اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور عمارہ اطہر کی ہدایت پر شہر کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر خصوصی ٹریفک ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔
ٹریفک حکام کے مطابق ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے والوں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ چیکنگ مہم کا مقصد صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے چالان کرنا نہیں بلکہ موٹرسائیکل سواروں کو ٹریفک حادثات میں ہونے والی سنگین چوٹوں اور جانی نقصان سے بچانا بھی ہے۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہیلمٹ سے متعلق قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔حکام کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال لاہور میں 211 مہلک ٹریفک حادثات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں 127 موٹرسائیکل سوار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں ہونے والے مجموعی جان لیوا حادثات کے متاثرین میں تقریباً 72 فیصد موٹرسائیکل سوار شامل تھے۔ٹریفک ماہرین کے مطابق موٹرسائیکل حادثات میں سر پر لگنے والی شدید چوٹ اکثر موت کا سبب بن جاتی ہے، جس کے باعث ہیلمٹ کا استعمال انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنانے کیلئے جاری مہم کے بعد سر کی چوٹوں کے واقعات میں تقریباً 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔لاہور میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد 82 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جن میں 57 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلیں شامل ہیں۔ موٹرسائیکلوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ٹریفک حکام نے ہیلمٹ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں، موٹرسائیکل چلاتے وقت معیاری ہیلمٹ لازمی پہنیں اور دیگر ٹریفک قوانین پر بھی مکمل عمل کریں۔



















































