منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سرگودھا میں صغیر نامی شخص نے اپنی بیوی کی شادی اپنے ملازم کیساتھ رجسٹرڈ کروا دی

datetime 10  جولائی  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی اعزاز سید نے اپنے وی لاگ میں سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون پٹواری کے مبینہ جعلی نکاح اور دستاویزات کے معاملے سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں۔

ان کے مطابق خاتون نے اپریل 2024 میں اپنی مرضی سے صغیر احمد نامی شخص سے شادی کی، تاہم شوہر نے نکاح کو سرکاری طور پر رجسٹرڈ کرانے سے گریز کیا۔ خاتون مسلسل شادی کی رجسٹریشن کا مطالبہ کرتی رہی تاکہ آئندہ اپنی بیٹی کی پیدائش کا اندراج بھی قانونی طور پر کرا سکے، لیکن اس کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔اعزاز سید کے مطابق جنوری 2025 میں بچی کی پیدائش کے بعد بھی نکاح رجسٹر نہ ہونے پر خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو آن لائن شکایت بھیجی، جس پر متعلقہ حکام کو تحقیقات کی ہدایت جاری کی گئی۔ انکوائری کے دوران معاملہ ڈی ایس پی کوٹ مومن تک پہنچا۔وی لاگ میں دعویٰ کیا گیا کہ تفتیش کے دوران صغیر احمد اور اس کے بھائی، ایڈووکیٹ تنویر، نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ خاتون ان کی بیوی نہیں اور نہ ہی بچی ان کی اولاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون پہلے ہی کسی اور شخص کی اہلیہ ہے۔ اس دعوے کے حق میں ایک مبینہ نکاح نامہ اور بچی کی رجسٹریشن سے متعلق دستاویزات بھی پیش کیے گئے، جن میں نکاح راولپنڈی اور بچی کی پیدائش کراچی ظاہر کی گئی تھی۔اعزاز سید کے مطابق بعد ازاں دونوں بھائیوں نے بھلوال میں ایک اور مقدمہ درج کرایا،

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خاتون ایک دوسرے شخص کے ساتھ چلی گئی ہے۔ بتایا گیا کہ جس شخص کا نام مقدمے میں شامل کیا گیا وہ مختار نامی ملازم ہے، اور مبینہ طور پر اسی کے ذریعے جعلی نکاح کی دستاویزات تیار کی گئیں۔وی لاگ کے مطابق متاثرہ خاتون کی وکیل نے الزام عائد کیا کہ چونکہ مرکزی ملزم پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے، اس لیے مقامی وکلا کی بڑی تعداد نے خاتون کا مقدمہ لینے سے انکار کر دیا، جبکہ عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی بھی کوششیں کی جاتی رہیں۔اعزاز سید کا کہنا ہے کہ خاتون نے پیش کیے گئے تمام نکاح ناموں اور دیگر ریکارڈ کو جعلی قرار دیا، جس پر ڈی ایس پی نے معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی تجویز دی۔ ان کے بقول اسی دوران صغیر احمد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ خاتون اس کی اہلیہ اور بچی اس کی بیٹی ہے۔صحافی کے مطابق اس پیش رفت کے بعد صغیر احمد اور ایڈووکیٹ تنویر کے خلاف تھانہ کوٹ مومن میں مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ معاملے کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…