اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

بلوچستان میں (ن) لیگ کے منحرف اراکین اسمبلی پر انٹیلی جنس اداروں کے دباؤکا انکشاف

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے پارٹی کے منحرف اراکین نے مجھ سے بات کرنا گوارہ نہیں کی۔ منحرف اراکین نے کہا کہ ان پر دباؤ ہے۔ بلوچستان میں جو کچھ کیا گیا اس سے جمہوریت کو نقصان ہوگا، میں نے بلوچستان کے پارٹی اراکین کو فقید کالز کی تحقیقات کا کہا ہے۔ پنجاب میں چلنے والی تحریکوں سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، لوگوں کے جنازوں پر چلنے والی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

الیکشن قریب ہیں۔ سیاسی جماعتیں الیکشن پر توجہ دیں۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جو کچھ ہوا اسطرح کے حالات جمہوریت کیلئے اطمینان بخش نہیں۔ بلوچستان میں جو کچھ ہوا اسطرح کے حالات جمہوریت کیلئے اطمینان بخش نہیں۔ مسلم لیگ ن بلوچستان کے منحرف اراکین بات کرنا گوارہ نہیں سمجھی۔پوچھنے پر اراکین نے بتایا کہ ان پر دباؤ ہے جب پوچھا کس کا دباؤ ہے تو ہمیں انٹیلی جنس اداروں کا دباؤ بتایا گیا۔ ثناء اللہ زہری کو ہم نے استعفیٰ دینے کا نہیں کہا۔ انہوں نے استعفیٰ دینے میں عزت سمجھی۔ پارٹی فیصلہ کرے گی انہوں نے جو قوم اٹھایا وہ صحیح ہے کہ نہیں ثناء اللہ زہری کے استعفے پر ہماری رضا مندی نہیں تھی۔ بلوچستان اسمبلی کے باہر وزیر داخلہ سے کہا ایف سی کس کے حکم پر موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ بات اقتدار کی نہیں نظام کے چلنے کی ہے۔ حکومت اپنی موت پوری کرے اور عوام کو فیصلے کا موقع ملے۔ اس قسم کے اقدامات ہونگے تو قیاس آرائیاں ہونگیں۔ 30 سال میں 30 تماشے دیکھے ہیں۔ ایسے اقدام سے کیا بلوچستان کی سیاست میں بہتری آئے گی۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہمیشہ کھل کر سیاست کی ہے۔ میں وزیراعظم کی حیثیت سے 3 بار بلوچستان گیا، وہاں کسی نے ایسی بات نہیں کی۔جمہوریت عمل کو جب

دبانے کی کوشش کی گئی ملک کا نقصان ہوا۔ پرویز مشرف نے بلوچستان کے علاقوں کو بی کلاس میں تبدیل کردیاتھا۔ بلوچستان کے معاملات کا حل طریقہ کار کے ذریعے چاہتے ہیں۔ کوئی سازش کرنا چاہئے تو اس کا حل سپرے پاس نہیں ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جے یو آئی بلوچستان میں اپوزیشن میں ہے۔ جے یو آئی بلوچستان میں اپوزیشن میں ہے۔ جے یو آئی کو فاٹا کے معاملات اثر انداز ہونے نہیں دیا۔ فاٹا کے معاملے پر

اتفاق رائے چاہتے ہیں۔ ساڑھے 3 سال سے فاٹا پر کام ہو رہا ہے چند دن میں معاملے آگے بڑھے گا۔ جمہوری عمل کو جب دبانے کی کوشش کی گئی نقصان ہوا۔ ہمیں آل پارٹیز کانفرنس والوں سے کوئی پریشانی نہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس والے ملک میں انتشار پیدا نہ کریں۔ اپوزیشن کو الیکشن بروقت کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ الیکشن قریب ہے، حصہ لیں عوام کے پاس جائیں۔ دھرنے کی تاریخ لکھی جائے گی تو بڑے پردہ نشینوں کے نام آئینگے۔

فیض آباد دھرنے سے متعلق مشکل فیصلہ تھا۔اسکے حق میں نہیں تھا۔ انسانی زندگیوں کی وجہ سے مشکل فیصلہ لیا۔ دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق عدالتی فیصلے سب کے سامنے ہیں۔ ملک میں لوگوں کے جنازوں پر کھلی جانے والی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ نواز شریف سعودی عرب ذاتی طور پر گئے ان کا دورہ نجی تھا۔ ان کے دورے پر قیاس آرائیاں کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس قسم کی قیاس آرائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک ترقی کی طرف گامزن تھا مگر پاناما کیس کے فیصلے کے بعد ملک پیچھے کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…