اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال مردوں میں مثانے کے کینسر کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہوسکتا ہے۔
فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ایسی غذائیں جنہیں تیاری کے دوران کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے اور جن میں نمک، چینی اور مختلف مصنوعی اجزا زیادہ جبکہ فائبر سمیت مفید غذائی اجزا کم ہوتے ہیں، صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
الٹرا پراسیس فوڈز میں عام طور پر ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈ، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، ناشتے کے سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات شامل کیے جاتے ہیں۔
ماضی کی کئی تحقیقات میں بھی ان غذاؤں کو موٹاپے، امراض قلب اور دیگر دائمی بیماریوں سے جوڑا جاچکا ہے، تاہم نئی تحقیق میں مردوں میں مثانے کے کینسر کے حوالے سے بھی ایک ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔
17 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا زیرِ تحقیق
محققین نے اس مطالعے کے لیے 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 17 ہزار سے زیادہ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ یہ معلومات 2003 سے 2023 کے دوران جمع کی گئی تھیں۔
تحقیق کے دوران شرکا کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا اور یہ معلوم کیا گیا کہ وہ روزانہ کتنی مقدار میں الٹرا پراسیس غذائیں استعمال کرتے ہیں۔ بعد ازاں شرکا کو ان کے استعمال کی مقدار کے لحاظ سے چار مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
نتائج میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والے مردوں میں مثانے کے کینسر کا خطرہ تقریباً 24 سے 34 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں بالغ افراد، خصوصاً مرد، الٹرا پراسیس فوڈز کا استعمال زیادہ کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں صحت سے متعلق مختلف خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق یہ نتائج ان شواہد میں مزید اضافہ کرتے ہیں جو الٹرا پراسیس غذاؤں کے ممکنہ مضر صحت اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس تعلق کی مزید تصدیق کے لیے اضافی تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال کو موٹاپے، میٹابولک بیماریوں، جسم میں سوزش، امراض قلب اور قبل از وقت موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔
اس نئی تحقیق کے نتائج American Journal of Medicine میں شائع کیے گئے ہیں۔



















































