اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

یورپ میں شدید گرمی کے باوجود لوگ گھروں میں اے سی کیوں نہیں لگا سکتے؟

datetime 30  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دنیا کے کئی حصوں میں گرمی سے بچنے کے لیے ایئرکنڈیشنر ایک عام ضرورت بن چکا ہے،

تاہم یورپ میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ اس سہولت سے محروم ہیں۔ اس کی وجہ صرف موسم نہیں بلکہ متعدد قانونی، معاشی اور ثقافتی عوامل بھی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورپ کے بیشتر تاریخی شہروں میں قدیم عمارتوں کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین نافذ ہیں۔ فرانس سمیت کئی ممالک میں تاریخی عمارتوں کی بیرونی ساخت میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کے باعث عمارتوں کے باہر اے سی یونٹ نصب کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ایک اور اہم رکاوٹ کرایہ داری کا نظام ہے۔ جرمنی، آسٹریا اور دیگر یورپی ممالک میں آبادی کا بڑا حصہ کرائے کے گھروں میں رہتا ہے۔ ایسے حالات میں کرایہ داروں کو ایئرکنڈیشنر لگانے کے لیے مالک مکان کی منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ عارضی رہائش کے باعث وہ اس پر بھاری اخراجات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔

بجلی کی بلند قیمتیں بھی یورپ میں اے سی کے محدود استعمال کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ شمالی امریکا کے مقابلے میں یورپی ممالک میں بجلی کافی مہنگی ہے، جس کے باعث ایئرکنڈیشنر چلانے کے اخراجات عام صارفین کے لیے خاصے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ یورپ میں روایتی طور پر ٹھنڈک حاصل کرنے کے دوسرے طریقوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ گھروں میں موٹے شٹر استعمال کرتے ہیں، دن کے اوقات میں کھڑکیاں بند رکھتے ہیں اور رات کے وقت ٹھنڈی ہوا کے لیے کھڑکیاں کھول دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ایئرکنڈیشنر کو ضروری سہولت نہیں سمجھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یورپ میں اے سی کی طلب طویل عرصے تک محدود رہی، اس لیے اسے نصب کرنے والے تربیت یافتہ ماہرین کی تعداد بھی کم ہے۔ نتیجتاً انسٹالیشن پر ہزاروں یورو خرچ آ سکتا ہے اور کئی مرتبہ مہینوں پہلے وقت لینا پڑتا ہے، جس سے یہ سہولت مزید مہنگی اور محدود ہو جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…