وزیر اعظم عمران خان عوام سے معافی مانگیں انسانی حقوق کمیشن نے مطالبہ کر دیا

  بدھ‬‮ 7 اپریل‬‮ 2021  |  11:58

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ، آن لائن) انسانی حقوق  کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کے بیان کا نوٹس لے لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انسانی حقوق کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کا پردہ کے فروغ اور شرم و حیا کے اسلامی اصولوں کے نفاذ سے متعلق بیان کی مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خانکے جنسی زیادتی کو فحاشی سے جوڑنے کی مذمت کرتے ہیں۔کمیشن نے کہا کہ وزیر اعظم کےاس تاثرکی بھی مذمت کرتےہیں کہ پردےسےجنسی زیادتی رک جائیگی۔کمیشن نے اعلامیے میں کہا کہ وزیراعظم کا بیان مجرموں کےبجائےجنسی زیادتی کے


متاثرین کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔جنسی زیادتی کے متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانا اُن کی آوازکو دبانا ہےٗانسانی حقوق کی کمیشن نے کہا کہ بیان سے وزیر اعظم نے جنسی زیادتی کا دفاع کرنے والوں کو شہہ دیایک عوامی لیڈر کا یہ رویہ ناقابلِ قبول ہےوزیر اعظم کےجنسی زیادتی سےمتعلق بیان پرحقوقِ نسواں سمیت وکلا تنظیموں نے بھی مذمتی ریمارکس دئیے ہیں اور کہا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم تیزی سے پھیل رہے ہیں اور جتنے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، ہم نے اس حوالہ سے سخت قانون سازی کی ہے لیکن جس طرح کرپشن صرف قانون بنانے سے ختم نہیں ہو گی اسی طرح جنسی جرائم کے خلاف بھی پورے معاشرے کو مل کرلڑنا ہو گا۔اتوار کو ایک شہری کے سوال پر وزیراعظم نے کہا تھا کہ جب معاشرے میں فحاشی بڑھ جائے تو اس کا اثر سامنے آتا ہے، اسلام نے اسی لئے پردے کا تصور دیا ہے، فحاشی بڑھنے سے خاندانی نظام متاثر ہوا ہے، یورپ میں طلاق کی شرح 70 فیصد ہو چکی ہے، بالی وڈ نےہالی وڈ کی پیروی کی جس کی وجہ سے دہلی کو ’’ریپ کیپٹل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسلام میں پردے کا تصور خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے ہے، موبائل فون کے ذریعے بچوں کی ہر طرح کے مواد تک رسائی ہے، ہمیں اپنے معاشرے کو مغربی اور بھارتی ڈراموں اور فلموں کے برےاثرات سے بچانا ہے، میں طیب اردوان کو کہہ کر ترکی کے ڈرامے پاکستان میں لے کر آیا ہوں، ہمارے فلمساز اور ڈرامہ نگار کہتے تھے کہ وہ جو کچھ دکھا رہے ہیں لوگ وہی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اب ترکی کے جو ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں وہ بہت مقبول ہیں۔ دوسری جانبپاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کے ریپ کے موضوع پر بیان کی شدید مذمت کرتے ہوے قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا عمران خان سے نہ معیشت چلتی ہے، نہ غریبوں کو روزگار ملتا ہے، مہنگائی ختمہوتی ہے نہ حکومت چلتی ہے، بس زبان ہے وہ بھی ٹھیک نہیں چلتی ہے ۔ ہمیشہ جہالت اور بداخلاقی کا پرچار کرتی ہے ۔ عمران صاحب معصوم بچوں کا فحاشی کی وجہ سے ریپ ہورہا ہے۔ یہ بیان دے کر عمران خان نے معصوم ریپ وکٹمز اور ان کے گھر والوں کا دل دکھایا ہے ۔عمران صاحب کے بیان پر ہر پڑھا لکھا اور باشعور فرد حیران، پریشان اور فکرمند ہے ،عمران خان کا بیان ان کی سوچ ، ناقص علمی اور دماغی خلل کا ثبوت ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوگیا کہ وہ اس معاملے میں بھی مکمل نابلد، عمومی جاہلانہ مردانہ سوچ کے مالک ہیں ۔انہوں نے کہا عمران خان نے سطحی ذہنیت پر مبنی بیان دیا ۔ انہوں نے کہا عمران آپ کے اوٹ پٹانگ اور کھوکھلے فلسفوں سے اس مجرمانہ ذہنیت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے جو صرف درندگی ہے ۔ انہوں نے کہا وزیراعظم کے منصب پر بیٹھے شخص کی اپنی سوچ اور علمیت کا یہ عالم ہو تو وہاں سماج کا جنگل بننا یقینی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

اللہ ہی رحم کرے

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎

مغل بادشاہ شاہ جہاں کے پاس ایک ترک غلام تھا‘ وہ بادشاہ کو پانی پلانے پر تعینات تھا‘ سارا دن پیالہ اور صراحی اٹھا کر تخت کے پاس کھڑا رہتا تھا‘ بادشاہ اس کی طرف دیکھتا تھا تو وہ فوراً پیالہ بھر کرپیش کر دیتا تھا‘ وہ برسوں سے یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور بڑی حد تک بادشاہ ....مزید پڑھئے‎