اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)امریکا میں حال ہی میں کی گئی ایک طبی تحقیق کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں جوان افراد میں کینسر کی چھ اقسام تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کے محققین نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ کم از کم پانچ ممالک میں یہ کینسر کی چھ اقسام اب معمر افراد کی بجائے 50 سال سے کم عمر افراد میں زیادہ تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ تحقیق میں دو بڑے عالمی کینسر ڈیٹا بیسز کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں کینسر کے کیسز میں اضافہ کس حد تک ہوا ہے۔نتائج سے پتا چلا کہ 2000 سے 2017 کے دوران دس ممالک میں 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کی 13 اقسام کے کیسز میں اضافہ ہوا۔ ان میں سے چھ اقسام — آنتوں، لبلبے، مثانے، گردوں، خون اور سرویکل کینسر — پانچ ممالک میں معمر افراد کے مقابلے میں نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ خاص طور پر آنتوں کا کینسر 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کے تقریباً 10 فیصد کیسز کا سبب بن رہا ہے۔
محققین نے پیش گوئی کی ہے کہ 2030 تک 20 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں آنتوں کے کینسر کی شرح 90 فیصد تک اور 35 سے 49 سال کی عمر کے افراد میں 46 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں کینسر کے بڑھنے کی ایک بڑی وجہ موٹاپا، مغربی طرز کی غذا اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی ہے۔یہ تحقیق جرنل ملٹری میڈیکل ریسرچ میں شائع ہوئی ہے اور ماہرین نے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات کو مؤثر طریقے سے سمجھا جا سکے۔



















































