بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی اور فوجی افسر کی فائرنگ کا واقعہ، عسکری ادارے نے ملوث فوجی افسر کو اپنی تحویل میں لے لیا

datetime 24  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں پیش آنے والے مبینہ ناخوشگوار واقعے کا عسکری ادارے نے نوٹس لے لیا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث فوجی افسر کو تحویل میں لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے مطابق اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں فوجی افسر کی ایک قریبی عزیزہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا۔ خاتون نے واقعے کے بعد متعلقہ افسر کو فون کرکے یونیورسٹی بلایا، جس کے بعد وہاں صورتحال کشیدہ ہوگئی اور ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی۔

حامد میر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ عسکری ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے افسر کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ معاملے کی حقائق پر مبنی تحقیقات کے لیے باقاعدہ انکوائری شروع کردی گئی ہے، جبکہ فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں افسر کے خلاف قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب صحافی طارق متین نے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطے پر تصدیق ہوئی کہ افسر کے ہمراہ موجود خاتون ادارے سے وابستہ ہیں اور ان کا ایک اسٹاف ممبر کے ساتھ تنازع کافی عرصے سے چلا آرہا تھا، جو اس روز شدت اختیار کرگیا۔

طارق متین کے مطابق سامنے آنے والی ویڈیو میں مبینہ طور پر افسر کی جانب سے فائرنگ کی کوشش بھی دکھائی دیتی ہے، تاہم ابتدائی طور پر گولی نہیں چل سکی، جس کے بعد ہوائی فائرنگ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ابتدائی فائرنگ کامیاب ہوجاتی تو صورتحال مزید سنگین ہوسکتی تھی۔

صحافی کے مطابق فوجی ضابطوں کے تحت عوامی مقامات پر اس نوعیت کے انداز میں اسلحہ لے کر چلنا قابلِ قبول نہیں، اسی لیے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ایک سابق فوجی افسر نے بھی معاملے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر الزامات تحقیقات میں ثابت ہوگئے تو ملوث افسر کے لیے ملازمت برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے ماضی میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آنے والے ایک واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک میجر کی جانب سے بچے پر تشدد کے معاملے میں بھی سخت محکمانہ کارروائی کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…