پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

3 منٹ کی وہ ورزش جو 90 منٹ کی سائیکلنگ سے زیادہ فائدہ مند ہوسکتی ہے؛ تحقیق

datetime 14  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک نئی سائنسی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ورزش کے فوائد حاصل کرنے کے لیے روزانہ طویل وقت ورزش کرنا لازمی نہیں، بلکہ مختصر دورانیے کی انتہائی تیز جسمانی سرگرمی بھی جسم میں اہم حیاتیاتی ردِعمل پیدا کرسکتی ہے۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے شدید ورزش کے بعد خون میں موجود سیکڑوں پروٹینز کا جائزہ لیا۔ ان میں ہونے والی تبدیلیوں کا تعلق دل کی صحت، میٹابولزم، جسمانی چربی اور صحت کے دیگر اہم عوامل سے پایا گیا۔

مطالعے میں مختصر مگر زیادہ شدت والی سائیکلنگ اور معمول کی رفتار سے کی جانے والی ورزش کے اثرات کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے ایکسرسائز بائیک پر 30، 30 سیکنڈ کے تیز رفتار سائیکلنگ سیشنز کیے، جبکہ ہر وقفے کے درمیان تقریباً چار منٹ آرام کا وقت رکھا گیا۔

نتائج کے مطابق شدید ورزش کے بعد خون میں 714 پروٹینز کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جبکہ معمول کی رفتار سے سائیکل چلانے کے بعد صرف 7 پروٹینز میں واضح تبدیلی ریکارڈ ہوئی۔

ورزش کی شدت جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

محققین کے مطابق جسمانی سرگرمی کی شدت انسانی جسم میں پیدا ہونے والے حیاتیاتی ردِعمل پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ سخت ورزش کے دوران جسم میں مختلف کیمیائی سگنلز متحرک ہوتے ہیں، جن میں Lac-Phe نامی مالیکیول بھی شامل ہے۔

یہ مالیکیول ورزش کے بعد بھوک، توانائی کے استعمال اور جسم کے دیگر حیاتیاتی عوامل سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ورزش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے یہ سگنلز میٹابولزم اور چربی کے خلیوں کے افعال کو متاثر کرسکتے ہیں۔

تحقیق میں بعض پروٹینز میں ہونے والی تبدیلیوں کا تعلق ایسے حیاتیاتی نظاموں سے بھی پایا گیا جو دل کی بیماری، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے جیسے مسائل سے وابستہ ہیں۔

53 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ

مطالعے کے ایک حصے میں بڑے پیمانے پر انسانی ڈیٹا کا بھی تجزیہ کیا گیا، جس میں 53 ہزار سے زائد افراد کی معلومات شامل تھیں۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ شدید ورزش سے متاثر ہونے والے بعض پروٹینز صحت مند بڑھاپے، قلبی صحت اور میٹابولک بیماریوں کے خطرات سے تعلق رکھتے ہیں۔

تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ صرف چند منٹ کی ورزش ہر فرد کے لیے طویل دورانیے کی ورزش کا مکمل متبادل بن سکتی ہے۔ مختلف جسمانی سرگرمیاں صحت کے مختلف پہلوؤں پر اثر ڈالتی ہیں، جبکہ پٹھوں، دل اور پھیپھڑوں کی مضبوطی اور برداشت کے لیے معتدل شدت کی طویل ورزش بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تحقیق کا اہم پہلو یہ ہے کہ مصروف زندگی گزارنے والے افراد کے لیے جسمانی سرگرمی کو روزمرہ معمول میں شامل کرنے کے مختصر طریقے بھی مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ دفتر یا کاروباری مصروفیات کے باعث طویل ورزش کے لیے وقت نہ نکال پانے والے افراد مختصر دورانیے کی نسبتاً تیز ورزش کو اپنے معمول کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق ہائی انٹینسٹی ورزش ہر شخص کے لیے یکساں موزوں نہیں۔ خصوصاً جو افراد طویل عرصے سے ورزش نہیں کررہے یا کسی طبی مسئلے کا سامنا رکھتے ہیں، انہیں شدید ورزش شروع کرنے سے پہلے طبی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…