کراچی(این این آئی)گرمیوں کی آمد کے ساتھ مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ ان سے بچا ئوکے لیے مختلف گھریلو ٹوٹکے بھی عام ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق لہسن، وٹامن بی، کیلے سے پرہیز یا سٹرونیلا موم بتیاں جیسے طریقوں کی افادیت کے حق میں مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں۔ویسٹرن یونیورسٹی کی ماہرِ حیاتیات نوشا کیغوبادی کے مطابق صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے انڈوں کی نشوونما کے لیے خون سے حاصل ہونے والے غذائی اجزا درکار ہوتے ہیں، اسی لیے وہ انسانوں کو اپنا اہم شکار بناتی ہیں۔ماہرین کے مطابق مچھر اپنے شکار کی شناخت جسم کی حرارت، سانس سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور جسم کی قدرتی بو کے ذریعے کرتے ہیں۔ چونکہ ہر انسان کے جسم کی بو اس کے جینیاتی عوامل، جسمانی ساخت اور خوراک کے باعث مختلف ہوتی ہے، اس لیے بعض افراد مچھروں کو دوسروں کی نسبت زیادہ اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
نوشا کیغوبادی نے بتایا کہ کیلے کے استعمال سے متعلق بعض تحقیقات میں یہ دیکھا گیا کہ کچھ افراد کیلا کھانے کے بعد مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہو گئے، تاہم یہ اثر ہر شخص میں یکساں نہیں پایا گیا۔ اسی طرح لہسن اور وٹامن بی کے استعمال سے مچھروں کو دور رکھنے کے دعوں کے حق میں بھی کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں، البتہ چند مطالعات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ بیئر پینے کے بعد بعض افراد مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہو سکتے ہیں۔ماہرین نے کہا کہ مچھروں سے بچا کا سب سے مثر طریقہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہے، جن میں مکمل آستین والے کپڑے پہننا، جالی دار دروازوں اور کھڑکیوں کا استعمال، معیاری انسیکٹ ریپیلنٹ لگانا اور مچھر بھگانے والے برقی آلات کا استعمال شامل ہے۔ ان کے مطابق سٹرونیلا موم بتیوں کی مثریت کے حق میں بھی واضح سائنسی شواہد دستیاب نہیں ہیں۔ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ مچھر انسانوں کے لیے تکلیف دہ اور مختلف بیماریوں کے پھیلا کا سبب بنتے ہیں، تاہم قدرتی ماحولیاتی نظام میں ان کا بھی اہم کردار ہے۔ مچھروں کے لاروا پانی میں موجود نامیاتی مادوں اور جراثیم کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ بالغ مچھر ڈریگن فلائی، مچھلیوں اور دیگر جانداروں کی خوراک بنتے ہیں، جس سے قدرتی غذائی سلسلہ برقرار رہتا ہے۔



















































