اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو ایک خفیہ سفارتی پیغام بھیجا، جس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف پر مذاکراتی عمل سے مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ پیغام جون میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایک ثالث کے ذریعے جے ڈی وینس تک پہنچایا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ مذکورہ دونوں شخصیات کی مذاکراتی عمل میں شمولیت مستقبل کے کسی مستقل معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے متعلق حساس معلومات کو مبینہ طور پر مالیاتی منڈیوں میں ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ الزام بھی سامنے آیا کہ جیرڈ کشنر مبینہ طور پر مذاکرات کی اندرونی تفصیلات اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو تک پہنچا رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے اندازہ ظاہر کیا کہ اس مبینہ معلوماتی فائدہ اٹھانے سے اربوں ڈالر کا مالی منفعت حاصل کی گئی، جس کی مالیت جون تک تقریباً 9 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی آزاد یا سرکاری ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی خفیہ پیغام امریکی حکام کو موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق رپورٹ میں شامل تمام دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔



















































