بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے پرسنل بیگیج گاڑی امپورٹ اسکیم ختم کر دی

datetime 15  دسمبر‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)حکومت نے بیرون ملک سے ذاتی استعمال کیلئے گاڑیاں منگوانے کی اسکیم باضابطہ طور پر ختم کردی۔ ساتھ ہی تحفے یا رہائش کی تبدیلی کی صورت میں گاڑیوں کی درآمد کی اسکیمز کے قواعد بھی مزید سخت کردیے۔سمندر پار پاکستانیوں کیلئے پرسنل بیگج اسکیم ختم کرنے کی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی۔ تاہم ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیمز کے تحت گاڑیاں اب بھی منگوائی جا سکتی ہیں مگر سخت شرائط لاگو ہوں گی۔نئی پالیسی کے مطابق دونوں اسکیمز کے تحت درآمد شدہ گاڑیوں پر کمرشل امپورٹ کے سیفٹی اور ماحولیاتی معیار لاگو ہوں گے۔ یعنی گاڑی لانے والے کو ثابت کرنا ہوگا کہ بھجوائی گئی گاڑی کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئی اور وہ ماحول دوست بھی ہے۔

یہ بھی ذہن میں رہے کہ جس کے نام پر گاڑی آئے گی وہ ایک سال تک ٹرانسفر نہیں کر سکے گا۔گاڑی بھجوانے والے شخص کی بیرون ملک قیام کی کم از کم مدت تین سال کر دی گئی جو پہلے دو سال تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک کے بعد دوسری گاڑی منگوانے کی سہولت دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی۔ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت گاڑی بھیجنے والے کیلئے لازم ہوگا کہ وہ خود بھی اسی ملک میں رہتا ہو، البتہ گفٹ اسکیم پر اس شرط کا اطلاق نہیں ہوگا۔وزارت خزانہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ملکی آٹوموٹیو امپورٹ پالیسی کو منظم اور شفاف بنانا ہے ۔ اس سے گاڑیوں کی درآمدی اسکیمز کے غلط استعمال کا سد باب بھی ہوگا۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ یہ حکومتی اقدام بظاہر بلیک مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کی مثبت کوشش ہے، کیونکہ ماضی میں ڈیلرز ان اسکیمز کو کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…