پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایکنک نے لاہور ، بہاولنگر موٹروے کی منظوری دیدی

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے ایکنک اجلاس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 16 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی،

جن کی مجموعی مالیت تقریباً 1.15 کھرب روپے ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق منظور شدہ منصوبوں میں لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے، تربیلا پانچویں توسیعی منصوبہ، خوازہ خیلہ، بشام ایکسپریس وے سمیت توانائی، آبپاشی، تعلیم اور غربت کے خاتمے سے متعلق متعدد اسکیمیں شامل ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کی لاگت میں مجموعی طور پر تقریباً 320 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق اضافی اخراجات کی بڑی وجوہات منصوبوں میں تاخیر اور تعمیراتی و دیگر لاگت میں ہونے والا اضافہ ہیں۔

ایکنک نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے کے لیے 407 ارب روپے کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری دی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں لاہور رنگ روڈ سے راجہ جنگ انٹرچینج تک 18.5 کلومیٹر سڑک تعمیر کی جائے گی، جس پر تقریباً 49 ارب روپے خرچ ہوں گے اور اس کی فنڈنگ وفاقی حکومت کرے گی۔

فیصلے کے مطابق موٹروے کی 295 کلومیٹر کی اصل الائنمنٹ برقرار رکھی جائے گی۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قابل عمل حصوں کے لیے این ایچ اے اپنے وسائل سے وائبلٹی گیپ فنڈنگ فراہم کرے گا، جبکہ دیگر حصوں کے لیے پنجاب حکومت، عالمی مالیاتی اداروں یا وفاقی وسائل سمیت مختلف ذرائع سے مالی معاونت حاصل کی جائے گی۔

اجلاس میں تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت بھی منظور کرلی گئی۔ اس منصوبے کی لاگت میں 282 فیصد اضافے کے بعد اسے 316 ارب روپے میں منظور کیا گیا، جبکہ اس کا ابتدائی تخمینہ 82 ارب روپے تھا۔

واضح رہے کہ منصوبے کی منظوری سے قبل سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں اس کے انتظامی معاملات، شفافیت اور نگرانی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ منصوبے کے ڈاؤن اسٹریم کوفر ڈیم کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سیلاب نہیں بلکہ ڈیزائن میں تبدیلی، نگرانی کی کمی اور انتظامی امور میں تاخیر تھی۔

وزارت خزانہ نے بھی منصوبے کی لاگت میں 282 فیصد اضافے کی وجوہات اور عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی فنانسنگ کی واپسی کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت طلب کی تھی۔

ایکنک نے 48 کلومیٹر طویل خوازہ خیلہ، بشام ایکسپریس وے کی نظرثانی شدہ لاگت 116.6 ارب روپے مقرر کرنے کی منظوری دی، جو ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں 37 ارب روپے یعنی تقریباً 47 فیصد زیادہ ہے۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر سے منسلک کرنے والے بین الصوبائی رابطے کے منصوبے کے لیے 29 ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی۔

اس کے علاوہ لاہور میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام کے لیے 6.56 ارب روپے جبکہ جنوبی پنجاب کے 10 اضلاع میں غربت کے خاتمے کے پروگرام کے لیے 7.29 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ ایکنک نے فل برائٹ اسکالرشپ پروگرام کے لیے بھی 10.16 ارب روپے کی منظوری دے دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…