پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

پاکستانی زرعی مٹی تیزی سے اپنی تاثیر کھو رہی ہے، سروے رپورٹ میں خبر دار کر دیا گیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن) پاکستان میں زرعی مٹی کے لاتعداد نمونوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایک جانب تو زرعی زمین میں نامیاتی اجزا کم ہورہے ہیں تو دوسری جانب ان میں قدرتی اجزا مثلاً فاسفورس اور پوٹاشیئم سمیت کئی معدنی اجزا خوفناک حد تک کم ہوچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی زرعی پیداوار کوششوں کے باوجود بڑھ نہیں پارہی۔اس ضمن میں کئی برس تک بالخصوص صوبہ پنجاب کے کھیتوں سے

مٹی کے نمونے دیکھے گئے تو معلوم ہوا کہ مٹی میں نائٹروجن کی سطح 98 فیصد، فاسفورس کی 90 فیصد، پوٹاشیئم کی کمی 53 فیصد اور زنک کی کمی 70 فیصد تک نوٹ کی گئی ہے۔ اس طرح پورے ملک میں کئی ٹیوب ویل کا سروے کیا گیا اور معلوم ہوا کہ ان کی 66 فیصد تعداد سے لیا ہوا پانی خود زراعت کے لیے موزوں نہیں۔اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت کا محکمہ زراعت کو ایک سروے کے احکامات دیئے جسے ’سوئل سیریز سروے‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں مٹی کے ایسے نمونے دیکھے جاتے ہیں جو مرکزی مٹیریل سے حاصل کیے جاتے ہیں۔اس ضمن میں 1972ء￿  میں پنجاب کو 105 سیریز سروے میں تقسیم کرکے اس کا سروے کیا گیا تھا۔‎ اس کے بعد 2018ء میں ایک اور سروے کیا گیا اور اس بار سوئل سیرز 800 تک جاپہنچی۔ اس ضمن میں حکومتِ پنجاب کے محکمہ زراعت نے ایک تفصیلی ویب سائٹ بھی بنائی جو اگلے چند دنوں میں لانچ کی جائے گی۔ اس کا اہم مقصد صوبہ پنجاب کی زرعی زمین کا نامیاتی آڈٹ کیا جائے گا اور ہر کسان اور ماہرِ زراعت اس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکے گا۔پنجاب میں علاقائی درجہ بندی یا زوننگ اب 40 برس بعد کی گئی ہے اور اس کے بعد حیاتیاتی اہمیت والے علاقوں (ایکولوجیکل زون)  کی تعداد 8 سے بڑھ کر 13 ہوچکی ہے۔ ماہرین نے منڈی بہاء الدین اور ننکانہ کیعلاقوں میں کپاس کے علاقوں میں گنے کی

کاشت روکنے اور درمیانی علاقوں میں چاول کی کاشت محدود کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔مٹی کے ابتدائی نمونوں کو دیکھ کر معلوم ہوا ہے کہ سال 2000ء￿  میں پنجاب کی زرعی مٹی میں نامیاتی مواد کا تناسب 0.75 تھا جبکہ اب وہ گھٹ کر 0.60 پر جاپہنچا ہے۔ پیٹ منرل سوئل مکس ( پی ایم ایم) میں فاسفورس کی شرح 9.85 سے 8.6 پر اگئی ہے۔ مٹی میں پوٹاشیئم کی

اوسط مقدار 236 حصے فی 10 لاکھ سے 90 حصے فی 10 لاکھ تک آچکی ہے جو ایک نمایاں کمی ہے۔ماہرین کے مطابق مٹی میں نامیاتی مادوں کی مقدار کم ہونے سے ہی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوپارہا۔ ماہرین نے بتایا کہ کسانوں کی اکثریت زمین کی زرخیزی بڑھانے والی مصنوعی کھاد اور اجزا خریدنے سے قاصر ہے اور اسی بنا پر مٹی کی نامیاتی زرخیزی تیزی سے کم ہورہی ہے جو اب ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…