جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

ایک ہی دن میں مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ روپے کااضافہ، اسمبلرز کی طرح مقامی ڈیلرز کو بھی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے،وفاقی وزیر حماد اظہر سے مطالبہ

datetime 17  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ہمارا ایک مرتبہ پھر حکومت سے مطالبہ ہے کہ مقامی ڈیلرز کو استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے،جیسا کہ اسمبلرز کو اجازت ہے،ایسا نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی نئی پالیسی بنانا ہوگی،مقامی اسمبلرز حکومتی پالیسیوں کا غلط استعمال کررہے ہیں،صر ف آج کے دن مختلف گاڑیوں کی قیمتوں میں ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ روپے کااضافہ کردیا گیاہے جو کہ صارفین کے ساتھ زیادتی ہے۔

یہ بات آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر کے نام لکھے گئے ایک خط میںکہی گئی ہے۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے دستخط سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ آٹو موبائل انڈسٹری تین بڑے اسمبلرز کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور ای ڈی بی کے ساتھ ملکر پالیسیاں تیار کی جارہی ہیں،جس سے ملک کے عوام کو اپنی مرضی اور سکت کے مطابق گاڑی خریدنے سے محروم رکھا جارہا ہے۔ان اسمبلرز کی جانب سے گزشتہ 25سے30سال سے ایڈوانس بکنگ اور طویل ڈیلیوری کے عمل کے چکر میں گھسیٹا جارہا ہے اور مسلسل قیمتوں میں اضافہ اور مناپلی پر مبنی مارکیٹ اقدامات کئے جارہے ہیں۔مثال کے طور پر صنعت کو 50فیصد فروخت میں نقصان کا سامنا ہے۔انڈس موٹرز کی نئی ٹویوٹا یارس گاڑی ابھی مارکیٹ میں نہیں آئی لیکن انہوں نے دو مرتبہ قیمتیں بڑھا دی ہیں۔مجموعی طور پر ان تمام اسمبلرز نے گزشتہ 2سالوں میں اپنی قیمتیں دوگنا کردی ہیں حتی کہ جب ڈالر کی شرح150روپے سے کم آچکی تھی۔30سال بعد انہوں نے ایک بھی فعال پرزہ تیار نہیں کیا اور سی کے ڈی۔ ایس کے ڈی پارٹس پر لاکھوں ڈالرز خرچ کردئیے ہیں۔ان کے نقصانات خود ساختہ ہیں اور اس کا مقصد حکومت پر ٹیکسوں میں اضافے ،نئے پرزہ جات اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے دباؤ ڈالنا ہے۔گزشتہ سال سازوسامان کی سکیم پر پابندیوں کی وجہ سے 100ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ہم حکومت سے باربار مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ اسمبلرز کی طرح مقامی ڈیلرز کو بھی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے۔ایسا نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی نئی پالیسی بنانا ہوگی۔پالیسی کو از سرنو مرتب کرنا ہوگا اور تمام پاکستانی بزنس مین اور عوام کو اپنا روزگار کمانے کے برابری کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ اچھی کوالٹی اور پہنچ میں گاڑیاں خرید سکیں۔مقامی گاڑیوں کی کوالٹی اور حفاظتی معیار سب کے سامنے ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ملاقات کا موقع دیا جائے تاکہ مقامی اسمبلرز کی جانب سے حکومتی پالیسیوں کے غلط استعمال کی روک تھام میں آپ کو تجاویز اور معاونت فراہم کی جاسکے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جائے۔اس حوالے سے ان کے غلط اقدامات کو روکنا ہی واحد راستہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…