مریم نواز کے جیل‘ سیل اور واش روم میں کیمرے لگے تھے اور یہ کام عمران خان اور جنرل فیض دونوں نے کیا تھا‘ عمران خان خواجہ آصف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرنا چاہتا تھا‘ ایف آئی اے کے ڈی جی بشیر میمن نہیں مانے تو جنرل فیض نے انہیں نیب کے ذریعے گرفتار کرا کر جیل پھینکوا دیا‘ رانا ثناء اللہ پر 15 کلو ہیروئن ڈالنے کی ذمہ داری بھی ایف آئی اے اور پولیس کو دی گئی جب انہوں نے انکار کر دیا تو جنرل فیض نے یہ ذمہ داری قبول کی اور پھر ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک کے ذریعے رانا ثناء اللہ کو موٹروے پر گرفتار کر لیا گیا‘ یہ غیرقانونی حکم تھا‘ اس کی وجہ سے ڈی جی اے این ایف کا کیریئر ختم ہو گیا‘ شاہد خاقان عباسی کو بھی جھوٹے الزام میں جولائی 2019ء میں موٹروے سے گرفتار کیا گیا اور جیل میں فرش پر لٹایا گیا‘ پندرہ پندرہ دن ان کی وکیل سے ملاقات نہیں کرائی جاتی تھی اور عدالت میں ان کی پیشی نہیں ہوتی تھی‘ اس کے پیچھے دو لوگوں کا ہاتھ تھا اور پہلا ہاتھ جنرل فیض تھے‘ ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو پارک میں واک کرتے ہوئے گولی مروا دی گئی جب صحافیوں نے جنرل باجوہ کے سامنے اعتراض کیا تو جنرل فیض نے اسے ’’غیرنصابی سرگرمیوں‘‘ کے کھاتے میں ڈال دیا جب کہ اصل ایشو اس وقت شروع ہواتھا جب ابصار عالم چیئرمین پیمرا تھے اور انہیں جنرل فیض نے دو ٹیلی ویژن چینلز کو ’’فیور‘‘ دینے کا حکم دیا تھا اور ابصار عالم نے انکار کر دیا تھا‘ جنرل فیض کو ان کی ٹویٹس پر بھی اعتراض تھا (جاری ہے)۔





















































