اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت نے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے 300 ارب روپے کے پروگرام کا اعلان کیا ہے،
جس کے تحت اہل کاروباری افراد کو 10 کروڑ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کے مطابق اس منصوبے کا مقصد کاروباری طبقے کو مالی سہولت دینا اور صوبے میں صنعتی ترقی کو تیز کرنا ہے۔21 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس لاہور میں پیسک ہاؤس، ڈیوس روڈ پر منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کی، جس میں کاروباری فنانسنگ اور صنعتی ترقی سے متعلق مختلف امور زیرِ غور آئے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ پروگرام کے تحت قرضوں کی مختلف حدود کے لیے الگ الگ شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 10 کروڑ روپے تک کے قرضے بلاسود فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 10 کروڑ سے ایک ارب روپے تک کے قرضوں پر 3 فیصد اور ایک ارب سے 5 ارب روپے تک کے قرضوں پر 5 فیصد مارک اپ وصول کیا جائے گا۔صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی آسان کاروبار فنانس اسکیم کے تحت بھی اہل کاروباری افراد کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ان سہولتوں کے ذریعے کاروباری افراد کو سرمایہ حاصل کرنے اور اپنے منصوبوں کو وسعت دینے میں مدد ملنے کی توقع ہے، تاہم اس کا انحصار اسکیم کی شرائط اور عملی نفاذ پر ہوگا۔اجلاس میں صوبے کی 24 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اس اقدام کا مقصد صنعتی علاقوں میں ضروری سہولتوں کو بہتر بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق منڈی بہاؤالدین میں پہلی سمال انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی جا چکی ہے، جہاں صنعتی پلاٹوں کے حصول کا پورا عمل آن لائن رکھنے کا بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے صنعتی پلاٹوں میں 20 فیصد کوٹہ مختص کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اجلاس کے دوران ملازمین کی پنشن سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ چوہدری شافع حسین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے کو اپیل کے ذریعے چیلنج کیا جائے گا۔



















































