پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

کپاس کی مجموعی پیداوارملکی تاریخ کی کم ترین سطح پرآگئی

datetime 12  اپریل‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن ) فیڈرل کمیٹی آن ایگری کلچر (ایف سی اے) کی جا نب سے کپاس کی مجموعی پیداوار کا ہدف حاصل نہ ہونے کے باوجود سال2020-21 کے لیے پیداواری ہدف ایک بار پھرایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھ مقرر کردیا ہے۔ کاٹن جننگ فورم کے چیئرمین احسان الحق نے موجودہ حالات میں (ایف سی اے) کیمقررکردہ پیداواری

ہدف کو ناممکن قراردے دیا ہے۔ اس ہدف سے ٹیکسٹائل ملز کو اپنی سالانہ حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 8سال کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ہمیشہ ایک کروڑ گانٹھ سے کم رہی ہے، جب کہ رواں سال کپاس کی مجموعی قومی پیداوا ر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح 56 لاکھ 50 ہزار گانٹھ تک محدود رہی۔انہوں نے بتایا کہ ایف سی اے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر سال کپاس کا مجموعی پیداواری ہدف ایک کروڑ گانٹھوں سے زائد مقرر کر رہی ہے اور اس ہدف کو کبھی حاصل نہیں کیا گیا۔ اس غیر حقیقت پسندانہ پیداوری ہدف کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز اور برآمد کنندگان کو اندرون ملک روئی کی دست یابی اورغلط اندازوں کے خدشات کے پیش نظرعین موقع پر مہنگے داموں روئی درآمد کرنا پڑے گی۔چیئر مین ایف سی اے نے وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ فوری طور پر نئی کاٹن و ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کیا جائے تاکہ بہتر متوقع آمدنی کی صورت میں کپاس کی کاشت میں ریکارڈ اضافہ ہونے سے اربوں ڈالر مالیتی روئی اور خوردنی تیل کی درآمد کو کم سے کم کیا جاسکے۔انہوں نے بتایاکہ چین نے امریکہ سے جاری اقتصادی جنگ کے باوجود بھارت سے روئی خریدنے کی بجائے دوبارہ امریکہ سے روئی کی خریداری شروع کر

دی ہے جب کہ بھارت سے روئی کی درآمد کی اجازت نہ ملنے اور افغانستان اورروسی ریاستوں میں روئی کی عدم دستیابی کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی اور سوتی دھاگے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ پاکستان نے امریکہ سے روئی کی خریداری میں بھی اضافہ کر دیا ہے تاکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمدی معاہدوں کی بروقت تکمیل کی جا سکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…