اسلام آباد (نیوز ڈیسک) صحافی غریدہ فاروقی نے سرحد یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار ولی کا تعلق چارسدہ سے ہے اور وہ پشتون ہیں۔
ان کے مطابق اگر کسی شخص کی اہلیہ یا خاندان کی کسی خاتون کے ساتھ سرعام بدسلوکی کی جائے تو فطری طور پر شدید غصہ پیدا ہوسکتا ہے، تاہم فوج میں نظم و ضبط اور احتساب کا نظام اس طرح کے اقدامات کو نظر انداز نہیں کرتا۔
ایکس پر جاری بیان میں غریدہ فاروقی نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار ولی کی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ سرحد یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دیتی ہیں، جہاں ان کا شعبے کے سربراہ کے ساتھ ایک معاملہ چل رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ متعلقہ سربراہ کے خلاف کارروائی کے بعد انہیں معطل کردیا گیا، جبکہ بعض طلبہ ان کی بحالی کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
غریدہ فاروقی کے مطابق احتجاج کے دوران جب طلبہ کی نظر ڈاکٹر آئینہ پر پڑی تو مبینہ طور پر ان کے ساتھ نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے اور بدسلوکی کی گئی۔ بعض اطلاعات میں خاتون کے ساتھ مبینہ دست درازی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ صورتحال کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا، جس پر لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار ولی یونیورسٹی پہنچے۔ اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
صحافی کے مطابق بہتر طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کے ذریعے باضابطہ شکایت درج کراتے اور قانونی راستہ اختیار کرتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی قریبی عزیز کے ساتھ ایسی صورتحال پیش آنے پر انسان جذباتی ردعمل دے سکتا ہے۔
غریدہ فاروقی نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ذاتی جذبات اپنی جگہ، لیکن فوجی اہلکاروں کے لیے نظم و ضبط اور احتساب کے تقاضے الگ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار ولی کو تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی یا سرکاری اسلحے کے غیر مناسب استعمال کے الزامات ثابت ہوگئے تو متعلقہ افسر کو محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی کا تعلق چارسدہ سے ہے، پشتون ہیں اور کسی بھی پشتون کی خاتون کو اگر سرِعام گالیاں دی جائیں دست درازی کی جائے گھسیٹا جائے بےعزت کیا جائے تو کیا ردعمل ہو گا ۔۔۔۔؟
میں نے اپنی گزشتی ٹویٹ میں بھی لکھا ہے کہ چاہئیے تو یہ تھا کہ لیفٹننٹ کرنل اسفند ایک باضابطہ… https://t.co/uC92D6OMwi
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) August 24, 2026



















































