پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی تعداد1کروڑ40لاکھ تک پہنچ گئی،قیام کی قانونی حیثیت ختم،فیصلہ وزیراعظم کے ہاتھ میں،چونکادینے والے انکشافات

datetime 1  جنوری‬‮  2018 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزارت مملکت برائے فرنٹیئرریجن (سیفران) نے افغان مہاجرین کی واپسی میں ایک سال کی توسیع کے حوالے سے سمری وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال کردی۔وزارت سیفران کے عہدیدار نے بتایا کہ سمری میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ افغان مہاجرین کو دسمبر 2018 تک ملک میں رہنے کی قانونی اجازت دی جائے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں مقیم 1 کروڑ 40 لاکھ افغان مہاجرین کے قیام کی قانونی حیثیت اتوار کو ختم ہو گئی تھی۔

سیفران کے ذمہ دارن نے بتایا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے آئندہ دو ہفتوں کے اندر کابینہ کی سفارش پر افغان پناہ گزینوں کو توسیع دینے کا قوی امکان ہے ٗخیال رہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام میں 5 مرتبہ توسیع دی جا چکی ہے۔حکومت نے افغان مہاجرین کی ملک میں قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ جاری کیے تھے تاکہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے انہیں ہراساں نہ کیا جا سکے، پی اور آر کارڈ کا اجرا اقوام متحدہ کے مہاجرین ایجنسی کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق یو این ایجنسی نے رضاکارانہ طور پر افغانستان جانے والے مہاجرین کو 200 ڈالر فی کس زرِتعاون دیا جبکہ 2016 میں یہ رقم 400 ڈالر فی کس تھی۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ برس 2017 میں رضا کارانہ واپسی پروگرام میں صرف 48 ہزار افغان مہاجرین شامل تھے جبکہ 2016 میں اپنے ملک جانے والے والوں کی تعداد 4 لاکھ پر مشتمل تھی۔افغانستان میں موسم سرما کی وجہ سے اکتوبر 2017 کو رضا کارانہ واپسی پروگرام کو معطل کردیا تھا اور کہا جارہا ہے کہ مارچ 2018 میں دوبارہ پروگرام کا آغاز ہوگا تاہم سال کے آخرتک بھی مہاجرین کی مکمل واپسی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ ذرائع کے مطابق افغانستان میں نازک سیکیورٹی صورتحال اور معاشی بحران کی وجہ سے حکومت رواں برس کے بعد بھی افغان مہاجرین کی ملک میں قیام کیلئے مزید دو بار توسیع دے سکتی ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن مہم میں گزشتہ چھ ماہ میں 6 لاکھ 70 ہزار کو رجسٹر کیا۔ذرائع کے مطابق ملک بھر میں نادرا کے 21 ذیلی دفاتر میں افغان رجسٹریشن سینٹر قائم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…