بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ڈی ایس پی کے ہاتھوں اہلیہ اور بیٹی کا قتل پولیس افسران کیلیے نئی مشکل بن گیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ڈی ایس پی کے ہاتھوں مبینہ طور پر اہلیہ اور بیٹی کے قتل کا کیس پولیس حکام کے لیے ایک نئی آزمائش بن گیا ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق، واقعے کو تین دن گزر چکے ہیں لیکن پولیس اب تک ڈی ایس پی عثمان حیدر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اعلیٰ پولیس افسران تاحال اس بات پر فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ قائم کیا جائے یا نہیں۔پولیس اور پراسیکیوشن دونوں ہی گزشتہ تین دن میں کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

گزشتہ روز پولیس مدعی خاتون کو لے کر پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر بھی گئی، مگر دو سرکاری وکلا بھی قانونی رائے دینے میں فیصلہ نہیں کر سکے۔ابھی تک پولیس نے مدعیہ کی جانب سے دی گئی درخواستِ اندراجِ مقدمہ بھی وصول نہیں کی۔اطلاعات کے مطابق مقتول ماں اور بیٹی کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی تھی، جبکہ پولیس کے پاس اس وقت صرف ڈی ایس پی عثمان حیدر کا اعترافی بیان موجود ہے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی، اور پولیس نے ابھی تک لواحقین کے حوالے لاشیں بھی نہیں کیں۔مدعیہ نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ تین روز سے پولیس انہیں مختلف اعلیٰ افسران کے دفاتر کے چکر لگوا رہی ہے، مگر اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں دی جا رہیں کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر کے خلاف کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…