منگل‬‮ ، 30 جون‬‮ 2026 

پاک فوج اچھے اور برے طالبان میں فرق نہیں کر رہی، امریکی جنرل کا اعتراف

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے اعتراف کیا ہے کہ پاک فوج ’اچھے اور برے‘ طالبان میں کوئی فرق نہیں کر رہی، بڈھ بیر ایئر بیس کیمپ پر حملہ اس کا ثبوت ہے، پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔جنرل جان کیمبل نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو تحریری بیان میں بتایا ہے کہ پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق بامقصد کارروائیاں کر رہا ہے اور فوجی آپریشنز کے باعث غیرملکی دہشتگرد مشرقی اور شمالی افغانستان میں چلے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان امن معاہدے کیلئے تعاون کیا اور افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کا کردار اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت سے مسائل ہیں اور 2016 کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں مگر انتہاپسندی کا مشترکہ خطرہ دونوں ملکوں میں تعاون کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کو طالبان سے مصالحت سے قبل پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان نے جولائی میں افغان حکومت و طالبان کے درمیان مذاکرات کرائے مگر اس کے بعد افغانستان میں تسلسل کے ساتھ حملوں اور ملا عمر کی ہلاکت کی خبر عام ہونے پر صورتحال خراب ہوگئی، پاک افغان تعلقات میں دو قدم آگے کی جانب اٹھائے جاتے ہیں تو ایک پیچھے کی جانب اٹھ جاتا ہے۔جنرل جان کیمبل نے پاکستان کی انسداد دہشتگردی کیلئے کوششوں کو سراہا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حقانی نیٹ ورک و دیگر کیخلاف کارروائیوں کیلئے مزید دباو¿ ڈالنا ہوگا۔جنرل کیمبل نے بتایا حقانی نیٹ ورک افغانستان میں اتحادی افواج کیلیے سب سے بڑا خطرہ ہے

مزید پڑھئے:امریکہ کا ممکنہ مالیاتی بحران

اور اس کیخلاف افغان فورسز کے ساتھ مل کر آپریشنز کیے جا رہے ہیں جبکہ اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کی بھی ضرورت ہے، اس سے نیٹ ورک کی صلاحیتوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔جنرل کیمبل نے کہا کہ افغانستان میں داعش توقع کے برعکس بہت تیزی سے ابھری ہے اور اب یہ ایک آپریشنل خطرہ ہے مگر دہشتگرد گروپ ابھی باقاعدہ حملوں کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بڑے گروپوں یا بڑی تعداد میں طالبان نے داعش میں شمولیت اختیار نہیں کی، صرف افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے کچھ ارکان نے داعش میں شمولیت اختیار کی۔ انھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 9 صوبوں میں داعش موجود ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثرورسوخ ننگرہار میں ہے۔قندوز میں اسپتال پر فضائی حملے کے حوالے سے جان کیمبل نے کہا یہ حملہ غلطی تھی، اس کی مکمل انکوائری کی جائے گی۔ جنرل کیمبل نے اوباما انتظامیہ کو دی گئی تجاویز کی تفصیل تو نہیں بتائی مگر اتنا بتایا کہ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ افغانستان میں کچھ زیادہ فوج رکھی جائے۔انھوں نے کہا فوج میں کمی سے دہشتگردوں کے حملے بڑھے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…