ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

پاک فوج اچھے اور برے طالبان میں فرق نہیں کر رہی، امریکی جنرل کا اعتراف

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے اعتراف کیا ہے کہ پاک فوج ’اچھے اور برے‘ طالبان میں کوئی فرق نہیں کر رہی، بڈھ بیر ایئر بیس کیمپ پر حملہ اس کا ثبوت ہے، پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔جنرل جان کیمبل نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو تحریری بیان میں بتایا ہے کہ پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق بامقصد کارروائیاں کر رہا ہے اور فوجی آپریشنز کے باعث غیرملکی دہشتگرد مشرقی اور شمالی افغانستان میں چلے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان امن معاہدے کیلئے تعاون کیا اور افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کا کردار اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت سے مسائل ہیں اور 2016 کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں مگر انتہاپسندی کا مشترکہ خطرہ دونوں ملکوں میں تعاون کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کو طالبان سے مصالحت سے قبل پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان نے جولائی میں افغان حکومت و طالبان کے درمیان مذاکرات کرائے مگر اس کے بعد افغانستان میں تسلسل کے ساتھ حملوں اور ملا عمر کی ہلاکت کی خبر عام ہونے پر صورتحال خراب ہوگئی، پاک افغان تعلقات میں دو قدم آگے کی جانب اٹھائے جاتے ہیں تو ایک پیچھے کی جانب اٹھ جاتا ہے۔جنرل جان کیمبل نے پاکستان کی انسداد دہشتگردی کیلئے کوششوں کو سراہا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حقانی نیٹ ورک و دیگر کیخلاف کارروائیوں کیلئے مزید دباو¿ ڈالنا ہوگا۔جنرل کیمبل نے بتایا حقانی نیٹ ورک افغانستان میں اتحادی افواج کیلیے سب سے بڑا خطرہ ہے

مزید پڑھئے:امریکہ کا ممکنہ مالیاتی بحران

اور اس کیخلاف افغان فورسز کے ساتھ مل کر آپریشنز کیے جا رہے ہیں جبکہ اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کی بھی ضرورت ہے، اس سے نیٹ ورک کی صلاحیتوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔جنرل کیمبل نے کہا کہ افغانستان میں داعش توقع کے برعکس بہت تیزی سے ابھری ہے اور اب یہ ایک آپریشنل خطرہ ہے مگر دہشتگرد گروپ ابھی باقاعدہ حملوں کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بڑے گروپوں یا بڑی تعداد میں طالبان نے داعش میں شمولیت اختیار نہیں کی، صرف افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے کچھ ارکان نے داعش میں شمولیت اختیار کی۔ انھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 9 صوبوں میں داعش موجود ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثرورسوخ ننگرہار میں ہے۔قندوز میں اسپتال پر فضائی حملے کے حوالے سے جان کیمبل نے کہا یہ حملہ غلطی تھی، اس کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔ جنرل کیمبل نے اوباما انتظامیہ کو دی گئی تجاویز کی تفصیل تو نہیں بتائی مگر اتنا بتایا کہ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ افغانستان میں کچھ زیادہ فوج رکھی جائے۔انھوں نے کہا فوج میں کمی سے دہشتگردوں کے حملے بڑھے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…