جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے تقریباً 5بلین روپے مختص کر دیے گئے

datetime 11  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے نئے وفاقی بجٹ 2023-24میں نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (NGIA) کی کل لاگت میں تقریباً 5بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ این جی آئی اے کی کل لاگت 55.4 ارب سے 60.208 ارب روپے جائیگی۔

گوادر پرو کے مطابق وزارت منصوبہ بندی پہلے ہی 02 جون کو اسلام آباد میں اعلیٰ اختیاراتی حکومتی فیصلہ ساز ادارے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ کمیٹی (CDWP) کے اجلاس میں 5 ارب روپے کی منظوری دے چکی ہے۔ حکومت نے اصل میں 2010 میں 7.5 بلین روپے کی لاگت سے منصوبے کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ 22.5 بلین روپے کی پہلی نظرثانی کی منظوری 2015 میں دی گئی تھی۔ دوسری نظر ثانی شدہ پی سی ون کے ساتھ دسمبر 2021 میں 51.298 بلین روپے کی لاگت سے ہوئی۔ 12 اکتوبر 2020 کو 55.4 بلین روپے کو گرین لائٹ کیا گیا۔

گوادر پرو کے مطابق این جی آئی اے گوادر کی سٹریٹجک اہمیت کو قائم کرنے، ہوا بازی کی سرگرمیوں میں متوقع اضافے کو پورا کرنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی حمایت میں اہم کردار ادا کرے گی۔ گوادر پرو کے مطابق نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (این جی آئی اے) منصوبے کے حوالے سے وزیر منصوبہ بندی نے گوادر کی مقامی آبادی کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ مزید برآں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر ایئرپورٹ منصوبے کے اہم اجزاء کی تکمیل کو ترجیح دینے اور اسے تیز کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…