کراچی(این این آئی) نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے وضاحت کی ہے کہ والدہ کا شناختی کارڈ موجود نہ ہونے کی صورت میں
بچے کے ب فارم کے اجرا کا طریقہ اس بات پر منحصر ہے کہ والدہ کا شناختی کارڈ پہلے جاری ہوچکا ہے یا کبھی بنا ہی نہیں۔نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر والدہ کا شناختی کارڈ بن چکا ہے لیکن اس وقت ان کے پاس موجود نہیں تو بچے کے ب فارم کے اجرا میں لازماً کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں شناختی کارڈ نمبر یا بائیومیٹرک تصدیق، یعنی فنگر پرنٹ کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر والدہ کا شناختی کارڈ کبھی جاری ہی نہیں ہوا تو بچے کے ب فارم کے اجرا میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، کیونکہ اس عمل کے لیے خاندانی ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کا مکمل ہونا ضروری ہے۔
نادرا حکام کے مطابق بعض صورتوں میں والدہ کا شناختی کارڈ نہ بننے کے باعث والدین کی شادی کا اندراج بھی ریکارڈ میں موجود نہیں ہوتا اور خاندان کا شناختی نمبر بھی جاری نہیں ہوا ہوتا، جس سے بچے کی رجسٹریشن میں دشواری پیش آسکتی ہے۔



















































