے گی‘ اب سوال یہ ہے چین اس سیناریو میں کہاں کھڑا ہے؟ چین کو اب سپیس کی اہمیت کا اندازہ ہورہا ہے لہٰذا یہ بڑی تیزی سے اس میںسرمایہ کاری کر رہا ہے جب کہ امریکا اس کا راستہ روک کر کھڑا ہے‘ یہ تیل بند کر کے چین کی انڈسٹری کو دھچکا دینا چاہتا ہے تاکہ چین کی فیکٹریاں رک جائیں‘ اس سے ایکسپورٹ کم ہوجائیں گی‘ چین میں بے روزگاری‘ کساد بازاری اور سیاسی افراتفری پھیلے گی اور اس کے نتیجے میں یہ سپیس پر توجہ نہیں دے سکے گا اور یوں امریکا اگلے چھ برس میں سپیس پر قابض ہو جائے گا جس کے بعد چین جے 35 بنائے یا جے 135‘ یہ پی ایل 17 بنا لے یا 170 کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ دنیا کا صرف ایک ایس ایچ او ہو گا اور اس کا نام امریکا ہو گاچناں چہ یہ صرف آئل اور سپیس کی جنگ ہے جب کہ ہم یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی لڑائی سمجھ رہے ہیں‘ یہ یاد رکھیں دنیا کے حالات ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے خراب نہیں ہو رہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ ان حالات کی پیداوار ہے‘ امریکا کو مشکل فیصلوں کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص چاہیے تھا اور یہ اسے لے کر آ گیا اور یہ اب وہ کام کر رہا ہے جو کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا‘ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے لیے ناگزیر تھا‘ یہ آ چکا ہے اور یہ سپیس اورتیل کو امریکا کی مٹھی میں دے کر رہے گا‘ یہ ہے ساری کہانی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…