اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں اپنی ناکامی پر مایوسی کا شکار ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر الزامات عائد کررہے ہیں، ٹرمپ کے نو مور کی کوئی حیثیت نہیں ہے، امریکہ نے پاکستان کے شہری علاقوں میں ڈرون حملے کی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا،امریکہ افغانستان میں فوجی طاقت کے بجائے طالبان کیساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق ٹوئٹ پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیساتھ تبادلہ خیال گیا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غلط بیانی سے کام لیا ہے ، ہم امریکہ کو ایک ایک پائی کا سرعام حساب دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کو بہت سے شعبوں میں سروسز فراہم کیں، پاکستان کے فوجی اڈے استعمال ہوتے رہے اور پاکستان سے نیٹو سامان کی ترسیل ہوتی رہی۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فراہم کی جانیوالی سروسز کے معاوضے کو بھی امداد میں شامل کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے پاکستان کے شہری علاقوں میں ڈرون حملے کی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کو پہلے ہی نو مور کہہ چکے ہیں، ہمارے بیان کے بعد ٹرمپ کے نومور کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں فوجی طاقت کے بجائے طالبان کیساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے۔ وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں اپنی ناکامی پر مایوسی کا شکار ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر الزامات عائد کررہے ہیں، ٹرمپ کے نو مور کی کوئی حیثیت نہیں ہے، امریکہ نے پاکستان کے شہری علاقوں میں ڈرون حملے کی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا،امریکہ افغانستان میں فوجی طاقت کے بجائے طالبان کیساتھ مذاکرات کا راستہ اپنائے۔



















































