اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے ایلیمنٹری سکول ٹیچرز کی ترقی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب سروس ٹربیونل اور محکمہ تعلیم پنجاب کا 24 مئی 2023 کا فیصلہ منسوخ کردیا۔
عدالت عظمیٰ نے ایلیمنٹری سکول ٹیچر محمد شفیق کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں ترقی کے ساتھ اس سے وابستہ تمام سابقہ مراعات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ایلیمنٹری سکول ٹیچرز کو سنیارٹی اور اہلیت کے معیار پر 50 فیصد ترقی کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملازمین کی ترقی یا سنیارٹی کے معاملے میں قواعد و ضوابط کی غیر واضح تشریح سے انہیں نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت سے بہترین اور مثالی طرز حکمرانی کی توقع کی جاتی ہے، جبکہ ملازمین کی ترقی اور سنیارٹی سے متعلق غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا گڈ گورننس کے اصولوں کے خلاف ہے۔عدالت عظمیٰ نے مزید ریمارکس دیے کہ ایک مرتبہ ملازم کو ترقی دے دی جائے تو اسے واپس لینا بھی گڈ گورننس کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قوانین یا سروس رولز میں موجود کسی ابہام کا بوجھ ملازم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔کیس کی تفصیلات کے مطابق محمد شفیق، جو ایلیمنٹری سکول ٹیچر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، کو بی ایس 16 میں ترقی دی گئی تھی، تاہم محکمہ تعلیم پنجاب نے 24 مئی 2023 کو ان کی ترقی کا حکم واپس لے لیا تھا۔
محکمہ تعلیم نے ترقی واپس لینے کے لیے 2014 کے سروس رولز میں شامل ایک نوٹ کو بنیاد بنایا۔ محمد شفیق نے اس اقدام کے خلاف پنجاب سروس ٹربیونل سے رجوع کیا، تاہم ٹربیونل نے محکمہ تعلیم کے فیصلے کو برقرار رکھا۔بعد ازاں درخواست گزار نے پنجاب سروس ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ عدالت عظمیٰ نے کیس کا جائزہ لینے کے بعد ٹربیونل اور محکمہ تعلیم کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد شفیق کو ترقی سے متعلق تمام سابقہ مراعات دینے کا حکم جاری کردیا۔



















































