بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فضائیہ کا جدید طیارہ اچانک غائب ہونے کی اطلاعات

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فضائیہ کے ایک اہم طیارے کے ریڈار سے اچانک غائب ہونے کی اطلاعات نے خطے میں تشویش پیدا کردی ہے،

تاہم واقعے سے متعلق تاحال کوئی حتمی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا میں امریکی فضائیہ کے ای تھری بی سینٹری طیارے کی پرواز میں اچانک تبدیلی دیکھی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ طیارے کی جانب سے ہنگامی صورتحال کا سگنل جاری کیے جانے کے بعد اس کا ریڈار رابطہ منقطع ہوگیا۔رپورٹس کے مطابق طیارے کی آخری معلوم پوزیشن آبنائے ہرمز کے قریب تھی، جہاں وہ 19 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر پرواز کررہا تھا۔

تاہم اب تک امریکی حکام کی جانب سے طیارے کے گرائے جانے، تباہ ہونے یا کسی حملے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے امکان ظاہر کیا گیا کہ طیارے کو ایران نے نشانہ بنایا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس حوالے سے کسی طیارے کے مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی۔ای تھری بی سینٹری بوئنگ کا تیار کردہ ایک جدید فضائی نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول طیارہ ہے، جسے امریکی فضائیہ میں اہم دفاعی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ فضائی کارروائیوں کے دوران ایک متحرک کمانڈ سینٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتا ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طیارے نے ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کرنے والا عالمی کوڈ 7700 فعال کیا، جس کے بعد اس کی پرواز میں تیزی سے تبدیلی آئی۔ طیارہ تقریباً 22 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آتے ہوئے 17 ہزار 700 فٹ تک پہنچا۔اس دوران طیارے کے پائلٹس نے اپنا رخ تبدیل کیا اور خلیج عمان و آبنائے ہرمز سے دور جزیرہ نما عرب کے اندرونی فضائی راستے کی جانب پرواز شروع کردی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ قطر میں موجود امریکی فضائی اڈے سے روانہ ہونے والے فضائی ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکرز بھی متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں پرواز کرتے دیکھے گئے، جس سے یہ قیاس کیا گیا کہ وہ ممکنہ طور پر مذکورہ طیارے کی معاونت کے لیے بھیجے گئے تھے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر امریکی طیارے کو ایران کی جانب سے مار گرائے جانے کے دعووں کو دفاعی ماہرین نے مسترد کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دستیاب معلومات کی بنیاد پر طیارے کے تباہ ہونے یا کسی حملے کا نشانہ بننے کے دعوے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…