جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عوام کی جیب سے کھربوں روپے نکلوانے کا نیا طریقہ

datetime 8  ستمبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) عوام کو بجلی کے بل طے شدہ 31 کے بجائے 37 روز تک کی بنیاد پر بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔تحقیقات کے مطابق، 8 ماہ کے دوران ملتان، سکھر، کراچی، لاہور، حیدر آباد، گجرانوالہ اور فیصل آباد کے لاکھوں صارفین کو بجلی کے بل طے شدہ 31 روز کے بجائے 37 روز کی بنیاد پر کئی بار بھیجے گئے۔ ان 8 ماہ کے دوران 37 روز کے

دوران استعمال کی گئی بجلی کے سب سے زیادہ بل ملتان کی پاور کمپنی میپکو نے بھیجے۔31روز میں 300 یونٹ کا بل 3200 روپے بنتا ہے، لہٰذا اس طرح صرف ایک روز کے اضافے سے بلوں میں 600 روپے کا اضافہ ہوجا تا ہے۔خیال رہے کہ اس طرح بل زیادہ ریٹ والے سلیب کے لحاظ سے بنے گا اور صارف کو زیادہ رقم ادا کرنی پڑے گی۔تحقیق کے مطابق جنوری 2021 سے اب تک کے الیکٹرک، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی، گجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی نے اپنے صارفین کو مقررہ 31 یوم سے زائد دنوں کا بل ایک یا ایک سے زائد بار بھیجا،ان کمپنیوں میں سے بعض نے تو 35 سے 37 دن تک کے بل بھی صارفین کو بھیجے جوکہ نیپرا کے اس قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ 31 دن کی استعمال شدہ بجلی کا بل بھیج سکتی ہیں۔اس نئے اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ ایک طرف بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں عوام کی جیبوں پر کروڑوں روپے کا ڈاکہ ڈال رہی ہیں تو دوسری طرف حکومت اور ریگولیٹرز خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اس حوالے سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)، جس کی ذمہ داری شہریوں کو ناجائز بلنگ سے بچانا بھی ہے، کی اس معاملے پر ردعمل کافی سست دکھائی دیتا ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان انفرادی کیسز کی شنوائی کرے گی جو باضابطہ طور پر شکایت درج کرانے کے لیے پہلے سے موجود طریقہ کار کے تحت ان تک پہنچیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…