ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

قومی ائیر لائن کے دو اے ٹی آر طیاروں کے حادثات ایئرلائن انتظامیہ کی نااہلی قرار

datetime 16  اپریل‬‮  2023 |

لاہور(این این آئی) قومی ائیر لائن کے دو اے ٹی آر طیاروں کے حادثات کو ایئرلائن انتظامیہ کی نااہلی قرار دیدیا گیا،حادثات سے ایئرلائن کو 2796ملین سے زائد کا نقصان ہوا۔انتظامیہ کی نااہلی سے حادثات کا انکشاف آڈیٹر جنرل کی رپورٹ 2021-22 میں کیا گیا ہے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق

کراچی ائیر پورٹ پر 24نومبر 2018کو اے ٹی آر طیارہ حادثے سے 10.1398ملین جبکہ 20جولائی کو گلگت ائیر پورٹ پر طیارے حادثے سے 10.1398ملین سے زائد کا نقصان ہوا رپورٹ کے مطابق اے ٹی آر کے حادثات سے مجموعی طور پر ایئرلائن کو 2 ہزار 796 ملین سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی اے اے تحقیقاتی رپورٹ میں حادثات کی مختلف وجوہات بیان کی گئیں۔آڈیٹرز کے مطابق درکار مینٹی ننس کے متعلقہ آلات میں خرابی، ایئرلائن مینٹی ننس کریو میں پروفیشنلزم کی کمی درج کی گئی ہے۔رپورٹ میں ایس او پیز پر عملدرآمد میں ناکامی، فیصلہ کرنے کی خرابی اور فرسٹ افسر کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے کی گئی انکوائری میں پائلٹس کی غلطی پر مبنی جواب دیا گیا ہے جبکہ آڈیٹرز کا انکوائری رپورٹ شیئر کرنے، متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لینے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…