جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

سارہ انعام کی موت سر پر چوٹ لگنے کے باعث ہوئی، پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر کے اہم انکشافات

datetime 19  جنوری‬‮  2023 |

اسلام آ باد (آئی این پی ) صحافی ایاز امیر کے بیٹے ملزم شاہنواز امیر کے ہاتھوں قتل ہونے والی سارہ انعام قتل کیس کی سماعت کے دوران پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ سارہ انعام کی موت سر پر چوٹ لگنے کے باعث ہوئی، مقتولہ کے ماتھے، چہرے، بازو، ہاتھ، کمر اور کان کے پاس متعدد زخم تھے۔اسلام آباد کی سیشن عدالت میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی۔

اسلام آباد کے سیشن جج عطا ربانی نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت میں مقتولہ سارہ انعام کا پوسٹمارٹم کرنے والی خاتون ڈاکٹر بشری نے عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے بتایا ہے کہ صحافی ایاز امیر کی مقتولہ بہو سارہ انعام کے سر پر متعدد فریکچر تھے۔ دورانِ سماعت پراسیکیوٹر رانا حسن عباس اور مدعی کے وکیل راو عبدالرحیم عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت میں طبی ماہر ڈاکٹر بشری نے بیان قلم بند کراتے ہوئے کہا کہ سارہ انعام کے ماتھے پر تقریبا 9 سینٹی میٹر جبکہ سر پر تقریبا 12 سینٹی میٹر کا زخم موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سارہ انعام کے ماتھے، چہرے، بازو، ہاتھ، کمر اور کان کے پاس متعدد زخم تھے، مقتولہ کے سر پر متعدد فریکچر تھے۔ ڈاکٹر بشری نے بیان میں بتایا کہ سارہ انعام کے پھیپھڑوں اور پیٹ میں زہر یا منشیات کا مواد نہیں پایا گیا، طبی رپورٹ کے مطابق سارہ انعام کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی۔ عدالت کو انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سارہ انعام کی موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان 12 سے 24 گھنٹے کا وقت تھا۔ سارہ انعام قتل کیس میں ڈاکٹر بشری اشرف کا بطور گواہ بیان قلم بند ہو گیا۔ عدالت میں مقتولہ سارہ انعام کے والد اور بھائی بھی موجود تھے، اس موقع پر مرکزی ملزم شاہنواز امیر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ سارہ انعام قتل کیس میں محرر جاوید نے بھی اپنا بیان قلم بند کرایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…