بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

ڈی ایس پی عثمان حیدر کے ہاتھوں بیوی اور بیٹی کے قتل کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

datetime 15  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ڈی ایس پی عثمان حیدر کے ہاتھوں اہلیہ اور بیٹی کے قتل سے متعلق مزید تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن سے واقعے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ یہ دوہرا قتل جائیداد، خصوصاً پلاٹ کے تنازعے پر کیا گیا۔صحافی محمد عمیر کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے چند روز قبل اس کیس کی تحقیقات ایس پی ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر ایاز کے حوالے کی تھیں۔ ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن کی سربراہی میں قائم خصوصی ٹیم نے پیشہ ورانہ انداز میں کیس کو ٹریس کیا۔

تحقیقات سے پتا چلا کہ ملزم عثمان حیدر نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو اپنی ہی گاڑی میں فائرنگ کر کے قتل کیا۔ واقعے کے وقت اہلیہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر جبکہ بیٹی پچھلی نشست پر موجود تھی، اور واردات رنگ روڈ کے قریب پیش آئی۔ قتل کے بعد ملزم نے پہلے اہلیہ کی لاش کو دفنایا اور بعد ازاں بیٹی کی لاش کاہنہ کے علاقے میلہ رام میں چھپا دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 25 ستمبر کو پیش آیا تھا۔مزید بتایا گیا کہ دوہرے قتل کے بعد ملزم نے گاڑی کی صفائی کی اور شواہد مٹانے کی کوشش کی۔ دورانِ تفتیش اس نے بیان دیا کہ اس کی اہلیہ اور بیٹی پلاٹ خریدنے سمیت دیگر مطالبات کر رہی تھیں، جبکہ اس کے پاس موجود رقم پہلے ہی بہن بھائیوں کی شادیوں پر خرچ ہو چکی تھی۔

ان مطالبات پر شدید غصے میں آ کر اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ذرائع کے مطابق ملزم تقریباً دو ماہ تک پولیس کو گمراہ کرتا رہا اور خود ہی اہلیہ اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا۔ تاہم تفتیشی ٹیم نے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کر لی، جس سے خون کے نمونے اور دیگر اہم شواہد حاصل ہوئے۔ شواہد سامنے آنے پر ملزم زیادہ دیر تک انکار نہ کر سکا اور بالآخر اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…